علحدہ تلنگانہ کا حصول کسی ایک شخصیت کا کارنامہ نہیں: کودنڈا رام

   

آر ٹی سی کے انضمام پر حکومت سے موقف واضح کرنے کا مطالبہ

حیدرآباد۔/3 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ جنا سمیتی کے سربراہ پروفیسر کودنڈا رام نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل محض کسی ایک فرد یا پارٹی کا کارنامہ نہیں بلکہ سماج کی متحدہ جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ پروفیسر کودنڈا رام نے حضورآباد میں جہد کاروں کے اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے حصول کیلئے سماج کے تمام طبقات کا اہم رول ہے صرف کسی ایک شخص کے سبب علحدہ ریاست حاصل نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے دس سالہ دور حکومت میں خود تلنگانہ کے عوام اجنبی محسوس کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پر تنقید اور نکتہ چینی کا کسی کو اختیار نہیں تھا۔ فون ٹیاپنگ کے ذریعہ اپوزیشن پر نظر رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کی اسکیمات سے عوام کو واقف کرانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام طبقات نے علحدہ ریاست کیلئے نہ صرف جدوجہد کی بلکہ قربانیاں پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق بی آر ایس دور حکومت میں جمہوری حقوق کو فراموش کردیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی کے حکومت میں انضمام کے مسئلہ پر ریونت ریڈی حکومت کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیئے۔ کودنڈا رام نے کہا کہ موجودہ حکومت مسائل کے حل کیلئے تیار ہے لہذا جدوجہد کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے 6 لاکھ کروڑ کے قرض کی ادائیگی کیلئے حکومت کو اپنی حکمت عملی طئے کرنی چاہیئے۔ کالیشورم پراجکٹ کیلئے بھاری قرض حاصل کیا گیا لیکن پراجکٹ سے 50 ہزار ایکر اراضی کو سیراب نہیں کیا جاسکا۔ سابق حکومت نے اضافی شرح پر برقی حاصل کرتے ہوئے صارفین پر بوجھ عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور آباد کو پی وی نرسمہا راؤ ضلع سے موسوم کئے جانے کیلئے وہ حکومت سے نمائندگی کریں گے۔ کودنڈا رام نے کہا کہ کونسل کی رکنیت انہیں جہد کار کی حیثیت سے حاصل ہوئی ہے۔1