اراضی ری سروے کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت ، متحدہ نظام آباد کے عہدیداروں کیساتھ اجلاس، سرینواس ریڈی کا خطاب
نظام آباد: 23؍ اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی وزیر برائے ریونیو و ہاؤسنگ پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے عہدیداروںکو ہدایت دی کہ عوامی مسائل بالخصوص اراضی سے متعلق معاملات کے مستقل حل کے لیے شروع کیے گئے ری سروے کے عمل کو تیز کیا جائے اور زیر التوا درخواستوں کا فوری ازالہ کیا جائے۔ مشترکہ نظام آباد ضلع کے دورے کے دوران انہوں نے مختلف ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھنے کے علاوہ نظام آباد میں اندراما مکانات کے استفادہ کنندگان سے ملاقات کی۔ بعد ازاں کلکٹریٹ میں نظام آباد اور کاماریڈی اضلاع کے ریونیو، ہاؤسنگ، اسٹامپس و رجسٹریشن اور سروے محکموں کے عہدیداروں کے ساتھ تفصیلی جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اس موقع پر وزیر نے بھو بھارتی ریونیو کانفرنسوں میں موصول درخواستوں کے تصفیے میں تاخیر پر تحصیلداروں سے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بلاوجہ دفاتر کے چکر لگوا کر پریشان کرنے والے کسی بھی عہدیدار کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور بار بار ہدایت کے باوجود کارکردگی میں بہتری نہ لانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ریاست میں زرعی اراضی کے ساتھ آبادی املاک کا ری سروے بھی آئندہ ڈیڑھ سال کے اندر مکمل کرنے کا ہدف رکھتی ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں ہر ضلع کے 70 دیہات میں ری سروے جاری ہے۔ انہوں نے کلکٹرس اور ریونیو عہدیداروں کو ہدایت دی کہ ری سروے والے دیہات کا باقاعدگی سے دورہ کرتے ہوئے مسائل موقع پر ہی حل کریں اور سرکاری، پٹہ اور اسائنڈ اراضی سمیت تمام تفصیلات جامع طور پر جمع کی جائیں۔ راجیو گاندھی آڈیٹوریم میں منعقدہ پروگرام میں نظام آباد اربن حلقہ کے 400 مستحقین میں ڈبل بیڈروم مکانات کے الاٹمنٹ لیٹر تقسیم کیے گئے، جبکہ مزید 300 مستحقین کو ایک ہفتہ تا دس دن میں مکانات فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ وزیر نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 4.50 لاکھ، دوسرے مرحلے میں 2.50 لاکھ اور حیدرآباد میں ایک لاکھ مکانات سمیت اب تک مجموعی طور پر 8 لاکھ مکانات منظور کیے جا چکے ہیں ۔پروگرام میں حکومتی مشیر پی سدرشن ریڈی، ایم ایل سی مہیش کمار گوڑ، ارکان اسمبلی دھن پال سوریہ نارائنا گپتا اور ڈاکٹر بھوپتی ریڈی، میئر اوما رانی، ہاؤسنگ ایم ڈی گوتم، کلکٹر بھاویش مشرا، ریاستی اردو اکیڈمی چیئرمین طاہر بن حمدان، نوڈا چیئرمین کیش وینو سمیت دیگر عہدیداران موجود تھے۔