غزہ سے متعلق ٹرمپ متبادل عرب منصوبے کے منتظر !

   

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ان کا ملک عرب ممالک کو ایک موقع دے گا تا کہ وہ غزہ کے حوالے سے کسی متبادل منصوبے تک پہنچ جائیں۔ اس سے قبل عرب ممالک نے تباہ حال غزہ کی پٹی سے مقامی آبادی کی جبری ہجرت اور پوری پٹی پر امریکی کنٹرول سے متعلق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔جمعرات کی شام امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں روبیو کا مزید کہنا تھا کہ اگر عرب ممالک کے پاس غزہ کے حوالے سے بہتر منصوبہ ہے تو یہ اچھی بات ہے۔روبیو کے مطابق امریکہ کے عرب شراکت دار آئندہ دو ہفتوں میں سعودی عرب میں اکٹھا ہوں گے اور پھر غزہ کے حوالے سے ایک منصوبہ لے کر واشنگٹن سے رابطہ کریں گے۔روبیو نے واضح کیا کہ وہ اس منصوبے کے بارے میں سعودی عرب، امارات اور عرب شراکت داروں کی بات سننے کیلئے خطے کا دورہ کریں گے۔اس سے قبل مصر یہ باور کرا چکا ہے کہ اس نے ایک متبادل منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس میں تقریبا 16 ماہ کی جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کی جبری ہجرت کے بغیر وہاں کی تعمیر نو شامل ہے۔با خبر ذرائع نے اس منصوبے کے بارے میں جو 5 برس تک محیط ہو گا، بعض تفصیلات العربیہ نیوز کو بتائیں۔ اس منصوبے کا آغاز غزہ کی پٹی کے اندر چھ ماہ کے عرصے میں محفوظ علاقوں کی تیاری سے ہو گا تا کہ ملبے کو اٹھانے کے بعد وہاں آبادی کو منتقل کیا جا سکے۔اس کے بعد اگلے 18 ماہ کے دوران میں ضروریات زندگی فراہم کی جائیں گی۔ ان میں بجلی ، پانی، قابل منتقل گھر اور رہائشی یونٹس شامل ہیںبعد ازاں غزہ کے بعض علاقوں سے ملبہ اٹھایا جائے گا اور وہاں موبائل ہاسپٹلس اور موبائل اسکولوں کو منتقل کیا جائے گا۔مصر غزہ منصوبوں کو عرب اور یورپی سپورٹ کے ساتھ کامیاب بنانے کیلئے 24 عالمی کمپنیوں اور 18 مشاورتی دفاتر کو لانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
توقع ہے کہ غزہ کی پٹی کو تین شعبوں میں تقسیم کیا جائے گا جہاں پہلے جنوب میں رفح سے ملبہ اٹھایا جائے گا اور پھر شمالی حصے میں پہنچنے تک یہ جاری رہے گا۔منصوبے کی تکنیکی اور حتمی تفصیلات ابھی زیر غور ہیں۔