فلسطینیوں کا قتل عام کرنے والے اسرائیل کو ہندوستان نے کی اسلحہ کی فراہمی

   

پربھات پٹنائک
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حال ہی میں ایک تحقیقاتی رپورٹ کی اشاعت عمل میں لائی جس کا عنوان ’’میڈ اِن انڈیا‘‘ تھا۔ اس رپورٹ میں ایمنسٹی نے بڑی تفصیل کے ساتھ یہ بتایا کہ کس طرح ہندوستان، اسرائیل کو اسلحہ و گولہ بارود سپلائی کررہا ہے اور وہ بھی ایک ایسے وقت جب اسرائیل غزہ میں نہتے فلسطینیوں کے قتل عام، ان کی نسلی تطہیر اور نسل کشی میں مصروف تھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بڑی احتیاط کے ساتھ رپورٹ تیار کی اور سویلین استعمال کیلئے اسرائیل روانہ کی گئیں تمام Shipments کو اس میں شامل نہیں۔ یہاں تک کہ اس نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں ان اسلحہ و گولہ بارود کی تفصیلات بھی شامل کرنے سے گریز کیا جس کے بارے میں امکانات ظاہر کئے جارہے تھے کہ انہیں میزائل شکن، دفاعی ٹیکنالوجی کے ایک حصہ کے طور پر استعمال کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو تابڑتوڑ حملوں سے بچایا جاسکا۔ باالفاظ دیگر رپورٹ کی تیاری میں بڑی احتیاط برتتے ہوئے خاص طور پر ہندوستان نے اسرائیل پہنچائی جانے والی اسلحہ کی کھیپ یا Shipments پر توجہ مرکوز کی جو اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف بڑی بیدردی سے استعمال کیا جائے گا۔ (اور اسرائیل نے ایسا ہی کیا۔ ان ہتھیاروں کو اس نے نہتے فلسطینیوں کے خلاف بڑی بیدردی سے استعمال کیا)۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق 7 اکٹوبر 2023ء اور 30 نومبر 2025ء کے درمیان ہندوستان نے اسرائیل کو کم از کم 2,596 شپ منٹس روانہ کئے جو چھوٹے اسلحہ و گولہ بارود سے لے کر فوجی گاڑیوں کے پرزوں پر مشتمل تھے یعنی یہ چیزیں ان پر لدی ہوئی تھیں۔ اسرائیل کو فراہم کئے گئے سامان میں دھماکہ خیز جنگی ساز و سامان (سامان حربی) کے 5,64,970 پرزے شامل تھے جن میں 155 ملی میٹر کے ہائی ایکسپلوسیو توپ خانہ کے گولے اور ڈرونس کے وارڈ ہیڈس بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 3,90,516 فوجی معیار کے چھوٹے ہتھیاروں کے پرزے اور 298 فوجی گاڑیوں کے پرزہ جات بھی فراہم کئے گئے۔ اس میں ذرا برابر بھی شک نہیں ہونا چاہئے کہ یہ ہتھیار اور گولہ بارود اسرائیل نے غزہ میں استعمال کئے درحقیقت غزہ کے نصیرت میں اقوام متحدہ کے زیرانتظام ایک اسکول سے Made in India کا لیبل لگے میزائل کے تکڑے ملے تھے۔ اس اسکول میں بے گھر فلسطینی پناہ لئے ہوئے تھے اور اسرائیلی حملے میں 33 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اسرائیل کو ایسے وقت میں ہتھیار فراہم کرکے جب وہ فلسطینیوں کی نسل کشی ان کی نسلی تطہیر میں مصروف ہے۔ ہندوستان بھی اس نسل کشی میں شریک جرم بن رہا ہے۔ اسپین اور کینیڈا جیسے کئی ترقی یافتہ ملکوں نے اسرائیل کو اس نوعیت کی فوجی امداد فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔ اسپین نے تو مئی 2024 میں کارتاخینا کی بندرگاہ میں Marianna Denica نامی ایک بحری جہاز کو داخلے کی اجازت دینے سے بھی انکار کردیا تھا۔ یہ جہاز جنوبی ہند کے شہر چینئی سے اسرائیل کیلئے 27 ٹن دھماکہ خیز مواد لے جارہا تھا۔ ہندوستان سے ہتھیار فراہم کرنے والوں میں صرف خانگی شعبے کی کمپنیاں ہی شامل نہیں ہیں بلکہ ان میں سب سے نمایاں اڈانی ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس بھی شامل ہے جس نے اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبے قائم کئے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی سرکاری ملکیت والی کمپنیاں بھی اسرائیلی کو ہتھیار فراہم کررہی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ہندوستان نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ پر کوئی باقاعدہ ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ وزارت خارجہ کے ایک ترجمان سے اس بارے میں اس وقت سوال کیا گیا جبکہ وہ کسی اور معاملے پر صحافیوں کو بریفنگ دے رہے تھے۔ اب یہ دعویٰ دو واضح وجوہات کی بناء پر مضحکہ خیز ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اگر یہ دعویٰ درست بھی ہو تب بھی اس سے ہندوستان غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کے قتل عام میں شریک ہونے کی اخلاقی ذمہ داری سے بری نہیں ہوجاتا۔ ویسے بھی اسپین اور کینیڈا جیسے ممالک نے صرف اس خوف کی وجہ سے اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی بند نہیں کی کہ ایسا کرنا غیرقانونی ہوگا لہذا جب معاملہ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی زندگیوں سے متعلق ہو تو قانونی حیثیت کسی ملک کے فیصلے کا واحد اور حتمی معیار نہیں ہوسکتی اور نہ کبھی رہی ہے۔ یہ نکتہ خاص طور پر ہندوستان کے معاملے میں اہم ہے کیونکہ حالیہ برسوں تک ہندوستان تیسری دنیا کے عوام کے خلاف انسانیت سوز مظالم اور جبر کے خلاف ایک روشن مثال سمجھا جاتا رہا ہے اور ہمیشہ ایسے اقدامات کی مخالفت میں پیش پیش رہا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ قانونی اعتبار سے بھی ہندوستان ، فلسطینیوں کے اس قتل عام کا ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے جو اسرائیل نے انجام دیا ہے اور وہ اب بھی فلسطینیوں کے قتل عام کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل کے اس عمل کو قانونی طور پر نسل کشی یا Genocide قرار دیا جاسکتا ہے اور نسل کشی کے کنونشن کے تحت اس کے کسی فریق ملک کی جانب سے نسل کشی میں مدد یا شراکت ایک قابل سزا عمل ہے۔ آپ کو بتادیں کہ نسل کشی کا کنونشن 9 ڈسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایک فیصلے کے ذریعہ وجوہات میں آیا۔ ہندوستان نے اس کنونشن پر 29 نومبر 1949ء کو دستخط کئے اور 27 اگست 1959ء کو باضابطہ طور پر اس کی توثیق کی۔ اس کنونشن کے تحت یہ نہ صرف نسل کشی میں مدد قابل سزا جرم ہے بلکہ اس کے رکن ممالک کو اس بات کیلئے پابند کیا گیا۔ وہ امن اور جنگ دونوں صورتوں میں نسل کشی کی کارروائیوں کا انسداد کریں اور سزا دیں۔ یقینا حکومت ہند اس پردے کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرے گی کہ غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کو ابھی تک قانونی طور پر نسل کشی قرار نہیں دیا گیا ہے تاہم یہ عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔ آپ کو یہ بھی یاد دلادیں کہ جنوبی آفریقہ نے 29 ڈسمبر 2023ء کو عالمی عدالت انصاف سے رجوع ہوکر درخواست کی تھی کہ غزہ میں اسرائیل کی ظالمانہ کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا جائے۔ اس وقت جنوبی آفریقہ کی وزیر خارجہ اور ان کے ارکان خاندان کو دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اور آن لائن ہراسانی بھی کی گئی تھی۔ بعد میں دیگر 20 ملکوں نے جن میں برازیل، اسپین اور میکسیکو بھی شامل ہیں، اس مقدمہ میں جنوبی آفریقہ کی حمایت کرتے ہوئے شامل ہوئے۔ اس کے برعکس صرف تین ملکوں امریکہ، ہنگری (نو فاشسٹ وکٹر اوربان کی قیادت میں اس کی مخالفت کی۔ بعد میں اوربان کو انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا) اور فیجی نے کھلے طور پر جنوبی آفریقہ کی مخالفت کی۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ عالمی عدالت انصاف نے اپنا قطعی فیصلہ صادر نہیں کیا کیونکہ اس قسم کے فیصلے سنانے میں برسوں لگ جاتے ہیں لیکن عدالت نے نسل کشی کو روکنے اور انسانی امداد فراہم کرنے کی اجازت دینے کیلئے قانونی طور پر پابند عارضی اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کیں۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ نصیرت میں واقع ایک اسکول میں پناہ لئے ہوئے 33 فلسطینیوں کے قتل عام میں اسرائیل نے ہندوستانی ہتھیار استعمال کئے جو عالمی عدالت انصاف کی عارضی ہدایات کی خلاف ورزی میں نسل کشی کا ایک عمل قرار پاتا ہے اور ہندوستان کو نسل کشی میں مدد کرنے کیلئے قانونی طور پر ذمہ دار بنا سکتا ہے۔ ایسے میں ہندوستانی حکومت کا موقف صرف اخلاقی اعتبار سے قابل مذمت ہی نہیں بلکہ قانونی جانچ پڑتال کے سامنے بھی نہیں ٹھہر پاتا۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے دو اداروں ایک تو اسرائیلی کارروائیوں کی تحقیقات کیلئے قائم کردہ خصوصی کمیٹی اور دوسری انٹرنیشنل کمیشن آف انکوائری نے بالترتیب نومبر 2024ء اور 16 ستمبر 2025ء کو پیش کردہ اپنی رپورٹس میں اس نتیجہ پر پہنچی کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی ان کی نسلی طہیر جیسے سنگین جرم کا ارتکاب کیا۔ خصوصی کمیٹی نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ اس نے نہتے فلسطینیوں کے خلاف جان بوجھ کر ’بھوک‘ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔