مائنمار کی ہیروں کی کان میں 50 افراد زندہ دفن

یانگون ۔ 23 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) شمالی مائنمار میں مٹی کا تودا گرنے کے سبب کم سے کم 50 افراد زندہ دفن ہوگئے۔ اس مقام پر اکثر افراد ہیرے تلاش کیا کرتے ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں اکثر افراد محوخواب تھے۔ مائنمار میں پرخطرہیروں کی کان کی رسوائے زمانہ صنعت کا یہ تازہ ترین ہلاکت خیز واقعہ ہے۔ ان کانوں میں ہیروں کی تلاش کے دوران ہر سال درجنوں افراد منہ کے موت سے چلے جاتے ہیں۔ چین کی سرحد سے متصلہ علاقہ میں واقع ہیروں کی تلاش کی صنعت بدترین بے قاعدگیوں اور رشوت ستانی سے متاثر ہے جہاں اس قسم کے مہلک حادثات عام اور آئے دن معمول سمجھے جاتے ہیں۔ مقامی پولیس نے پیر کو رات دیر گئے ریاست کاچن میں پیش آئے انتہائی تباہ کن قرار دیا اور کہاکہ اس مقام پر کیچڑ کی جھیل بن گئی تھی جو کانکنوں کو اپنی لپیٹ میں لے لی۔ اس المناک حادثہ میں 50 سے زائد کانکنوں کے علاوہ 40 گاڑیاں بھی ملبہ میں دفن ہوگئیں۔ ہواکانٹ ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے ایک ڈیوٹی آفیسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ 54 افراد لاپتہ ہیں تاحال صرف دو نعشیں نکالی جاسکی ہیں۔ وزارت اطلاعات نے اس حادثہ کی توثیق کی ہے۔ مائنمار کے ہیرے جواہرات کے ادارہ تھورا جیمس کے ڈائرکٹر ہلاشی آن نے فون پر اے ایف پی سے کہا کہ وہ مقام حادثہ پہنچ کر تفصیلات کا پتہ چلائیں گے۔ مقامی میڈیا اداروں نے کئی تصاویر جاری کئے ہیں جن کی اے ایف پی کی طرف سے توثیق نہیں ہوسکی ہے۔ نومبر 2015ء میں بھی مٹی کا تودہ گرنے کے ایک ایسے ہی حادثہ میں کم سے کم 100 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ عالمی ادارہ نے کہا ہیکہ مائنمار میں ہیرے کی کانوں پر چینی تاجروں کا کنٹرول ہے۔ مائنمار میں ہیروں کی کانکنی کی صنعت نے 2014ء میں 31 ارب امریکی ڈالر کا کاروبار کیا لیکن اس کا معمولی حصہ ہی سرکاری خزانہ تک پہنچتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT