چھوٹے بھائی آنند کمار کے خاندان سے صرف ایشان کو لیا جائے گا، پارٹی بانی کانشی رام کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ
لکھنؤ، 20 ستمبر (یو این آئی) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے خاندانی سیاست سے دور رہنے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے چھوٹے بھائی آنند کمار کے خاندان میں سے صرف ایشان آنند کو پارٹی میں باعزت ذمہ داری دے کر آگے بڑھایا جائے گا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ایشان نے بھی کوئی سنگین غلطی کی تو انہیں بھی پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔مایاوتی نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری ایک تفصیلی پیغام میں کہا کہ انہوں نے بہوجن سماج پارٹی کے بانی کانشی رام کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کانشی رام نے سیاست میں آنے کے بعد اپنے قریبی رشتہ داروں کو سیاسی فائدہ پہنچانے سے گریز کیا اور اپنی پوری زندگی بہوجن سماج کے مفاد اور فلاح کے لیے وقف کردی تھی۔انہوں نے کہا کہ وہ بھی اپنی پوری زندگی بہوجن سماج کے لیے وقف کرچکی ہیں۔ تاہم، ایک خاتون ہونے کی وجہ سے انہیں اپنے بھائی بہنوں میں سے کسی نہ کسی کو ساتھ رکھنا پڑا۔ اسی سلسلے میں انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی آنند کمار کو اپنی خدمت میں رکھا۔مایاوتی نے کہا کہ آنند کمار کے خصوصی اصرار پر ان کے بڑے بیٹے آکاش آنند کو سیاست میں لانا پڑا تھا، لیکن شادی کے بعد ان کے رویے میں تبدیلی آگئی۔ ان کے مطابق، آکاش کے رویے کی وجہ سے ہی کچھ دن پہلے انہیں پارٹی سے الگ کرنا پڑا۔بی ایس پی سربراہ نے الزام لگایا کہ آکاش آنند اپنے سسر اشوک سدھارتھ کے اثر میں آچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں آکاش کو دوبارہ پارٹی میں شامل کرنا بہوجن سماج اور پارٹی کے ساتھ غداری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی مخالف کوئی بھی قدم نہیں اٹھا سکتیں۔مایاوتی نے کہا کہ آنند کمار کے خاندان کے کسی رکن کو پارٹی میں آگے بڑھانے کے سلسلے میں ان کے ذہن میں کافی عرصے سے تذبذب تھا۔ تمام پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ خاندان کے ایسے کسی رکن کو آگے نہیں بڑھایا جائے گا جو آکاش آنند کے نقش قدم پر چلے ۔انہوں نے آنند کمار کی بیٹی کے بارے میں بھی کہا کہ مستقبل میں ان کی مدد لینے کے امکان پر غور کیا جاسکتا تھا، لیکن آکاش جیسی صورت حال پیدا ہونے کے خدشے کے پیش نظر انہوں نے آکاش اور ان کی بہن دونوں کو پارٹی کی کسی بھی ذمہ داری سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
نہوں نے واضح کیا کہ اس فیصلے میں اب کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔