مجتبیٰ خامنہ ای کی طویل خاموشی تشویشناک

   

تہران۔ 8 اگست (ایجنسیز) ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق نئی قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق فروری کے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ان کی طویل غیر حاضری نے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں، جب کہ سرکاری سطح پر بھی صورت حال واضح نہیں۔ ایران مخالف ویب سائٹ ایران وائر نے دعویٰ کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کئی ماہ سے کسی کابینہ رکن سے بالمشافہ ملاقات نہیں کی، تاہم کسی آزاد ذریعہ نے اس دعوے کی تصدیق بھی نہیں کی ہے۔ ایرانی حکومت بھی اس معاملہ پر خاموش ہے۔ رپورٹ میں صدر مسعود پزیشکیان کے ایک بیان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ موجودہ حالات میں سپریم لیڈر سے ملاقات اور رابطہ انتہائی مشکل ہے۔ دوسری جانب ان کی آخری ملاقات کو بھی کئی ماہ گزر چکے ہیں۔ ایران وائر نے پزیشکیان انتظامیہ سے قریب 2 نامعلوم ذرائع کے حوالے سے مزید دعوے کیے۔ ذرائع نے اعلیٰ حکومتی حلقوں میں سپریم لیڈر کی صحت پر تشویش کا ذکر کیا، تاہم یہ معلومات بھی آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوسکیں۔ یاد رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے مارچ میں سپریم لیڈر کا منصب سنبھالا تھا۔ اس کے بعد وہ کسی عوامی تقریب میں دکھائی نہیں دیے۔ مزید یہ کہ ان کی کوئی نئی ویڈیو یا آڈیو تقریر بھی سامنے نہیں آئی۔