نئی دہلی : مودی حکومت نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بجٹ کے فنڈز میں زبردست کمی ہے۔ تعلیمی سیشن 2021-22 کے لیے ان دونوں یونیورسٹیوں کے بجٹ میں گزشتہ سال کے مقابلے کٹوتی کی گئی ہے جب کہ وارانسی میں قائم بنارس ہندو یونیورسٹی کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت نے خود 18جولائی کو لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں یہ جانکاری دی تھی۔اس پراسدالدین اویسی نے کہا کہ مودی حکومت کہتی ہے سب کا ساتھ، سب کا وکاس۔ لیکن ان کی حکومت نے جان بوجھ کر مسلمانوں کی تعلیم کو نقصان پہنچایا ہے۔ اے ایم یو اور جامعہ کا بجٹ 15فیصد کم ہوا جبکہ بی ایچ یو کا بجٹ دوگنا ہو گیا۔ اے ایم یو اور جامعہ کو مسلسل اعلیٰ اداروں میں سے ایک کے طور پر درجہ دیا جاتا ہے۔ حکومت پڑھے لکھے مسلمانوں کو برداشت نہیں کر سکتی ہے۔لوک سبھا میں کیرالہ سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ٹی این پرتاپن کے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم سبھاش سرکار کے جواب سے تمام معلومات سامنے آئی ہیں۔ پرتاپن نے حکومت سے جے این یو، جامعہ، اے ایم یو، راجیو گاندھی یونیورسٹی ایٹا نگر اور بنارس ہندو یونیورسٹی کے لیے مختص بجٹ کے بارے میں معلومات مانگی تھی۔اس کے جواب میں وزارت تعلیم نے ایوان کو 2014-15سے 2021-22 تک ان یونیورسٹیوں کے لیے مختص بجٹ سے آگاہ کیا۔اس کے جواب میں وزارت تعلیم نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کو سال 2014-15 میں 264.48کروڑ روپے کا بجٹ دیا گیا تھا، جب کہ 2020-21 میں جامعہ کو 479.83کروڑ روپے کا بجٹ فراہم کیا گیا تھا۔ لیکن سال 2021-22 میں اس کے بجٹ میں تقریباً 68.73کروڑ روپے کی کٹوتی کی گئی تھی اور اس کا بجٹ گھٹ کر 411.10کروڑ کر دیا گیا تھا۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جامعہ کو صرف 105.95کروڑ کا بجٹ دیا گیا ہے۔اسی طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بجٹ پر میں بھی کمی کی گئی ہے۔ اے ایم یو کا بجٹ 2014-15 میں 673.98کروڑ تھا جو سال 2020-21 میں 1520کروڑ تک پہنچ گیا۔ لیکن سال 2021-22میں اس کا بجٹ 306کروڑ روپے کم کرکے 1,214.63کروڑ روپے کر دیا گیا۔تاہم لوک سبھا میں حکومت کی طرف سے دیئے گئے جواب کے مطابق، موجودہ سال کی پہلی سہ ماہی میں اے ایم یو کا بجٹ صرف 302.32کروڑ روپے تھا۔اسی طرح دیگر تین مرکزی یونیورسٹیوں کے بجٹ میں سالانہ سطح پر بڑی کٹوتیاں کی گئی ہیں۔ جیاین یوکابجٹ جو 2014-15 میں 336.91کروڑ روپے تھا، پچھلے سات سالوں میں اس میں صرف 70کروڑ کا اضافہ ہوا ہے۔ جے این یو کے لیے صرف 407.47کروڑ روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے۔لیکن بنارس ہندو یونیورسٹی کے بجٹ میں اچھا اضافہ ہوا ہے۔ بی ایچ یوکا بجٹ 2014-15میں 669.51کروڑ روپے سے 2021-22 میںتقریباً دوگنا کر کے 1303.01کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح راجیو گاندھی یونیورسٹی کا بجٹ بھی تقریباً 250فیصد بڑھا کر 2014-15میں 39.93کروڑ روپے سے بڑھا کر 2021-22 میں 102.79کروڑ روپے کر دیا گیا۔