پریاگ راج، 13 ستمبر( ایجنسیز )الہ آباد ہائیکورٹ نے شاملی کے ایک 31 سالہ شخص کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی ہے جس کے بارے میں الزام ہے کہ اسلام قبول کرنے اور ایک مسلم خاتون سے شادی کے بعد اسے مبینہ طور پر اس کے والد نے غیر قانونی حراست میں رکھا ہے۔جسٹس سندیپ جین نے یتر پردیش پولیس اور تاجر دیوراج سنگھ ملک کو ہدایت دی کہ وہ ان کے بیٹے آیوش کو 16 ستمبر کو عدالت کے روبرو پیش کریں۔ یہ حکم محمد کاری سلطان کی جانب سے دائر کردہ ہیبیئس کارپس( حبس بیجا)کی درخواست پر دیا گیا۔درخواست گزار جو سہارنپور کا رہنے والا اور آیوش کا دوست بتایا گیا ہے اس نے عدالت کو بتایا کہ آیوش نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور چندنی قریشی نامی مسلم خاتون سے شادی کی۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ اس پر کسی قسم کا دباؤ یا لالچ نہیں تھا۔درخواست گزار کے مطابق آیوش کے والد نے شادی کی مخالفت کرتے ہوئے چندنی اور ان کے رشتہ داروں کے خلاف 6 جون کو مبینہ طور پر ایک ایف آئی آر درج کرائی۔ ایف آئی آر میں اترپردیش کے غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب کی روک تھام سے متعلق قانون اور بی این ایس کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں جن میں دھوکہ دہی، جعلسازی، مجرمانہ سازش، مجرمانہ دھمکی اور جبری وصولی سے متعلق دفعات شامل ہیںتاہم آیوش کے والد دیوراج نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے بعض افراد ان کے بیٹے کو ان سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور عدالتی کارروائی بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ہائیکورٹ نے 9 ستمبر کے اپنے حکم میں کہا کہ غیر قانونی حراست اور ریاستی حکام کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔ عدالت نے اسی بنیاد پر آیوش کو 16 ستمبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔