مضبوط پنجاب کنگز اور کمزور لکھنؤ سوپر جائنٹس کا آج مقابلہ

   

ملّن پور، 18 اپریل (یو این آئی) پنجاب کنگز اور لکھنؤ سوپر جائنٹس کا جب اتوار کے روز آمنا سامنا ہوگا، تو شائقین کو صرف کرکٹ کا کھیل ہی نہیں بلکہ دو بالکل مختلف حالات والی ٹیموں کا ٹکراؤ دیکھنے کو ملے گا۔ ایک طرف وہ ٹیم ہے جس نے اپنی حکمت عملی میں واضح سمت پا لی ہے اور دوسری طرف وہ جو اب بھی اس کی تلاش میں ہے ۔پنجاب کنگز کا سیزن اب تک بے حد شاندار رہا ہے ۔ ٹیم کی کامیابی کی اہم وجوہات میں ٹاپ آرڈر کا اعتماد، مڈل آرڈر کی فہم، ٹیم کی گہرائی اور مؤثر باؤلنگ شامل ہیں۔ پربھسمرن سنگھ اپنی تیاری اور کردار پر مکمل بھروسے کے ساتھ پراعتماد بیٹنگ کر رہے ہیں، جبکہ پریانش آریہ پاور پلے میں جارحانہ انداز اختیار کر کے اننگز کو تیز رفتاری دیتے ہیں۔ مڈل آرڈر میں شریس ایر ہر بڑی اننگز کے محور بنے ہوئے ہیں اور کھیل کی رفتار کو سنبھالنے میں مہارت دکھا رہے ہیں، جنہیں کوپر کونلی کا اچھا ساتھ حاصل ہے ۔ ٹیم کی گہرائی میں مارکس اسٹوئنس، ششانک سنگھ اور مارکو یانسن جیسے آل راؤنڈرز لچک فراہم کرتے ہیں، جبکہ نہال وڈیرا مضبوط بینچ اسٹرینتھ کی علامت ہیں۔ باؤلنگ میں ارشدیپ سنگھ فارم میں واپسی کے بعد زیویئر بارٹلیٹ اور ویشاک وجے کمار کے ساتھ دباؤ برقرار رکھتے ہیں، جبکہ یوزویندر چہل مڈل اوورز میں اپنی خاموش مگر مؤثر گیند بازی سے اہم وکٹیں حاصل کرتے ہیں۔ دوسری جانب لکھنؤ سوپر جائنٹس کی صورتحال خاصی پیچیدہ دکھائی دیتی ہے ، جہاں ٹیم میں مچل مارش اور ایڈن مارکرم جیسے تجربہ کار کھلاڑی موجود ہونے کے باوجود کارکردگی میں مطلوبہ تسلسل نظر نہیں آ رہا۔ نکولس پورن، جو عموماً بے خوف بیٹنگ کے لیے جانے جاتے ہیں، اس وقت اپنے ارادوں اور ان پر عمل کے درمیان الجھے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ کپتان رشبھ پنت بھی ایک نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں، ان کی فارم میں اتار چڑھاؤ اور فٹنس سے متعلق سوالات موجود ہیں، تاہم وہ اب بھی ایسے کھلاڑی ہیں جو چند اوورز میں میچ کا رخ بدل سکتے ہیں، اس لیے لکھنؤ کے لیے ان کی بہتر کارکردگی اور واضح حکمت عملی نہایت اہم ہوگی۔ پنجاب کنگز اپنی مضبوطی کے بل بوتے پر آگے بڑھ رہی ہے ، جب کہ لکھنؤ کو جیت کی راہ ہموار کرنے کے لیے ٹیم کمبی نیشن اور حکمتِ عملی میں تبدیلی لانا ہوگی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مکل چودھری نے ٹیم کو کچھ استحکام فراہم کیا ہے ۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ٹی20 کرکٹ میں کارکردگی ہمیشہ کھلاڑی کے نام یا شہرت سے طے نہیں ہوتی۔ ایوش بدونی بیچ بیچ میں بھروسہ مند ثابت ہو رہے ہیں اور عبدالصمد اپنی زوردار بلے بازی سے ٹیم کو طاقت دیتے ہیں، حالانکہ شاید ابھی ان میں تسلسل کی کمی ہے ۔ گیند بازی کے محاذ پر بھی ٹیم کو حوصلہ افزا اشارے مل رہے ہیں، جہاں محمد شامی اپنے تجربے اور بہترین کنٹرول کے ساتھ حملے کی قیادت کر رہے ہیں، جبکہ آویش خان اپنی رفتار اور وکٹ لینے کی صلاحیت سے ٹیم کو تقویت دے رہے ہیں۔ پرنس یادو نے خاص طور پر اپنی پختگی سے متاثر کیا ہے ، خصوصاً آخری اوورز میں ان کی گیند بازی نمایاں رہی ہے ۔ یہ مقابلہ اب کافی حد تک واضح نظر آتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ پنجاب کنگز کی ٹیم اپنے کھیل کو بخوبی سمجھتی ہے ۔ اگر پنجاب کی ٹیم اسی طرح کھیلتی رہی، تو وہ نہ صرف میچ جیتیں گے بلکہ اپنی جیت کے تسلسل کو بھی مزید مستحکم کریں گے ۔ لیکن اگر لکھنؤ کی ٹیم، چاہے تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی، صحیح تال میل بٹھانے میں کامیاب ہو جاتی ہے ، تو ان کے پاس ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو پنجاب کے اس فاتحانہ سلسلے کو توڑ سکتے ہیں۔اب وقت ہی فیصلہ کرے گا کہ کون کامیاب ہوتا ہے ۔