کھانا فراہم کرنے جی ایس آر کا نعرہ لگانے پر زور ، اقلیت نشانہ پر ، اکثریت کو کھلی چھوٹ
حیدرآباد ۔ یکم ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : ملک بھر میں پھیل رہی نفرتوں نے جہاں ہر مسئلہ میں مذہب تلاش کرنا شروع کردیا ہے وہیں اب تو خواتین کی عصمت اور بھوک میں بھی مذہب کو تلاش کیا جارہا ہے ۔ دو دن قبل ممبئی میں پیش آئے کھانے کی تقسیم کے دوران جہاں خاتون کو کھانا حاصل کرنے کے لیے جئے شری رام کا نعرہ لگانے کے لیے کہا گیا وہیں تلنگانہ کے کئی مختلف مقامات پر خواتین اور لڑکیوں کی عصمت سے کھلواڑ ہورہا ہے ۔ وہاں بھی نفرت کو فروغ دینے والے خواتین کی عصمت سے کھلواڑ کرنے والوں کے مذہب کو دیکھ کر متاثرہ خواتین و لڑکیوں سے انصاف کے لیے احتجاج کیا جارہا ہے ۔ جینور واقعہ میں مبینہ طور پر قبائلی خاتون سے دست درازی کرنے والے کا نام مخدوم ہونے کی وجہ سے بی جے پی اور دیگر ہندو وادی تنظیموں نے جو ہنگامہ آرائی کی ہے وہ قابل مذمت ہے ۔ مساجد اور مسلمانوں کے تجارتی کاروبار کو بڑے پیمانے پر نقصان پہونچایا اور حملہ کرتے ہوئے کئی مسلمانوں کو زخمی کرتے ہوئے اس کو بہت بڑا سیاسی موضوع بنادیا گیا ۔ ریاست تلنگانہ کی نمائندگی کرنے والے دو مرکزی وزراء بی جے پی کے 8 ارکان پارلیمنٹ ، 8 ارکان اسمبلی نے نہ صرف اس مسئلہ کی مذمت بلکہ جینور میں بند منایا ۔ بڑے پیمانے پر احتجاجی ریالیاں منظم کی گئی ہاسپٹل پہونچکر متاثرہ خاتون سے ملاقات کی جب کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران عصمت ریزی کے کئی واقعات ریاست میں پیش آئے جس پر بی جے پی اور دیگر ہندوتوا تنظیموں نے کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی اس کی مذمت کی ہے کیوں کہ وہاں متاثرہ اور ملزمین دونوں کا اکثریتی طبقہ سے تعلق تھا اس لیے ان واقعات کو نظر انداز کردیا ہم صرف تین واقعات پر روشنی ڈالیں گے ۔ شہر حیدرآباد کے بہادر پورہ پولیس اسٹیشن میں ایک مندر کے پجاری پر ایک اکثریتی طبقہ کے خاتون اور ان کے ارکان خاندان نے دست درازی کرنے کا مقدمہ درج کیا ہے لیکن بی جے پی کے قائدین نے متاثرہ اکثریتی خاتون کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں کی اور نہ ہی خاطی کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کوئی احتجاج کروایا گیا اور نہ ہی پنڈت کے املاک کو نقصان پہونچایا گیا ۔ تین یا چار دن قبل حسن آباد ضلع سدی پیٹ میں دسویں جماعت میں زیر تعلیم ایک قبائلی لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی کی گئی ہے ۔ ملزمین کا تعلق اکثریتی طبقہ سے ہے تین نوجوانوں کے خلاف پولیس نے پوسکو کیس بک کیا ہے اور انہیں گرفتار کرتے ہوئے ریمانڈ کردیا گیا ۔ کل ضلع وقار آباد میں آٹھویں جماعت میں زیر تعلیم 13 سالہ لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی میں پولیس نے چار نابالغ لڑکوں کو حراست میں لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا ۔ اس کیس میں بھی ملزمین اور متاثرہ لڑکی کا اکثریتی طبقہ سے تعلق ہے ۔ اس پر بھی بی جے پی اور ہندوتوا تنظیمیں خاموش ہیں کوئی ہنگامہ آرائی نہیں کی اور اس لڑکی سے بھی انصاف کرنے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا جارہا ہے ۔ حال ہی میں سکندرآباد میں ایک مسلم نوجوان نے مبینہ طور پر مندر کو نقصان پہونچایا ہے جس کے بعد وہی دو مرکزی وزراء بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ ارکان اسمبلی اور دیگر ہندوتوا تنظیموں نے اس کی مذمت کی ۔ سکندرآباد کے علاوہ ریاست کے مختلف مقامات پر بند مناتے ہوئے مسلمانوں کے تجارتی کاروبار کو جزوی طور پر نقصان پہونچایا ۔ اس دوران گجویل کے علاوہ حیدرآباد کے دو مقامات پر مندر کو نقصان پہونچایا گیا ۔ اس واقعہ میں اکثریتی طبقہ کے افراد ملوث تھے اس لیے اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کی گئی ہے ۔ اس طرح بی جے پی اور دیگر ہندوتوا تنظیمیں ہر مسئلہ کو مذہبی عینک سے دیکھتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے تلنگانہ کے لا اینڈ آرڈر کو نقصان پہونچانے کی کوشش کررہی ہیں ۔۔ 2