مودی۔شاہ اور گیانیش کمار سے تین سوال

   

روش کمار
بنگلورو میں ووٹ چوری کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج نے ایوان اقتدار میں بیٹھے عناصر کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ ووٹ چوری کے مسئلہ پر سوشل میڈیا میں یوٹیوبر دُھرو راٹھی کی آندھی چلنے لگی ہے۔ انہوں نے بنگلورو میں ’’ووٹ چور ، گدی چھوڑ‘‘ کا نعرہ ایسے بلند کیا کہ اس کی گونج نہ صرف بنگلورو اور دہلی میں بلکہ سارے ہندوستان میں سنی گئی۔ احتجاجی مظاہرہ کو دھرو راٹھی نے Reel Format میں ریکارڈ کرکے انسٹاگرام پر پوسٹ کیا تو صرف 15 منٹ میں اس Reel کو 10 لاکھ سے بھی زیادہ ویوز ملے۔ حکومت کاکروجیس کو جنتر منتر پر جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے لیکن دھرو راٹھی نے سوشیل میڈیا کو جنتر منتر میں بدل دیا ہے۔ دھرو راٹھی ووٹ چوری کے مسئلہ پر اسٹیج پر اور میدان میں کود پڑے۔ بی جے پی اور مودی حکومت کے حامیوں کے خلاف دھرو راٹھی کے آنے سے ایک نئی طرح کی بے چینی پیدا ہوجائے گی، بحث چھڑ جائے گی۔ بنگلورو میں دھرو نے کہا کہ اپنے پیسے سے آیا ہوں، نہ ایلون مسک نے دیا ہے، نہ جارج سوروس نے اور نہ ہی حکومت بدلنے آیا ہوں۔ آیا ہوں کہ جو ووٹ کا حق لے لیا گیا ہے، چھینا گیا ہے، اس کے خلاف ڈٹ جاؤں۔ بنگلورو کے فریڈم پارک میں دھرو راٹھی کا ان کاکروچوں کے جوش کیلئے بڑی بات ہے۔ دھرو راٹھی نے بار بار کہا کہ کسی سیاسی جماعت کے اسٹیج پر نہیں آئے بلکہ لڑائی عام شہریوں کی ہے۔ ان کے ووٹ کے حق چھینے گئے ہیں۔ اس حق کو بچانا کیلئے آیا ہوں۔ دھرو راٹھی نے پرزور انداز میں کچھ یوں کہا ’’آپ تمام لوگ جو یہاں آئے ہو، آپ لوگوں سے بڑا محب وطن کوئی نہیں ہے اور جو لوگ غداری ہیں، وہ گیانیش کمار کو ابھی بھی بچا رہے ہیں۔ ان لوگوں سے بڑھ کر ملک دشمنی کوئی نہیں ہے۔ کئی اسمبلی حلقوں میں ووٹ چوری اور ایس آئی آر کے تحت کروڑوں لوگوں کے ووٹ کاٹنے کے خلاف اسی لڑائی میں دھرو راٹھی کی یہ آمد اس مسئلہ کو وہاں تک پہنچا دے گی، جہاں تک نہیں پہنچنے کی وجہ سے حکومت کو لگ رہا تھا کہ جواب دینا ضروری نہیں ہے۔ گودی میڈیا کہہ رہا تھا۔ عوام کے درمیان یہ مسئلہ نہیں ہے۔ سارے الزامات کے درمیان اس سوال کا جواب کہیں نظر نہیں آیا کہ اگر ایک رائے دہندہ کا نام بھی کٹا ہے، کروڑوں رائے دہندوں کے نام ویسے بھی حذف کئے جاچکے ہیں تو یہ بی جے پی کیلئے مسئلہ کیسے نہیں۔ ہر مذہب کے لوگوں کا ووٹ کٹا ہے۔ ایس آئی آر میں 13 کروڑ صرف مسلمان نہیں ہیں۔ مغربی بنگال میں 27 لاکھ لوگوں کو اسمبلی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس میں مسلمان بھی ہیں۔ ہندو بھی ہیں، دلت بھی ہیں، پسماندہ طبقات بھی ہیں۔ ان 27 لاکھ لوگوں کو ٹریبیونل کے حوالے کردیا گیا۔ اب کہا جارہا ہے کہ اس کا فیصلہ آنے میں کئی سال لگ جائیں گے۔ 27 لاکھ کی تعداد تو ایک بڑی تعداد ہے۔ کیا بی جے پی نے ان کی لڑائی لڑی، ان کیلئے کوئی دھرنا یا احتجاج کیا۔ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کا نام لے کر کوئی بھی اس سوال سے یا اس جواب دہی سے نہیں بچ سکتا۔ جیسے ہی اسٹیج پر ابھیجیت دیپکے، پرکاش راج، آشوتوش رانکا، سورو داس، رتنا سنگھ کے ساتھ دھرو راٹھی کو لوگوں نے دیکھا، ان کے نعروں میں جوش آگیا۔ دھرو نے بھی کاکروچوں کے ساتھ مل کر نعرے بلند کئے۔ جن میں ’انقلاب زندہ باد‘، ’ایس آئی آر رد کرو‘ ’گدی چھوڑو، گدی چھوڑو‘ جیسے نعرے تھے۔ ساتھ ہی بھگت سنگھ کے دیش میں تانا شاہی نہیں چلے گی، نہیں چلے گی، نیتاجی کے دیش میں من مانی نہیں چلے گی۔ نہیں چلے گی کے نعرے بھی لگائے گئے۔ کاکروچ مسلسل چونکا رہے ہیں۔ ان کی حکمت عملی پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دہلی میں تعیناتی ہوتی ہے اور خطاب 8 اکٹوبر کو بنگلورو سے ہی دے رہے ہیں۔ دھرو راٹھی کے اسٹیج پر آنے سے سوشیل میڈیا میں جو بحث چلنے والی ہے، ایسا لگتا ہے کہ دھرو راٹھی بھی اس کا جواب پہلے سے سوچ کر آئے تھے۔ دھرو نے کہا کہ وہ کسی سیاسی پارٹی کیلئے نہیں آئے اور یہ لڑائی کانگریس اور بی جے پی کی بھی نہیں ہے شہریوں کی ہے کیونکہ ان کے ووٹ چھینے گئے ہیں۔ دھرو راٹھی کے مطابق مجھے یقین نہیں ہورہا ہے کہ یہ میرا پہلا احتجاج ہے۔ پہلی مرتبہ میں بنگلورو میں آیا ہوں، آپ کا جوش و خروش دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا ہے۔ کل میں جب بنگلورو میں لینڈ کیا تو میں سوشیل میڈیا پر دیکھ رہا تھا کہ ہر جگہ بات چل رہی ہے۔ رائٹ ونگ والوں کی طرف سے بی جے پی والوں کی طرف سے کہ میں یہاں پر حکومت تبدیل کرانے آیا ہوں، حکومت بدلنے آیا ہوں تو اس کو لے کر میں وضاحت کرنا چاہوں گا کہ ایسا میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ میں حکومت اور اقتدار بدلنا نہیں چاہتا اور نہ ہی ایلون مسک نے اور جارج سوروس نے فنڈنگ کی ہے، خود کے پیسوں سے آیا ہوں۔ نریندر مودی سوچ رہے ہوں گے کہ اس شخص کو کیا تکلیف ہے۔ بھائی میں ان سے کہنا چاہوں گا کہ اصل میں پوری عوام کو تکلیف ہے۔ پورے ملک کو تکلیف ہے۔ میں خاص طور پر کہنا چاہوں گا کہ پہلے ہی سے آپ لوگ میری سپورٹ کرتے ہو لیکن میں بالخصوص بی جے پی کے حق میں ووٹ دینے والوں سے بھی کہنا چاہوں گا کہ چاہے آپ بی جے پی کو ووٹ دو چاہے کانگریس کو یا چاہے کسی بھی پارٹی کو سپورٹ کرتے ہو یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر شہری سے تعلق رکھتا ہے۔ ہر ہندوستانی شہری کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے خطاب کے دوران ’’ووٹ چورگدی چھوڑ‘‘ کا حاضرین کے ساتھ نعرے بلند کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو بی جے پی کے حامی ووٹرس ہیں، وہ اس بات کے قائل نہیں کہ ووٹ چوری ہورہے ہیں۔ دھرو راٹھی نے تین سوال سب کے سامنے رکھے۔ اس مسئلہ کو لے کر جب بحث ہوتی ہے تو بحث نعروں میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ مسئلہ غائب ہوجاتا ہے۔ عوام کو لگتا ہے کہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان کوئی معمول کی لڑائی چل رہی ہے۔ بی جے پی انتخابی دھاندلیوں کی تاریخ تلاش کرکے لارہی ہے۔ پرانی تصاویر منظر عام پر لارہی ہے لیکن ان تصویروں سے اس بات کا جواب نہیں مل رہا ہے کہ اس وقت آج کے ہندوستان میں سب کے سامنے کروڑوں لوگوں کا حق رائے دہی کیسے چھینا جاسکتا ہے، اس کا جواب کیا ہے۔ اگر پہلے غلط ہوا ہے تو اب کیوں غلط ہورہا ہے، کیا بڑی باتوں کو سامنے لاکر بی جے پی آج جو غلط ہورہا ہے، اسے درست قرار دینے کی کوشش کررہی ہے؟ اب جو ووٹ کے حق چھینے جارہے ہیں، کیا وہ پرانی تمام غلطیوں پر بھاری نہیں، وہ تمام بڑی غلطیوں سے بڑی غلطی نہیں۔ دھرو راٹھی نے اس بارے میں کچھ یوں کہا: تین ثبوت میں آپ کو دکھانا چاہوں گا، تین ایسی چیزیں جس کا گیانیش کمار جواب دے دیں، یا وزیراعظم مودی جواب دے دیں یا امیت شاہ جواب دے دیں۔ پہلا سوال مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل ایس آئی آر کے ہونے سے پہلے تقریباً 70 ہزار لوگ ایسے تھے جنہیں فہرست رائے دہندگان سے ہٹایا گیا۔ انتخابات میں وہ ووٹ استعمال نہیں کرپائے لیکن جیسے نتائج آئے، انہیں واپس فہرست رائے دہندگان میں شامل کرلیا گیا، سوچ سکتے ہیں کہ حقیقی رائے دہندے پہلے فہرست رائے دہندگان میں تھے، بعد میں فہرست رائے دہندگان میں تھے لیکن رائے دہی کے وقت فہرست رائے دہندگان میں نہیں تھے تو یہ جو بہانہ بنارہے ہیں کہ حقیقت میں یہ متوفی لوگ ہیں۔ درانداز ہیں، مجھے یہ بتادو کہ یہ لوگ (70 ہزار لوگ) ووٹنگ لسٹ میں واپس کیوں آگئے۔ صرف مغربی بنگال میں 70 ہزار سے زائد ایسے رائے دہندے ہیں۔ دوسرا بہار میں کیا ہوا، وہاں تقریباً 65 لاکھ لوگوں کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کئے گئے اور گیانیش کمار نے یہ کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں سمجھی کہ وہ لوگ کون تھے۔ ان کے نام کیا تھے اور وہ کہاں رہتے تھے۔ سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ ان ناموں کو منظر عام پر لاؤ تب تک گیانیش کمار نے انہیں لوگوں کی نظروں سے چھپائے رکھا تھا۔ الیکشن کمیشن کے عمل میں کوئی شفافیت نہیں ہے۔ صفر شفافیت اور صفر جوابدہی ہے۔ تیسرا ابھی کچھ دن کی خبر ہے اس کے بالکل متضاد یوپی میں ہوا۔ تقریباً 14 لاکھ رائے دہندوں کے نام فہرست رائے دہندوں میں شامل کئے گئے اور یہ پراسرار طور پر فہرست رائے دہندگان میں آگئے۔ اچانک سے جو لوگ فہرست رائے دہندگان میں آگئے، ان کے کیا نام تھے۔ یہ دوبارہ نہیں بتایا گیا، کیا ان سوالوں کے جواب مودی ۔ شاہ اور گیانیش کمار دے سکتے ہیں؟