چنڈی گڑھ۔ تقریباً پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والی گولی باری میں دو شارپ شوٹرز کو ہلاک کرنے کے ایک دن بعد جو مبینہ طور پر مشہور پنجابی گلوکار سدھو موسی والا کے سنسنی خیز قتل میں ملوث تھے، پنجاب پولیس کے ایک سینئر افسر نے جمعرات کو کہا کہ موقع سے ایک ٹوٹا ہوا موبائل فون اور ایک بیگ جس میں گولہ بارود، کپڑے اور کچھ فارما اوپیئڈز ضبط کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ جائے وقوعہ سے ان کی شناخت قائم کرنے کے لیے کوئی دستاویز برآمد نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ اب تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ شارپ شوٹر پاکستان میں داخل ہونے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ شوٹروں کو جیل میں قید گینگسٹر لارنس بشنوئی نے رکھا تھا، جو اہم سازشی تھا جس نے اعتراف کیا تھا کہ سدھو موسی والا کے قتل کی منصوبہ بندی گزشتہ سال اگست میں وکی مڈوکھیرا کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے کی گئی تھی۔شارپ شوٹرز من پریت منو اور جگدیپ روپا جنھیں جگو بھگوان پورییا گینگ کے ممبر مانے جاتے ہیں، جنہوں نے مبینہ طور پر بشنوئی کو سدھو موسی والا کے قتل کے لیے شارپ شوٹر فراہم کیے تھے، چہارشنبہ کو امرتسر ضلع میں ہندوستان-پاکستان سرحد کے قریب پنجاب پولیس کے ساتھ ایک تصادم میں مارے گئے۔