میری زباں کے واسطے تالے خرید لو

JNU students rejoice with music, posters, parades on the return of their President Kanhaiya Kumar to the campus after getting bail in the capital New Delhi on Thursday night. Later Kanhaiya addressed the gathering through a powerful speech. Express Photo by Tashi Tobgyal New Delhi 040216 *** Local Caption *** JNU students rejoice with music, posters, parades on the return of their President Kanhaiya Kumar to the campus after getting bail in the capital New Delhi on Thursday night. Later Kanhaiya addressed the gathering through a powerful speech. Express Photo by Tashi Tobgyal New Delhi 040216

مودی کی مخالفت … ملک سے غداری
لوک سبھا چناؤ … کانگریس کے بغیر اتحاد ادھورا

رشیدالدین
ہندوستان کا شمار دنیا کی عظیم جمہوریتوں میں ہوتا ہے لیکن کسے پتہ تھا کہ بی جے پی اقتدار میں فاشزم کا احیاء ہوگا۔ جمہوریت میں ہر شخص کو دستور اور قانون کے دائرہ میں اظہار خیال کی آزادی ہوتی ہے لیکن نریندر مودی حکومت نے مخالفین کا ملک کے غداروں میں شمار کیا جانے لگا۔ جمہوریت کی خوبی یہی ہے کہ اپوزیشن کی نکتہ چینی کا استقبال کیا جائے۔ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اپوزیشن کے بغیر جمہوریت کا تصور ادھورا ہے۔ گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں ڈکٹیٹرشپ اور آمریت کو جمہوریت کا نام دے دیا گیا ۔ حکومت اور حکمران وقت کی مخالفت پر غداری کا لیبل لگانا معمول بن چکا ہے۔ بی جے پی اور مودی کی مخالفت پر ملک سے نکال دینے کی دھمکیاں اور مقدمات ۔ قلمکار ، ادیب اور جہد کار نشانہ پر ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں میں زعفرانی بریگیڈ نے عدم رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جہد کاروں کو نشانہ بنایا۔ لوک سبھا انتخابات سے عین قبل جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق صدر کنہیا کمار اور ان کے ساتھیوں کے خلاف غداری مقدمہ میں چارج شیٹ داخل کی گئی۔ ان پر الزام ہے کہ 9 فروری 2016 ء کو یونیورسٹی کیمپس میں مخالف ہندوستان نعرے لگائے گئے۔ اسے محض اتفاق کہیں یا پھر منصوبہ بند کارروائی کہ وزیراعظم کے دورہ کیرالا سے ایک دن قبل دو سال پرانے مقدمہ کی چارج شیٹ داخل کی گئی ۔ کیرالا ملک کی واحد ریاست ہے جہاں بائیں بازو کا اقتدار ہے۔ ملک کی یہ واحد کمیونسٹ حکومت بی جے پی اور سنگھ پریوار کو کھٹک رہی ہے، لہذا بائیں بازو نظریات کے طلبہ قائدین کے خلاف چارج شیٹ کی ٹائمنگ چال سے خالی نہیں ہے۔ بی جے پی کیرالا میں قدم جمانے کیلئے آر ایس ایس کو متحرک کرچکی ہے ۔ سبری ملا مندر میں خواتین کے داخلہ کو آستھا سے جوڑ کر مذہب کی سیاست پر عمل پیرا ہے۔ سنگھ پریوار کو سپریم کورٹ کے احکامات کی کوئی پرواہ نہیں ۔ بائیں بازو جماعتوں اور ان کے نظریات رکھنے والوں کے حوصلے پست کرنے لوک سبھا انتخابات سے عین قبل طلبہ قائدین کے خلاف چارج شیٹ کی جمہوری نظریات کے حامل ہر شخص نے مذمت کی ہے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ نریندر مودی تاریخ کا مطالعہ کرتے۔ کمیونسٹ پارٹیوں اور ان کے قائدین کی تاریخ ، قربانیوں اور جیل کی سزاؤں سے بھری پڑی ہے۔ انگریزوں کے خلاف لڑائی ہو یا سرمایہ کاروں اور زمینداروں کے خلاف جدوجہد ، بائیں بازو نظریاتی قائدین کیلئے جیل گھر آنگن کی طرح ہے۔

مودی اور بی جے پی قائدین کو جن کی وراثت پر فخر ہے ، انہوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا۔ کیا اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانا ملک سے غداری ہے ؟ اگر کوئی غربت ، بیروزگاری، بیماری ، فرقہ پرستی ، چھوت چھات ، ذات پات ، بھوک مری ، تنگ نظری ، بدعنوانیوں ، کرپشن ، اسکامس اور عدم رواداری سے ’’آزادی‘‘ کا نعرہ لگائے تو کیا وہ ملک کا غدار ہوگیا ؟ محض اس لئے کہ اس کی زبان سے لفظ آزادی نکلا ، اس پر غداری کا مقدمہ درج کرنا مضحکہ خیز ہے۔ انگریزوں اور بی جے پی کے نظریات میں کس قدر مماثلت ہے۔ انگریزوں نے آزادی کے متوالوں کو گولیوں سے بھون دیا۔ تخت دار پر لٹکا دیا یا پھر جیلوں میں بند کردیا تھا اور آج بی جے پی حکومت کو لفظ آزادی سے اسی قدر نفرت ہے ۔ جے این یو طلبہ نے وضاحت کردی کہ وہ کس سے آزادی چاہتے ہیں۔ اگر لفظ آزادی کا استعمال ملک سے غداری ہے تو پھر بی جے پی کا ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ کے نعرے کو کیا کہیں گے۔ ہندی لفظ ’’مکت‘‘ کے دوسرے معنی آزادی اور نجات کے ہیں۔ جب دستور اور قانون نے کسی پارٹی کو تسلیم کرلیا اور جس پارٹی نے ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے میں اہم رول ادا کیا ، اس سے آزادی کی بات کرنا وطن پرستی ہے یا غداری ؟ اس کا فیصلہ ہم بی جے پی قائدین پر چھوڑتے ہیں۔ بی جے پی کو اگر لفظ آزادی سے اس قدر نفرت ہے تو اس لفظ کے استعمال پر پابندی اور ڈکشنری سے اس لفظ کو ہٹانے کی کوشش کرنی چاہئے جوکہ ممکن نہیں ہے۔ بی جے پی اور اس کے قائدین کو لفظ آزادی کو سننا ہی پڑے گا اور آئندہ لوک سبھا انتخابات میں ہوسکتا ہے کہ یہ لفظ بی جے پی کا تعاقب کرے گا اور ہوسکتا ہے کہ ملک کو بی جے پی حکومت سے ’’آزادی‘‘ مل جائے۔ انگریزوں کے دور کے سیاہ قانون کو من و عن اختیار کرتے ہوئے سیاسی مخالفین کو کمزور کرنے کی سازش کی گئی ہے ۔

مودی حکومت اور بی جے پی کو جے این او طلبہ تنظیم اور اس کے قائدین سے خوف اس لئے بھی ہے کہ اگر وہ لوک سبھا کی انتخابی مہم میں شامل ہوجائیں تو پھر صورتحال بدل جائے گی۔ سیاسی حریفوں کا صفایا کرنے کیلئے مقدمات کا سہارا لینا سیاسی جماعتوںکا پرانا حربہ ہے جو اب چلنے والا نہیں۔ نریندر مودی انتقامی جذبہ کے تحت مخالفین کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں، چاہے مخالف سیاستداں ہوں یا بیورو کریٹس، قلم کار ہوں یا اسٹوڈنٹ لیڈرس۔ مودی 56 انچ کا سینہ رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن دل بہت چھوٹا ہے ۔
لوک سبھا انتخابات کا بگل ابھی بجنا باقی ہے لیکن ملک میں انتخابی ماحول گرم ہوچکا ہے۔ نریندر مودی نے ریاستوں میں پارٹی کی مہم کا عملاً آغاز کردیا ہے۔ مودی کی تقاریر سے صاف جھلک رہا ہے کہ وہ تین ریاستوں میں اقتدار کی محرومی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ نریندر مودی کے گزشتہ ساڑھے چار سال میں کوئی کارنامے تو نہیں ہیں لہذا وہ خوش کن اسکیمات کے ذریعہ عوامی تائید حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں اعلیٰ طبقات کو فراہم کردہ 10 فیصد تحفظات کی بڑے پیمانہ پر تشہیر کی جارہی ہے ۔ توقع ہے کہ اس طرح کے مزید اعلانات مرکزی بجٹ میں کئے جائیں گے۔ بی جے پی کو اپنے حلیفوں کو بچانے کی فکر لاحق ہے تو دوسری طرف کانگریس نے سیکولر جماعتوں پر مشتمل محاذ کی تیاریوں کو تیز کردیا ہے۔ ایسے میں اترپردیش میں ایس پی اور بی ایس پی نے کانگریس کے بغیر انتخابی اتحاد کا اعلان کردیا ۔ یو پی میں لوک سبھا کی 80 میں 72 نشستوں پر بی جے پی کا قبضہ ہے اور یہ سیکولر ووٹ کی تقسیم کے سبب ممکن ہوسکا۔ اگر آئندہ لوک سبھا انتخابات میں دوبارہ سیکولر ووٹ تقسیم ہوں گے تو ظاہر ہے کہ راست فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ کانگریس کے بغیر کوئی اتحاد مکمل نہیں ہوگا۔ حالیہ تین ریاستوں کی کامیابی کے بعد کانگریس کا موقف کافی مستحکم ہے۔ کانگریس کو ملک میں اقتدار کا وسیع تجربہ ہے اور گاندھی خاندان نے ملک کو تین وزیراعظم دیئے ۔ ملک کیلئے کانگریس کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اندرا گاندھی نے ہندوستان کو نیوکلیئر طاقت بنانے کا کارنامہ انجام دیا۔ موجودہ حالات میں اگر عوام راہول گاندھی سے امیدیں وابستہ کر رہے ہیں تو دوسری سیکولر جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ ان کا ساتھ دیں۔ بی جے پی یہی چاہے گی کہ کسی طرح سیکولر جماعتوں کا اتحاد حقیقت میں تبدیل نہ ہو ۔ اترپردیش میں کانگریس نے تمام 80 نشستوں پر مقابلہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے جلد بازی کی ہے۔ اسے چاہئے کہ ایس پی اور بی ایس پی سے بات چیت جاری رکھے اور انہیں ووٹ کی تقسیم کے خطرات سے آگاہ کیا جائے۔ سیکولر ووٹ تقسیم کرنے کیلئے پہلے ہی فیڈرل فرنٹ کا نیا شوشہ چھوڑ دیا گیا ہے اور کے سی آر اس سلسلہ میں علاقائی جماعتوں کو راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملک کو اگر فرقہ پرستی سے نجات دلانا ہے تو باہمی اختلافات فراموش کرتے ہوئے سیکولر طاقتوں کو متحد ہونا پڑے گا۔ اگر 2019 ء میں مودی کو شکست نہیں دی گئی تو پھر ہندوتوا ایجنڈہ اور ہندو راشٹر کا منصوبہ شدت کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے ۔ مخالفین کے خلاف حکومت کی کارروائیوں پر یہ شعر صادق آتا ہے ؎
مجھ سے نہ ہوسکے گا حاکم کا احترام
میری زباں کے واسطے تالے خرید لو

TOPPOPULARRECENT