میٹرو ریل دوسرے مرحلہ کیلئے 24 ہزار 269 کروڑ روپئے کی منظوری

   

جی او جاری ، ایرپورٹ تا فیوچرسٹی راہداری کے کاموں میں تیزی
حیدرآباد۔2۔نومبر۔(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے حیدرآباد میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کی تکمیل کے لئے 24ہزار 269کروڑ کے بجٹ کی انتظامی منظوری دیتے ہوئے جی او جاری کردیا ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے دی جانے والی اس منظوری کے بعد حیدرآباد میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کے پہلے حصہ میں شامل 5 راہداریوں کے علاوہ دوسرے حصہ میں موجود شمس آباد ائیر پورٹ تا فیوچر سٹی راہدار ی پر کاموں کو تیز کیا جائے گا۔ حکومت تلنگانہ کے محکمہ بلدی نظم ونسق کی جانب سے جاری کردہ جی او ایم ایس 196 میں حکومت تلنگانہ کی جانب سے پارٹ ’اے‘ میں شامل دوسرے مرحلہ کی 5راہداریاں جو کہ 76.4 کیلو میٹر پر محیط ہیں ان کے علاوہ پارٹ ’بی‘ میں موجود ایک راہداری جو 40کیلو میٹر پر محیط ہے جملہ 116.4 کیلو میٹر کی راہداری کے لئے بجٹ کو منظوری دی جاچکی ہے۔ حیدرآباد میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ میں ناگول تا راجیو گاندھی انٹرنیشنل ائیر پورٹ راہداری جو کہ 36.8 کیلو میٹر پر محیط ہے اسے میٹرو کی چوتھی راہداری قرار دیا گیا ہے جبکہ رائے درگ تا کوکا پیٹ راہداری کو 5ویں راہداری جو کہ 11.6 کیلو میٹر پر محیط ہے۔ چھٹویں راہداری پرانے شہر کی ہے جو کہ مہاتما گاندھی بس اسٹیشن سے چندرائن گٹہ چوراہے تک ہوگی اور یہ 7.5 کیلو میٹر پر محیط راہداری ہوگی۔ ساتویں راہداری میاں پور سے پٹن چیروو تک ہوگی جوکہ 13.4 کیلو میٹر پر محیط ہے۔ اسی طرح آٹھویں راہداری ایل بی نگر تا حیات نگر ہوگی جو7.1کیلو میٹر پر محیط ہوگی۔پارٹ ’بی ‘ میں نویں راہداری جو کہ راجیوگاندھی انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے اسکل یونیورسٹی فورتھ سٹی تک ہوگی جو کہ 40کیلو میٹر پر محیط ہوگی۔ حکومت نے جی او میں جاری کی گئی تفصیلات میں کہا ہے کہ ریاستی حکومت اس پراجکٹ کو مرکزی حکومت کی 50 فیصد شراکت داری کے ساتھ مکمل کرے گی اور اس کے لئے تخمینہ اندازی کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے 24ہزار 269کروڑ کے بجٹ کی انتظامی منظوری عمل میں لائی گئی ہے۔حکومت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت کے ساتھ اشتراک میں شروع کئے جانے والے اس پراجکٹ میں خانگی عوامی شراکت داری بھی ہوگی اور جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی ‘ ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے علاوہ نیو ڈیولپمنٹ بینک کے ذریعہ 11ہزار 693 کروڑ جو کہ مجموعی پراجکٹ کا 48 فیصد ہوگا حاصل کئے جائیں گے اور خانگی عوامی شراکت داری کے ذریعہ 1033 کروڑ یعنی پراجکٹ کا 4 فیصد حاصل کیا جائے گا۔ اسی طرح مرکزی حکومت کا حصہ 18 فیصد یعنی 4230 کروڑ ہوگا اور حکومت تلنگانہ 7313 کروڑ اپنے 30 فیصد حصہ کے طور پر ادا کرے گی۔ محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کے لئے انتظامی منظوری فراہم کئے جانے کے بعد کہا جار ہاہے کہ اس پراجکٹ کی عاجلانہ تکمیل کے اقدامات کا فوری طور پر آغاز کردیا جائے گا اور جلد ہی دوسرے مرحلہ کی ابتدائی 5راہداریوں پر کاموں کا آغاز ہوگا جبکہ پارٹ ’بی‘ میں شامل راہداری کے سلسلہ میں ابھی روٹ کو قطعیت دینے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت تلنگانہ کی جانب سے میٹرو ریل کے کاموں کے لئے بجٹ کو انتظامی منظوری دیئے جانے کے بعد جلد ہی مرکزی حکومت کا بھی حصہ حاصل ہونے کی توقع ہے ۔3