صحافت کو ہندوستان میں جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے ۔ ہندوستان کی صحافت نے ہمیشہ سے ایک مستحکم اور سرگرم رول ادا کرتے ہوئے جمہوریت کے دفاع اور اس کے تحفظ میں اہم رول ادا کیا تھا ۔ میڈیا یا صحافت کوا یک ذمہ دار اور باوقار پیشہ سمجھا گیا ہے اور میڈیا سے وابستہ افراد نے بھی اس وقار کو ہمیشہ برقرار رکھنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے ۔ صحافیوں اور صحافت نے ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں بھی نمایاں رول ادا کیا اور انگریزوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے میں سب سے آگے رہی تھی ۔ حالیہ عرصہ میں تاہم صحافت کا معیار اور وقار دونوں ہی متاثر کرکے رکھ دئے گئے تھے ۔ میڈیا چینلوں اور صحافت کو حکومت کے پبلسٹی سیل اور آئی ٹی شعبہ میں تبدیل کرتے ہوئے اپوزیشن اور عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش پوری شدت سے کی جا رہی تھی ۔ اب صحافی نہیں بلکہ اینکرس رہ گئے تھے اور وہ بھی حکومت کے تلوے چاٹنے ہی کو اپنی ذمہ داری سمجھ رہے تھے ۔ ایسے میں ایک انگریزی روزنامہ سے وابستہ خاتون صحافی نے ملک میں الیکشن کمیشن میں جاری رسہ کشی اور من مانی کا پردہ فاش کرتے ہوئے حقائق کو ملک کے عوام کے سامنے پیش کردیا ۔ اب بتدریج یہ واضح ہو رہا ہے کہ کس طرح سے حکومت ووٹ چوری کے عمل کو منظم طریقے سے آگے بڑھا رہی تھی اور ووٹ چوری کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے سے گریز نہیں کیا جا رہا تھا ۔ اس ووٹ چوری سے عوام کی توجہ ہٹائے رکھنے کیلئے نت نئے ہتھکنڈے اختیار کئے جارہے تھے ۔ ایک باضابطہ آئی ٹی سیل چلاتے ہوے اس پر کروڑہا روپئے خرچ کئے جا رہے تھے تاکہ سماج میں مذہبی منافرت کو عروج ملتا رہے اور عوام اپنے حقوق کی جانب متوجہ ہونے نہ پائیں۔ تاہم اب ایک ایسی حقیقت ملک کے سامنے آئی ہے جس نے سارے عوام کو ایک طرح سے برہم کردیا ہے اور یہ سوال پیدا ہو رہے ہیں کہ آیا مرکز میں موجود حکومت اور ملک کی مختلف ریاستوں کی حکومتیں واقعی عوام کے ووٹ سے منتخب ہوئی بھی ہیں یا نہیں ۔عوام کے ذہنوں میں یہ سوال ضرور پیدا ہوا ہے ۔
ہمارے ملک میں عوام کو بے تحاشہ مسائل کا سامنا ہے لیکن حکومت کی ساری توجہ اپنے استحکام اور اپنے اقتدار کو بچائے رکھنے پر رہی ۔ یہی وجہ رہی کہ پوری بساط بچھاتے ہوئے انتخابی نظام کو اپنے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بنادیا گیا ۔ ووٹوں کی چوری اس ملک کی تاریخ کا سنگین جرم بھی کہا جاسکتا ہے کیونکہ اس نے ملک میں جمہوریت کی بنیادیں کھوکھلی کردی ہیں۔ اس کے نتیجہ میں عوام کو ووٹ کے حق سے محروم کردیا گیا ہے ۔ ملک کے نوجوانوں کو خاص طور پر اس ووٹ چوری میں نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن کے نام پر جو فارم 6 میں تبدیلیاں کی گئی ہیں وہ نوجوانوں کو ووٹر لسٹ میں اپنا نام شامل کروانے سے روکنے کا سبب بن رہے تھے ۔ اس ملک میں ہر بالغ شہری کو ووٹ کا حق حاصل ہے اور الیکشن کمیشن کے ذریعہ حکومت ملک کے نوجوانوں ہی کو اس حق سے محروم کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور پھر منظر عام پر نوجوانوں تک رسائی کو یقینی بنانے ریلس بنائی جا رہی تھیں اور انسٹا گرام پر انہیں ’ فرینڈز ‘ کہہ کر مخاطب کیا جا رہا تھا ۔ ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک میں سب سے بڑی طاقت عوام کی طاقت ہی ہے اور یہاں 13 کروڑ رائے دہندوں کو اگر ووٹ کے حق سے محروم کردیا جاتا ہے اور ان کے دعوے یا دستاویزات کو قبول نہیں کیا جاتا ہے تو یہ جمہوری کو ختم کرنے کی کوشش ہے اور ملک میں آمرانہ اور مطلق العنان اقتدار کی سمت پیشرفت کی کوشش کہی جاسکتی ہے ۔ جو لوگ برسوں سے مسلح افواج میں شامل رہے ہیں ‘ سفارتی حلقوں کا حصہ رہے ہیں یا اقتدار پر بھی فائز رہے ہیں انہیں بھی نشانہ بنایا گیا ہے ۔
ایس آئی آر کے نام پر جو کھیل کھیلا گیا ہے وہ جمہوریت کو مستحکم کرنے کی بجائے جمہوریت کی جڑوں کو کھوکھلی کرنے کا باعث بن گیا ہے ۔ اس عمل کا حصہ بننے اور اسے آگے بڑھانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کسی کو بھی ملک کے عوام کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کا اختیار نہیں ہے اور ایسا کرنا ملک کے دستور ‘ قانون اور جمہوریت سب کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتا ہے ۔