ماسکو۔2 اگست (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے ایران پر ممکنہ حملے کو منسوخ کر دیا ہے۔مسٹر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر کہا کہ دنیا کے مستقبل کے فائدے اور ایک کامیاب و خوشحال ایران کیلئے، میں نے حملہ منسوخ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے بشرطیکہ جلد ہی کوئی معاہدہ ہو سکے۔اسرائیل بھی اس عزم میں میرے ساتھ ہے۔ اس سے پہلے کل مسٹر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے فون پر بات کی تھی۔ باخبر ذرائع کے حوالے سے ‘ایکسیوس’ نے بتایا کہ سعودی لیڈر نے ایران پر بڑے حملے کرنے کی امریکہ کی اسکیموں پر تشویش کا اظہار کیا۔ایک اور ذریعہ نے ایکسیوس کو بتایا کہ ولیعہد نے مسٹر ٹرمپ سے تناؤ کم کرنے اور ایران پر حملے سے بچنے کی اپیل کی تھی اور ایک اور اطلاع کے مطابق، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر رضامندی کی کوشش میں قطر کے نمائندوں نے کل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی، امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور عمان کے نمائندوں کے ساتھ الگ الگ بات چیت کی۔ خبروں کے مطابق، دونوں فریقین کے درمیان کچھ پیشرفت ہوئی تاہم یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ کیا اس سے تناؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔پریس ٹی وی نے پہلے خبر دی تھی کہ مسٹر عراقچی نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے فون پر بات کی تھی اور مغربی ایشیا کے ملکوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ ایران کے خلاف امریکی حملوں میں مدد کرتے ہیں، تو اس کیلئے وہی ذمہ دار ہونگے۔سی بی ایس نے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں، جو اسی ہفتے ہو سکتا ہے۔8 جولائی کے بعد سے، امریکی فوج نے ایران پر کئی حملے کیے ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر تہران کے حملوں کے جواب میں کی گئی تھی۔ ایرانی فوج نے کئی مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں امریکی ٹھکانوں پر حملے کر کے جواب دیا۔ تہران نے واشنگٹن پر لڑائی روکنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کا الزام بھی لگایا۔