کانگریس پارٹی پر حکومت چلانے کے بجائے سرکس چلا نے کا الزام : کے ٹی آر

   

ہماچل بھون ضبط کرنے عدلیہ کے حکم پر طنزیہ ریمارکس ، وضاحت کرنے راہول گاندھی سے مطالبہ
حیدرآباد ۔ 20 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس پارٹی حکومت چلانے کے بجائے سرکس چلا رہی ہے ۔ ہماچل پردیش میں کانگریس پارٹی دو سال سے اقتدار میں ہے ۔ نا اہل حکومت حاصل کردہ قرض واپس نہ کرنے کی وجہ سے دہلی میں موجود ہماچل بھون سے محروم ہورہی ہے ۔ اقتدار حاصل کرنے کے لیے کانگریس پارٹی جھوٹے گیارنٹی کے وعدے کررہی ہے ۔ قرض حاصل کرنا اور اثاثے جات ضبط کرانے کی کانگریس پارٹی عادی ہوگئی ہے ۔ سوشیل میڈیا کے پلیٹ فارم ’ ایکس ‘ پر ٹوئیٹ کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کانگریس کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ملک بھر میں عوامی اعتماد سے محروم ہوچکی ہے ۔ اقتدار حاصل کرنے کے لیے مختلف ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں گیارنٹی کے علاوہ کبھی پورے نہ ہونے والے وعدے کرتے ہوئے عوام کو ہتھیلی میں جنت دکھا رہی ہے ۔ وعدے کرنے سے قبل ریاست کے بجٹ قرض آمدنی کا جائزہ لینا بھی مناسب نہیں سمجھ رہی ہے ۔ کرناٹک اور تلنگانہ میں جھوٹے وعدے کرتے ہوئے اقتدار حاصل کیا مگر وعدوں کو پورا کرنے میں دونوں ریاستوں کی کانگریس حکومتیں پوری طرح ناکام ہوگئی ۔ ہماچل پردیش میں کانگریس حکومت قرض ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہے ۔ جس کی وجہ سے ہائی کورٹ نے دہلی میں موجود ہماچل بھون ضبط کرنے کا حکم دیا ہے ۔ عدلیہ کا یہ فیصلہ کانگریس پارٹی کے منھ پر طمانچہ ہے ۔ کانگریس پارٹی نے اپنے وعدوں کی تکمیل کے لیے فنڈز جمع کرنے گانجہ فروخت کرنے کی اجازت دے رہی ہے ۔ تلنگانہ کے عوام سے کیے گئے 6 وعدوں کی تکمیل کے لیے کیا فروخت کرنے کی اجازت دی جائے گی ۔ راہول گاندھی سے استفسار کیا ۔ واضح رہے کہ ہماچل پردیش کی ہائی کورٹ نے پیر کو دہلی میں موجود ہماچل بھون کو ضبط کرنے کا حکم دیا تاکہ ایک پاور کمپنی کو واجب الادا 150 کروڑ روپئے وصول کیا جاسکے ۔ مذکورہ کمپنی کو عمارت کی نیلامی اور واجبات ادا کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ہماچل پردیش میں دو سال قبل 10 ضمانتوں کے وعدوں سے برسر اقتدار آنے والی کانگریس حکومت کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔۔ 2