کانگریس کو تلنگانہ میں سبقت، اقلیت، بی سی طبقات و خواتین پارٹی کا مضبوط ووٹ بینک

   

ماقبل نوٹیفکیشن سروے رپورٹس، بی جے پی دوسرے اور بی آر ایس تیسرے مقام پر، بی جے پی کی ووٹ کی تقسیم پر نظر
حیدرآباد۔/7 اپریل ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں لوک سبھا الیکشن کے انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کو ابھی 10 دن باقی ہیں لیکن اہم سیاسی پارٹیوں نے مختلف سروے منعقد کرتے ہوئے اپنی کامیابی کے امکانات کا جائزہ لیا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے سروے کے علاوہ بعض آزادانہ میڈیا گھرانوں کی جانب سے بھی انتخابی صورتحال میں رائے دہندوں کی نبض کو ٹٹولنے کی کوشش کی ہے۔ تلنگانہ کی 17 لوک سبھا نشستوں میں کانگریس پارٹی کو سبقت حاصل ہے جبکہ بی جے پی کو دوسرا اور بی آر ایس کو تیسرے مقام کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی کو تین ماہ کا عرصہ گذرتے ہی لوک سبھا انتخابات کی سرگرمیوں کا آغاز ہوا جس کے نتیجہ میں کانگریس پارٹی کی کامیابی کا تسلسل دکھائی دے رہا ہے۔ آزادانہ سروے رپورٹس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ریونت ریڈی حکومت کی 100 دن کی کارکردگی سے عوام مطمئن ہیں کیونکہ حکومت نے 6 ضمانتوں میں سے 5 پر عمل آوری کا آغاز کردیا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کو مختلف طبقات کی تائید کے بارے میں سروے رپورٹ بھی کانگریس کو سبقت ظاہر کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتوں، خواتین اور پسماندہ طبقات کی کانگریس پارٹی کو بھرپور تائید حاصل ہے اور یہ لوک سبھا چناؤ میں پارٹی کے مضبوط ووٹ بینک کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔ کانگریس پارٹی کے قومی قائدین کی وقفہ وقفہ سے تلنگانہ میں مہم کا پارٹی کو فائدہ ہوگا۔ اسی دوران انتخابی اعلامیہ کی اجرائی سے قبل کانگریس نے جو سروے کا اہتمام کیا اس میں 14 لوک سبھا حلقہ جات جہاں امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے ان میں 10 حلقہ جات میں کانگریس پارٹی کا موقف مستحکم بتایا گیا ہے۔ پارٹی کو مزید تین حلقہ جات کھمم، کریم نگر اور حیدرآباد کے امیدواروں کا اعلان کرنا ابھی باقی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ماقبل انتخابی مہم سروے میں جن حلقہ جات میں کانگریس کا موقف مستحکم بتایا گیا ہے ان میں محبوب آباد، ورنگل، بھونگیر، نلگنڈہ، ناگرکرنول، چیوڑلہ، ملکاجگیری، ظہیرآباد، نظام آباد اور عادل آباد شامل ہیں۔ میدک، سکندرآباد اور محبوب نگر میں پارٹی کو سخت مقابلہ کی پیش قیاسی کی گئی ہے باقی تین لوک سبھا حلقوں میں کانگریس کو کھمم اور کریم نگر میں کامیابی کا یقین ہے جس سے مجموعی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 13 تک پہنچ جائے گی۔ کانگریس ہائی کمان نے 17 میں 14 لوک سبھا حلقوں پر کامیابی کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ آزادانہ سروے رپورٹس کے مطابق دس سال تک برسر اقتدار رہنے والی بی آر ایس کو بڑے پیمانے پر انحراف کا سامنا ہے جس کے نتیجہ میں کسی بھی لوک سبھا حلقہ میں بی آر ایس کامیابی کے موقف میں دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ بی جے پی 4 اور مجلس کو ایک نشست کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔ دوسری طرف بی جے پی نے جس سروے کا اہتمام کیا اس میں 5 لوک سبھا حلقوں میں کامیابی کی پیش قیاسی کی گئی ہے جبکہ بی جے پی کے نشانہ پر 10 نشستیں ہیں۔ گذشتہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو 4 حلقوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ عادل آباد، نظام آباد، سکندرآباد اور کریم نگر کے علاوہ پارٹی کو محبوب نگر اور ملکاجگری میں کامیابی کا یقین ہے۔ بی آر ایس نے اگرچہ اسمبلی چناؤ کے بعد پارٹی اور خانگی اداروں کے ذریعہ سروے کا اہتمام کیا لیکن کسی بھی سروے رپورٹ کو قائدین میں بھی سرکولیٹ نہیں کیا گیا۔ لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کے کمزور موقف نے پارٹی سربراہ کے سی آر کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے تمام سروے رپورٹس اقلیت، خواتین اور پسماندہ طبقات کی کانگریس پارٹی کو تائید کی پیش قیاسی کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس نے بھی مذکورہ طبقات پر توجہ مرکوزکی ہے۔ کانگریس نے اسمبلی انتخابات میں مذکورہ طبقات کی تائید کے ذریعہ اقتدار حاصل کیا تھا۔ یوں تو شہری علاقوں کے حلقہ جات میں اقلیتوں کے ووٹ کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان تقسیم ہوگئے لیکن لوک سبھا چناؤ میں اقلیتوں کے ووٹ کی تقسیم کے امکانات نہیں ہیں کیونکہ اقلیتوں نے بی جے پی کو کامیابی سے روکنے کیلئے کانگریس کی تائید کا فیصلہ کیا ہے۔ اب جبکہ بی آر ایس تیسرے مقام پر پہنچ چکی ہے لہذا اقلیتوں کی جانب سے بی آر ایس کے حق میں ووٹ دینا بی جے پی کو فائدہ کے مترادف ہوگا۔ پانچ ضمانتوں پر عمل آوری کے نتیجہ میں خواتین اور پسماندہ طبقات کو فائدہ ہوا ہے لہذا کانگریس پارٹی کو یقین ہے کہ لوک سبھا چناؤ میں وہ اقلیت، بی سی طبقات اور خواتین کی تائید سے 14 نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔1