روزگار متاثر ہونے پر ضلع ہاسن کے ڈیری کسانوں کا احتجاج، ڈپٹی کمشنر کے دفتر تک مارچ کی دھمکی
بنگلورو۔ 26؍مئی ( ایجنسیز )کرناٹک کے ہاسن ضلع میں منگل کو ہفتہ وار مویشی میلے میں کشیدگی اس وقت پھیل گئی جب مقامی مسلم تنظیموں نے بقرعید کے تہوار سے قبل ذبح کیلئے جانوروں کی خریداری کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ اس اقدام سے مقامی ڈیری فارمرز میں بے چینی پھیل گئی جنہوں نے دھمکی دی کہ اگر ان کی روزی روٹی متاثر ہوئی تو وہ اپنے مویشیوں کو براہ راست ڈپٹی کمشنر کے دفتر تک لیجائیں گے اور احتجاج کریں گے۔ مسلم کمیونٹی کا مویشیوں کی خریداری کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ مقامی حکام اور دائیں بازو کے کارکنوں نے مویشیوں کو لیجانے والی 11 گاڑیوں کو روکنے، جانوروں کو پکڑ کر گائے کی پناہ گاہوں کی طرف موڑ دینے کے ٹھیک ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔فیصلے کا معاشی نتیجہ منگل کی صبح فوری طور پر نظر آیا۔ تہوار کی زیادہ مانگ کی توقع کرتے ہوئے، آس پاس کے اضلاع سے سینکڑوں کسان ہفتہ وار بازار پہنچے جہاں کوئی خریدار نہیں تھا۔ احتجاجی ڈیری فارمر ووکلیگا گوڑا نے بتا یا کہ ہم کئی نسلوں سے مویشی بیچ رہے ہیں‘ یہ ہماری بنیادی روزی ہے۔ آنے والے زرعی سیزن کیلئے بیج اور کھاد خریدنے کیلئے 40,000 روپے کی اشد ضرورت ہے۔ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ رقم حکومت، کسی آزاد تنظیم یا مسلم کمیونٹی کی طرف سے آتی ہے‘ مجھے زندہ رہنے کیلئے اس کی ضرورت ہے۔ اگر وہ ہمیں مویشیوں کی تجارت سے روکتے ہیں، تو ہمارے پاس ڈپٹی کمیشن کے دروازے پر اپنے مویشی لیجانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔بائیکاٹ کا دفاع کرتے ہوئے، ضلع ہاسن کی مسلم تنظیموں کے نمائندے ایڈوکیٹ انشاد پالیا نے ایک پریس کانفرنس کی اور کہا کہ یہ فیصلہ ٹارگٹڈ دھمکیوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔ انشاد نے کہا کہ متعدد مسلم اکثریتی محلوں میں دھمکی آمیز پوسٹر لگائے گئے تھے جس میں کمیونٹی کے افراد کو مویشی خریدنے پر دھمکی دی گئی کہ ان کے گھروں کو مسمار کردیا جائے گا۔ ہم نے پولیس، میونسپل کارپوریشن اور ضلعی انتظامیہ سے اس کی جانچ کی جن میں سے سبھی نے انہیں نصب کرنے سے انکار کیا۔ واضح طور پر کچھ شرپسندوں نے ایسا کیا ہو گا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ شوبھانویتا نے میڈیا کو بتایا کہ کسی بھی سرکاری ایجنسی نے یہ پوسٹر نہیں لگائے۔ ابھی تک کوئی شکایت درج نہیں کی گئی ہے۔ تاہم اس کی جانچ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینر میں درج چیزیں بالکل غلط ہیں اور کسی کو بھی مکانات گرانے کا اختیار نہیں ہے۔ انشاد نے مزید استدلال کیا کہ بی جے پی کی سابقہ انتظامیہ کے تحت 2020 میں کرناٹک پریوینشن آف سلاٹر اینڈ پریزرویشن آف کیٹل ایکٹ کی منظوری کے بعد سے مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانے کا سامنا ہے۔ قانونی طور پر مویشیوں کی نقل و حمل کے باوجود نشانہ بنایا جاتا ہے، ہراساں کیا جاتا ہے اور ان پر حملہ کیا جاتا ہے اس خریداری کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا گیاہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ رامپال چودھری اس بات پر شدید ناراض ہو گیا اور اس نے وریندر تیاگی کے ساتھ بدتمیزی اور گالی گلوج شروع کر دی۔ عینی شاہدین کے مطابق معاملہ اتنا بڑھ گیا کہ وہ لاٹھی لے کر اہلکاروں کے پیچھے دوڑ پڑا۔ صورتحال بگڑنے پر مردم شماری اہلکاروں نے فوراً 112 نمبر پر کال کر کے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس کے موقع پر پہنچنے سے پہلے ہی ملزمان وہاں سے فرار ہو چکے تھے۔ تاہم چند گھنٹے بعد دوپہر تقریباً 12 بجے رامپال چودھری دوبارہ وریندر تیاگی کے گھر پہنچا۔