Saturday , September 21 2019

کشمیر مسلئے پر پرینکا گاندھی نے پھر بولا حملہ‘ پوچھا’کیا مودی شاہ حکومت مانتی ہے کہ جمہوریت ہے؟‘۔

نئی دہلی۔ جموں کشمیر میں کانگریس لیڈران کو گرفتار کئے جانے پر پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور ہوم منسٹر امیت شاہ کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے سوال کیاکہ ’مودی شاہ کی حکومت مانتی ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت ہے؟

پرینکاگاندھی نے سابق چیف منسٹران(عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی) کی گرفتاری کو کے کر بھی حکومت کو شدیدتنقید کانشانہ بنایاہے۔

انہوں نے کہاکہ ”جموں کشمیر میں کانگریس کے لیڈران کوکس بنیاد پر گرفتار کیاگیاہے؟۔

کیامیڈیاسے بات کرنے جرم ہے؟۔

ہمارے لیڈران کی طرح ہی سابق چیف منسٹران کو گرفتار کئے پندرہ دن کا وقت گذر گیا ہے جو ہندوستان کے ائین کی تعزیم کرتے ہیں“۔

پرینکا نے آگے کہاکہ”یہاں تک کہ ان کے گھروالوں کو بھی ان سے سیدھا بات چیت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

کیامودی شاہ حکومت کا اب بھی ماننا ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت باقی ہے“۔

جمعرات کے روز کانگریس لیڈرراہول گاندھی اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈرغلام بنی آزادی نے غلام احمد میر اور جموں میں کانگریس کے سینئرلیڈر رویندر شرما کی گرفتاری کی مذمت کی تھی۔

راہول نے ٹوئٹ کیاتھا ”میں جموں کشمیر کانگریس کے صدر غلام احمد میر اور ترجمان رویندر شرما کی جموں میں آج گرفتار کئے جانے کی سخت مذمت کرتاہوں۔

اور قومی سیاسی تنظیم کے خلاف اس طرح کی کاروائی سے حکومت نے جمہوریت پر ایک اور حملہ کیاہے۔ یہ پاگل پن کب ختم ہوگا“۔

کانگریس کے جموں یونین کو جموں کے پارٹی ہیڈرکوارٹر میں جمعرات کے روز پریس کانفرنس کرنے سے روک دیاگیاتھااورپولیس نے اس کے سابق مرکزی ترجمان اور سابق رکن قانون ساز کونسل رویندرشرما کو حراست میں لے لیاتھا۔

جموں کشمیر کے کانگریس صدر غلام احمد میر کو دوپہر تک نظر بند کردیاگیاتھا۔

آزادنے کہاکہ ریاستی اور مرکزی حکومت تو کہہ رہی ہے کہ جموں میں حالات معمول پر ہیں او رلوگ جموں اور کشمیر کے خصوصی درجہ ختم کرنے والے قانون نافذ کرنے کی وجہہ سے خوشی منارہے ہیں مگر اپوزیشن لیڈروں کو پریس کانفرنس بھی نہیں کرنے دیاجارہا ہے۔

وہیں سابق ہوم منسٹرپی چدمبرم نے کہاکہ میرجمعرات سے جموں میں اپنے گھر میں نظر بند ہیں۔

انہو ں نے سوشیل میڈیا سائیڈ پر لکھا ہے کہ ”حراست میں لینے لئے تحریری احکامات نہیں تھے۔ یہ غیر قانونی کاروائی ہے۔ میں امید کرتاہوں کہ عدالتیں قدم اٹھائیں گی اور شہریوں کی آزادی کی حفاظت کرے گی“

TOPPOPULARRECENT