کشمیر میں اشیائے خوردنی کی قیمتیں آسمان پر

   

سری نگر : وادی میں شدید سردی کے بیچ اشیائے ضروریہ کی گراں بازاری نے اہلیان وادی کا جینا مزید دو بھر کردیا ہے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ بازاروں میں اشیائے ضروریہ بالخصوص اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں یکایک خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے ۔ ان کا الزام ہے کہ متعلقہ حکام بازاروں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے میں ایک بار پھر ناکام ہوئے ہیں۔سری نگر سے تعلق رکھنے والے محمد ایوب نامی ایک شہری نے اشیائے خوردنی کی گراں بازاری کے متعلق یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا: ‘سبزی فروشوں اور دیگر اشیائے خوردنی بیچنے والوں نے اپنی مرضی کے مطابق چیزیں بیچنا شروع کیں ہیں، آلو، پیاز، تیل سرسوں، دالوں وغیرہ کی قیمتیں آسمان چھونے لگی ہیں’۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام گراں بازاری پر قابو پانے میں ایک بار پھر ناکام ہوئے ہیں کیونکہ کہیں بھی اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے ۔نذیر فاروق نامی ایک شہری کا کہنا ہے کہ وادی میں موسم کروٹ بدلتے ہی گراں فروشی کا جن بوتل سے باہر آکر عوام وخواص کا جینا محال بنا دیتا ہے ۔انہوں نے کہا: ‘وادی میں گراں بازری کا بازار گرم ہے اور اشیائے ضروریہ بالخصوص اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ عوام کیا خواص ان کی خریداری سے عاجز ہوجاتے ہیں’۔