ممبئی ۔ کووڈ وبا میں عوام کے حقیقی ہیرو بنے سونو سود 49 سال کے ہوگئے ہیں۔سونو سود 30 جولائی 1973 کو موگا، پنجاب میں پیدا ہوئے اور ان کے والد کپڑے کا کاروبار کرتے تھے جبکہ والدہ کالج میں پروفیسر تھیں۔ ان کے والدین چاہتے تھے کہ وہ انجینئر بنیں، اس لیے وہ اسکول کی تعلیم کے بعد انجینئرنگ کرنے کے لیے ناگپور چلے گئے ۔ یہاں انہوں نے یشونت راؤ چوہان کالج میں داخلہ لیا۔ پڑھائی کے دوران سونو نے ماڈلنگ میں دلچسپی لینا شروع کر دی اور جہاں بھی موقع ملتا وہ ماڈلنگ کے لیے پہنچ جاتے ۔ الیکٹرانکس میں بی اے کرنے کے بعد سونو نے اپنی ماں سے اداکاری کرنے کی اجازت مانگی ۔ جب ان کی والدہ نہ مانیں تو سونو نے کہا کہ اسے ڈیڑھ سال کا وقت دیں، اگر تب بھی میرا اداکاری کا کیریئر شروع نہ ہوا تو میں اپنے والد کے ساتھ کام کرنا شروع کر دوں گا۔ پھر سونو ممبئی چلے گئے ۔ یہاں آکر انہوں نے کئی فلموں کے آڈیشن دیے ، لیکن انہیں ہر طرف سے ناکام ہاتھ لگی ۔ ایک دن انہیں جوتوں کے ایک برانڈ کا اشتہار ملا۔ حالانکہ اس اشتہار میں وہ لوگوں کے ہجوم میں تھے ۔ کووڈ کے دوران سونو سود نے اس وقت لوگوں کی بہت مدد کی جب ہر کوئی اپنے گھروں میں قید رہنا پسند کررہاتھا ۔ انہوں نے مزدوروں کے لیے کھانے کا بندوبست کیا اور ساتھ ہی ان لوگوں کے لیے بسیں، ٹرینیں اور حتیٰ کہ ہیلی کاپٹر بھی فراہم کیے جنہیں گھر جانا تھا۔ اس دوران انہوں نے ان کے گھر آنے والے ہر شخص کی مدد کی۔ انہوں نے شکتی ساگر سود کے نام سے ایک اسکیم شروع کی، جس کے تحت روزانہ 45000 لوگوں کو کھانا کھلایا جاتا تھا۔