ترواننت پورم، 25 جولائی (یو این آئی) کیرالا میں کئی اسکولوں کی عمارتیں 100 سال سے بھی زیادہ پرانی ہیں، اس لیے ان ڈھانچوں کو منہدم کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔ یہ بات ریاستی جنرل ایجوکیشن منسٹر وی-شیون کٹی نے بتائی۔ وزیر موصوف نے کل شام کہا کہ جن ٹھیکیداروں نے منہدم کرنے کا ٹھیکہ حاصل کیا ہے ، ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عمارتوں کو منہدم کریں گے اور ملبہ بھی صاف کریں گے ۔ تاہم، کئی معاملات میں مقامی خود حکومتی اداروں نے اس عمل کے لیے بہت زیادہ فیس عائد کر دی ہے ، جس کے باعث پرانی عمارتوں کو گرانے میں کافی تاخیر ہو رہی ہے ۔ کیرالا کی تعلیمی تاریخ میں پہلی بار، مختلف مالیاتی ذرائع سے سرکاری اسکولوں میں 5,000 کروڑ روپے کی لاگت سے نئی عمارتوں کی تعمیر کی گئی ہے ۔ تاہم، نئی عمارتوں میں کلاسیں شروع ہونے کے بعد بھی، کئی پرانی عمارتیں اب بھی احاطے میں موجود ہیں۔ وزیر نے متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ وہ بلا تاخیر کارروائی کریں، اور مقامی خود حکومتی اداروں و علاقے کے رہائشیوں سے اس معاملے میں تعاون کرنے کی اپیل کی۔