قیمتوںمیں بھاری اضافہ ۔ کاشتکاری میں کمی اور دیگر ریاستوں کو منتقلی اصل وجہ
حیدرآباد 20 فروری (سیاست نیوز) لیمو ویسے تو ہر موسم میں استعمال ہوتا ہے لیکن موسم گرما میں اس کے استعمال میں اضافہ ہوجاتا ہے اور موسم گرما میںلیمو کے شربت کے ذریعہ گرمی سے راحت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن جاریہ موسم گرما میںلیمو کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ نے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ سال گذشتہ یا چند ماہ قبل بھی اگر لیمو کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے تو 10 روپئے میں 5 لیمو تک دستیاب ہوا کرتے تھے لیکن ابھی موسم گرما کے آغاز میں لیمو کی قیمتوں میں بھاری اچھال دیکھا جا رہاہے اور 10 روپئے میں دو لیمو فروخت کئے جانے لگے ہیں۔لیمو کی قیمتوں میں اضافہ پر کہا جا رہاہے کہ ریاست میں لیمو کی کاشت میں کمی کے سبب قیمتوں میں اضافہ ہو رہاہے حالانکہ مجموعی طور پر لیمو کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا لیکن پیداوار میں کمی اور مانگ میں تخفیف نہ ہونے سے یہ صورتحال پید ہوئی ہے۔سابق میں کاشتکاروں کی جانب سے 50ایکڑ تک کی لیمو کی کاشت کی جاتی تھی لیکن فی الحال لیمو کی کاشت کو کاشتکاروں نے بھی محدود کردیا ہے اور 2تا3ایکڑ پر ہی کاشت کی جانے لگی ہے۔غیر منقسم نلگنڈہ میں 4 سال قبل تک لیمو کی کاشت کا مشاہدہ کیا جائے تو 19ہزار 950 ایکڑ پر لیمو کی کاشت ہوا کرتی تھی لیکن اب اس میں کمی کے سبب قیمتوں میں اضافہ ہو رہاہے۔ لیمو محض موسم گرما میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ وزن کی کمی کرنے والوں کے علاوہ کچھ لوگ روزمرہ کی زندگی میں لیمو کا استعمال کرتے ہیں اسی لئے موسم کے اعتبار سے لیمو کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے امکان کم ہوتے ہیں لیکن ٹھوک تاجرین کا کہناہے کہ لیمو کی قیمتوںاضافہ کیلئے کاشتکار ذمہ دار ہیں کیونکہ وہ اپنے فارم کے پاس ہی لیمو کی قیمتوں میں اضافہ کررہے ہیں جس کے نتیجہ میں بازار میں قیمت میں اضافہ دیکھا جا رہاہے۔ بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ کے اضلاع میں لیمو کی پیدوار میں گراوٹ کے علاوہ قیمتوں میں اضافہ کی وجوہات صرف کاشتکاروں کی جانب سے اضافی رقومات کی وصولی نہیں ہے بلکہ تلنگانہ میں پیداوار کی ملک کی دیگر ریاستوں میں بالخصوص دہلی میں بھاری مانگ ہے اور یہاں سے لیمو دہلی روانہ کئے جارہے ہیں۔3