گنے کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے سے کسان برہم

   

بجنور : گنے کی کھیتی کیلئے مشہور مغربی یوپی کے کسانوں کا غصہ سڑکوں تک نظر آنے لگا ہے۔ گنے کی قیمتوں میں اضافہ کے مطالبہ پر کسان مغربی یوپی کے مظفرنگر، بجنور اور شاملی سمیت کئی ضلعوں میں احتجاج کر رہے ہیں ۔ گنے کی کھیتی کیلئے مشہور مغربی یوپی کے کسان گنے کی قیمتوں میں اضافہ نہ کئے جانے کے سبب حکومت سے ناراض ہیں۔ کسانوں کا غصہ سڑکوں پر نظر آنے لگا ہے اور وہ مظفرنگر، بجنور اور شاملی سمیت کئی ضلعوں میں احتجاج کر رہے ہیں۔ گنے کی قیمتوں میں اضافہ اور بروقت ادائیگی نہ ہونے کے سبب کسان اپنے گنے کو کریشر اور کولہو پر فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ گنا کسانوں کے حق میں کھڑے سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی پنکج ملک کا کہنا ہے کہ مغربی یوپی میں گنا ایک اہم فصل ہے اور لاکھوں کسان اس سے وابستہ ہیں۔ لاکھوں غریب مزدوروں کو اس سے روزگار حاصل ہوتا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے حکومت نے گنے کی قیمت میں اضافہ کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ آج ریاست کے گنے کے کاشتکاروں کی معاشی حالت انتہائی قابل رحم ہے اور گنے کی مناسب قیمت نہ ملنے کی وجہ سے وہ قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ گورنر سے ایک خط کے ذریعہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ گنے کے کاشتکاروں کی حالت زار، بڑھتی ہوئی لاگت اور مہنگائی کی شرح کو دیکھتے ہوئے اس کی قیمت کم از کم 450 روپے فی کوئنٹل کی جائے۔
خیال رہے کہ گنے کے کاشتکار کئی دنوں سے سخت سردی میں ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ دراصل، گزشتہ 7 سالوں میں ریاستی حکومت نے گنے کی قیمتوں میں صرف 35 روپے کا اضافہ کیا ہے۔ یہ رقم بھی انتخابی سال میں بڑھائی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی اتر پردیش میں گنے کی قیمت کا اعلان نہ کرنے پر غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔