گیانیش کمار کیخلاف حیدرآباد کلکٹریٹ پر انڈیا الائنس پارٹیوں کا دھرنا

,

   

ووٹ چوری کے ذریعہ بی جے پی کی مددکا الزام، پروفیسر کودنڈا رام، ای ٹی نرسمہا اور دیگر کا خطاب

حیدرآباد 6 اکٹوبر (سیاست نیوز) انڈیا الائنس کی سیاسی پارٹیوں کی جانب سے آج حیدرآباد کلکٹریٹ کے روبرو دھرنا منظم کیا گیا جس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی فوری گرفتاری اور عہدہ سے برطرفی کا مطالبہ کیا گیا۔ تلنگانہ جنا سمیتی کے صدر اور رکن قانون ساز کونسل پروفیسر کودنڈا رام، صدر کانگریس خیریت آباد ایم روہت، صدر ضلع کانگریس سکندرآباد دیپک جان، سی پی آئی کے ریاستی قائد ای ٹی نرسمہا، سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری وینکٹیش، تلنگانہ جنا سمیتی کے قائدین سلیم پاشاہ، ارون کمار اور دیگر پارٹیوں کے قائدین نے شرکت کی۔ احتجاج کے بعد جوائنٹ کلکٹر حیدرآباد کو یادداشت پیش کی گئی جس میں ووٹ چوری میں ملوث چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی برطرفی اور گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔ پروفیسر کودنڈا رام نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گیانیش کمار نے رائے دہی سے متعلق عوام کے دستوری حق کو متاثر کیا ہے۔ گیانیش کمار نے ووٹ چوری کے معاملہ میں سپریم کورٹ کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ ملک بھر میں 13 کروڑ سے زائد نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کردیئے گئے۔ اُنھوں نے کہاکہ نریندر مودی اور امیت شاہ کے اشارہ پر الیکشن کمیشن نے ووٹ چوری کے ذریعہ کئی ریاستوں میں بی جے پی کو کامیابی دلائی ہے۔ کودنڈا رام نے ملک میں جاری SIR مہم کو فوری معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر اِس مہم کو جاری رکھا گیا تو منصوبہ بند طریقہ سے مخالف حکومت رائے دہندوں کے نام حذف کردیئے جائیں گے۔ سی پی آئی کے اسسٹنٹ سکریٹری ای ٹی نرسمہا نے کہاکہ ملک بھر میں گیانیش کمار کے خلاف احتجاج جاری ہے اور بی جے پی اُنھیں بچانے کی کوشش کررہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ گیانیش کمار کی گرفتاری تک عوامی احتجاج جاری رہے گا۔ احتجاج کو روکنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے اور نئی دہلی میں پولیس مظالم کے کئی واقعات منظر عام پر آئے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستان میں ووٹ چوری، سیٹ چوری، چندہ چوری، انتخابی نشان چوری، قائدین کی چوری حتیٰ کہ حکومتوں کی چوری کے معاملات منظر عام پر آئے ہیں۔ احتجاج میں سی پی آئی ایم ایل نیو ڈیموکریسی کے ریاستی سکریٹری ایم جھانسی اور بائیں بازو کی مختلف تنظیموں کے قائدین نے شرکت کی۔V/1