ہرمز میں کشیدگی کا حل طاقت نہیں، مذاکرات ہیں:عراقچی

   

تہران ۔ 5 مئی (ایجنسیز) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات یہ واضح کرتے ہیں کہ سیاسی بحران کا کوئی فوجی حل موجود نہیں ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس” پر لکھا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی مسئلے کا حل طاقت کے ذریعے نہیں نکالا جا سکتا۔عراقچی نے مزید کہا کہ پاکستان کی کوششوں کے باعث واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جسے انہوں نے آبنائے ہرمز میں ”آزادی کا منصوبہ” قرار دیا تھا اور اسے ”ناکام منصوبہ ” کہا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاملات بہتر ہو رہے ہیں اور مذاکرات مثبت سمت میں جا رہے ہیں۔فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران مذاکرات میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ لچک دکھا رہا ہے۔یاد رہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اپریل کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان طویل براہِ راست مذاکرات ہوئے تھے، تاہم کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا۔بعد ازاں پاکستان نے فریقین کے درمیان اختلافات کم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں اور ایران کا نیا مجوزہ مسودہ امریکہ کو پہنچایا، جبکہ امریکی ردعمل ایران کو دیا گیا جس کا تہران نے جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ”آزادی کا منصوبہ” شروع کرنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل” پر لکھا کہ یہ منصوبہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو اس اہم آبی گزرگاہ سے نکالنے میں مدد دے گا تاکہ وہ آزادانہ اور مؤثر طریقے سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔تاہم امریکی صدر نے اس مشن کے طریقہ کار اور تفصیلات واضح نہیں کیں۔فروری کے آخر سے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں عملی طور پر سخت پابندیوں اور کنٹرول کے باعث صورتحال کشیدہ رہی ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔اس دوران امریکہ نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں جو تاحال جاری ہیں۔