نئی دہلی: ہلدوانی فساد معاملے میں پولس زیادتی کے شکار 20 مسلم نوجوانوں کی ضمانت کی عرضی پر گذشتہ کل اترا کھنڈ ہائی کورٹ میں سماعت عمل میں آئی۔جمعیۃ علماء کی جانب سے بحث کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے عدالت کوبتایا کہ تفتیشی ایجنسی نے ملزمین کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے ملزمین کی گرفتاری کے اٹھائیس دنوں کے بعد ان کے خلاف یو اے پی اے کا اطلاق کردیا تاکہ ملزمین کو ضمانت سے محروم کیا جاسکے۔ ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ کو سینئر ایڈوکیٹ نے مزید بتایاکہ سیشن عدالت نے ملزمین کی ڈیفالٹ ضمانت عرضی خارج کرتے ہوئے یہ وجہ بتائی کہ لوک سبھا چناؤ کی وجہ سے ملزمین کے خلاف وقت پر چارج شیٹ داخل نہیں کی جاسکی۔