ہمیں آسان سمجھا جارہا ہے

   

SIR اور FIR … دونوں میں اصل نشانہ مسلمان
تاج محل میں مندر کی تلاش … عدالت کا دوہرا معیار

رشیدالدین
SIR اور FIR۔ ملک میں ہر طرف ان دونوں کا خوف طاری ہے۔ ایس آئی آر کے نام کے ساتھ ہندوستانی شہریت کو ثابت کرنے کا خیال ہر کسی کو دستاویزات جمع کرنے میں مصروف کر رہا ہے کیونکہ ایس آئی آر میں شمولیت سے محرومی اچانک ایک ہندوستانی کی شہریت کو مشتبہ بنادے گی۔ ڈیٹینشن سنٹر کا خیال دماغ میں گھومنے لگتا ہے۔ دوسری طرف حکومت کی مخالفت FIR کو دعوت دینے کا سبب بن سکتی ہے ۔ حکومت ہو کہ وزیراعظم کسی کی مخالفت اور تنقید پر FIR درج ہونا ایک معمول بن چکا ہے ۔ حکومت کے خلاف کوئی احتجاج کرے یا مورچہ نکالے تو اس کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کردیا جاتا ہے۔ ملک میں کئی جہدکار اور صحافی حکومت کے خلاف لب کشائی کی سزا مقدمات کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ حکومت کے مخالفین کو اس بات کا ہمیشہ ڈر رہتا ہے کہ پتہ نہیں کب اور کہاں مقدمہ درج ہوجائے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ SIR ہو یا FIR دونوں کا اصلی نشانہ مسلمان ہیں۔ بنگلہ دیشی اور روہنگیا کے نام پر بہار ، مغربی بنگال اور آسام میں لاکھوں مسلمانوں کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کردیئے گئے۔ بی جے پی زیر قیادت مودی حکومت دراصل مسلمانوں کو رائے دہی کے حق سے محروم کرتے ہوئے اپنی شکست کے امکانات کو کم کر رہی ہے کیونکہ مسلمان ووٹر ہی نہ رہے تو اپوزیشن جیت نہیں پائے گا۔ لہذا فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی تو محض ایک بہانہ ہے اور اصلی نشانہ تو مسلمان ہیں۔ ٹھیک اسی طرح بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں نریندر مودی یا مرکزی یا ریاستی حکومت کی کسی پالیسی پر تنقید کی صورت میں فوری ایف آئی آر درج کرتے ہوئے جیل بھیج دیا جاتا ہے ۔ گرفتاری کے ساتھ ہی گھر پر بلڈوزر پہنچ جاتے ہیں۔ حکومت کی مخالفت یا تنقید کے معاملہ میں اپوزیشن قائدین اور جہدکار بھی FIR کارروائی کی زد میں ہیں۔ مودی اور حکومت پر تنقید کرنے والا اگر مسلمان ہو تو پھر پولیس کو FIR درج کرنے کیلئے قانون پڑھنے کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی بھی جرم کے تحت مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے۔ 2014 کے بعد سے مخالفین کے خلاف مقدمات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے پولیس کچھ زیادہ ہی متحرک ہے۔ ایف آئی آر کے معاملہ میں قانون اور عدلیہ بھی اکثر جانبدار ثابت ہوئے ہیں۔ کوئی اور احتجاج کرے تو اسے ضمانت مل جاتی ہے لیکن مسلمان ہو تو ٹرائل کے بغیر ہی برسوں تک جیل میں رکھا جاتا ہے ۔ عمر خالد اور شرجیل امام ٹرائل کے بغیر کئی برسوں سے جیل کی سزا بھگت رہے ہیں جبکہ ان کے ساتھیوں کو ضمانت دے دی گئی۔ جب تمام کا جرم ایک ہے تو پھر ان دونوں کے ساتھ جانبداری اور ناانصافی کیوں ؟ جرم جب ایک ہو تو ضمانت اور سزا بھی یکساں ہونی چاہئے لیکن یہاں عدلیہ بھی مجبور دکھائی دیتی ہے۔ عمر خالد اور شرجیل امام دوسروں کے مقابلہ حکومت کے لئے زیادہ خطرہ بن سکتے ہیں ، لہذا جیل میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ان کے خلاف ٹرائل کا ابھی تک آغاز نہیں ہوا اور یہ دونوں ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔ قانون کے اعتبار سے ٹرائل کے بغیر طویل عرصہ تک قید نہیں رکھا جاسکتا۔ 2014 کے بعد ملک میں ماحول اس قدر بگڑ گیا ہے کہ حکومت سے سوال کرنے پر دیش دروہی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے ۔ SIR کے خوف اور نقصانات کا جائزہ لینے سے قبل بمبئی ہائی کورٹ کے ایک جج کی انصاف پسندی کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے انصاف کے قتل اور لاقانونیت کے اس ماحول میں حق کا دیا جلاکر گھٹا ٹوپ اندھیرے میں امید کی کرن پیدا کی ہے ۔ ممبئی ہائی کورٹ کے جسٹس مادھو جامدار نے سید عبدالواحد نامی مسلم لیڈر کو ایک سال کے لئے شہر بدر (تڑی پار) کے ممبئی پولیس کے فیصلہ کو یہ کہتے ہوئے کالعدم کردیا کہ لوگوں کو سرکار کا غلام بنایا جارہا ہے۔ سید عبدالواحد سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے لیڈر ہیں، جنہوں نے کئی موضوعات پر حکومت کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ دیویندر فڈنویس حکومت کو عبدالواحد کا مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ SDPI سے تعلق نے کسی بھی حد تک جانے کا لائسنس فراہم کردیا ہے ۔ ایک سال کے لئے شہر بدر کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔ عام طور پر عادی اور خطرناک مجرمین کو یہ سزا دی جاتی ہے لیکن حکومت کے نزدیک مسلمان ہونا اور مسلم پارٹی سے تعلق از خود قابل سزا جرم ہے۔ یوں تو مہاراشٹرا میں اپوزیشن کی جانب سے احتجاج اور دھرنے جاری ہیں لیکن کسی کے خلاف ایف آئی آر یا تڑی پار کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ بات جب احتجاج اور تنقید پر FIR کی چل پڑی ہے تو کاکروچ جنتا پارٹی بھی سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ حکومت نے نئی پارٹی کو جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت دی جو تقریباً تین ہفتوں سے جاری ہے۔ احتجاج کی اجازت اور FIR کا درج نہ ہونا کاکروچ پارٹی کے مخالف مودی حکومت دعوؤں پر شبہات پیدا کرتا ہے۔ غیر جانبدار قومی صحافیوں نے اس امید کے ساتھ کاکروچ پارٹی کی تائید کی تھی کہ وہ نوجوانوں کے جذبات کی نمائندگی کرے گی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کہا یہ جارہا ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے پس پردہ بی جے پی ہے جس نے دوسری اپوزیشن کو کمزور کرنے کیلئے نئی پارٹی کو میدان میں اتارا۔ جنتر منتر اور بڑے شہروں میں احتجاج کے باوجود کہیں بھی ایک بھی ایف آئی آر درج نہیں ہوا۔ کاکروچ پارٹی کیلئے ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔ ہر سطح پر انصاف کے حصول کے معاملہ میں مایوسی کے ماحول میں بمبئی ہائی کورٹ کے جسٹس مادھو جامدار کے ریمارک مودی بھکتوں پر بجلی بن کر گرے۔ سید عبدالواحد کو ایک سال شہر بدری کے احکامات کو کالعدم کرنا بی جے پی کو ہرگز برداشت نہیں۔ جسٹس مادھو نے اظہار خیال کی آزادی کے دستوری حق کو جرم بنادینے کی شکایت کی ہے۔ انہوں نے دستور کی دفعات 19 اور 21 کا حوالہ دیا جس میں اظہار خیال کی آزادی اور باوقار زندگی بسر کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ بمبئی ہائی کورٹ کے جج کا نام مادھو ہے۔ اگر وہ مسلمان ہوتے تو ان کا حشر بھی مدھیہ پردیش کی جج تبسم خاں کی طرح ہوتا۔ ماب لنچنگ کے ملزمین کو سزا سنانے پر نفرتی اور جارحانہ فرقہ پرست عناصر ان پر ٹوٹ پڑے اور کھلے عام دھمکیاں دی جانے لگیں۔
دنیا چاند کے آگے نکل گئی لیکن ہندوستان وقفہ وقفہ سے تاج محل ، قطب مینار اور جامع مسجد کے نیچے مندر اور مورتیوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ 2019 میں آگرہ کی عدالت نے تاج محل کے سروے کی درخواست کو دو مرتبہ خارج کردیا جس کے بعد شیو مندر کی کہانی الہ آباد ہائی کورٹ تک پہنچ گئی ۔ مسئلہ ایک ہی ہے اور عدالت بھی ایک لیکن ججس کا الگ الگ موقف قانونی ماہرین کے لئے بھی حیرت کا باعث ہے ۔ 12 مئی 2022 کو الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنو بنچ کے جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس سبھاش ودیارتھی نے بی جے پی لیڈر رجنیش سنگھ کی جانب سے تاج محل کے 12 کمروں کو کھولنے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو سخت پھٹکا لگائی تھی۔ ججس نے کہا تھا کہ PIL کا غلط استعمال نہ کریں ۔ پہلے یونیورسٹی جائیں ، ریسرچ اور پی ایچ ڈی کریں ، اس کے بعد عدالت کو آئیں۔ ججس نے کہا تھا کہ تاریخ کو آپ کی مرضی کے مطابق نہیں پڑھایا جاسکتا ۔ یہی مقدمہ جب 6 جولائی کو الہ آباد ہائی کورٹ پہنچا تو جسٹس روہت اور جسٹس رنجن اگروال نے مرکزی حکومت اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب مانگا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مرکزی حکومت اور ASI نے اس سے قبل عدالت میں واضح کردیا تھا کہ تاج محل سے قبل کسی مندر کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور یہ ایک تاریخی عمارت ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ حکومت کے دباؤ کے تحت عدلیہ گیان واپی اور دیگر تاریخی مساجد کی طرح سروے کی اجازت نہ دے ۔ دوسری طرف ایس آئی آر کے خوف کے تحت 16 ریاستوں اور 3 مرکزی زیر انتظام علاقوں کے عوام دستاویزات جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ ملک کی 23 اپوزیشن پارٹیوں نے چیف جسٹس آف انڈیا کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ملک میں SIR کی دھاندلیوں سے واقف کرایا۔ 6 صفحات پر مشتمل مکتوب میں گزشتہ 12 برسوں کے دوران ووٹ چوری اور حقیقی رائے دہندوں کے ناموں کو خارج کرنے کی تفصیلات پیش کی گئیں لیکن چیف جسٹس نے اس مکتوب کا کوئی نوٹ نہیں لیا ہے ۔ ویسے بھی موجودہ چیف جسٹس سے حکومت کے خلاف موقف اختیار کرنے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ ملک میں سی بی آئی ، ای ڈی اور این آئی اے کی طرح مودی حکومت الیکشن کمیشن کا استعمال کر رہی ہے۔ ملک میں ہمیشہ کیلئے اپوزیشن کا صفایا کرنے اور بی جے پی ووٹ بینک کو مضبوط بنانے کا واحد ذریعہ SIR ہے۔ تیسری مہم کے تحت تلنگانہ، آندھراپردیش، کرناٹک ، مہاراشٹرا ، اتراکھنڈ اور پنجاب میں SIR کا عمل مسلم رائے دہندوں کیلئے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مسلمان اپنے دستوری حق کا کس حد تک تحفظ کرپائیں گے۔ پروفیسر وسیم بریلوی نے کیا خوب کہا ہے ؎
زمانہ مشکلوں میں آرہا ہے
ہمیں آسان سمجھا جارہا ہے