Sunday , November 29 2020

ہندوستان سے ایمنسٹی کا اخراج ہندوستانی جمہوریت پر سوال

کرن تھاپر
آپ کو نریندر مودی کی جانب سے ہندوستان کا حوالہ دیتے ہوئے اس کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دینے پر فخر کا احساس یاد ہوگا انہوں نے اپنی وزارت عظمیٰ کے اولین برسوں میں بار بار اس کا اعادہ کیا۔ کوئی بھی ان کی اس خصوصیت سے انکار نہیں کرسکتا۔ ہندوستان بار بار انتخابات کروانے اور حکومتیں تبدیل کرنے کے لئے شہرت رکھتا ہے۔ کوئی بھی مودی کے دعوے پر اعتراض نہیں کرسکتا۔ ان کا دعویٰ غیر متنازعہ طور پر درست تھا۔ ہم آزاد عدلیہ میں یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ صحافت آزاد اور نڈر ہے لیکن یہ صرف جمہوریت کا دکھاوا ہیں کیونکہ اپنے دل میں انسانی حقوق کا احترام ہے۔
حکومت کے گزشتہ 6 سال میں بہت کچھ پیش آچکا ہے اور جمہوری بنیادی جذبہ کا احترام ابھرکر سامنے آیا ہے۔ ایمنسٹی اکثر ان کی باتوں کی پرزور تائید کرتی تھی۔
جموں و کشمیر میں کارروائی اور پولیس کی جانب سے دہلی میں فروری کے فسادات سے نمٹنا کے طریقہ پر ایمنسٹی نے اپنی آواز صیانتی افواج کی جانب سے استحصال کے خلاف اٹھائی تھی۔ انسداد دہشت گردی اور غداری کے قوانین اکثر ناراض افراد کو کچلنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ مسلح افواج (خصوصی اختیارات) قانون کی وجہ سے سکھوں کا قتل عام 1984 میں ہوا اور آزادیٔ تقریر ختم کردی گئی۔ جو افراد حکومت کی تائید کرتے تھے اور اس پر فخر کرتے تھے ان کے لئے یہ ایک کانٹا تھی لیکن اس سے عوام کی نمائندگی بھی ہوئی اور اس کے بعد انہیں احسان مند ہونا پڑا۔

میں ان الزامات کی تیز رفتاری پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا جو ایمنسٹی کے خلاف عائد کئے جاتے ہیں۔ اس پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے ہندوستانی قوانین میں کمی کردی اور مشتبہ جواز کی بنا پر مالیہ حاصل کیا۔ ایمنسٹی اس کا انکار کرنے پر مجبور ہوگئی تھی۔
مودی حکومت کا کہنا ہے کہ منموہن سنگھ کی زیر قیادت حکومت بھی ایمنسٹی کے خلاف کارروائی پر مجبور ہوگئی تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جانب داری یا سیاسی انتقام نہیں ہے۔ حکومت نے ایمنسٹی کو مالیہ فراہم کیا حالانکہ وہ اس کو تنقید کا نشانہ بناتی تھی لیکن مالیہ کی کمی کا شکار تھی۔ سادہ سے الفاظ میں میں کہنا چاہتا ہوں کہ چاہے یہ دلیل کی خاطر ہو آپ تسلیم کرتے ہیں کہ ایمنسٹی غلطی پر تھی؟ دانشمند جمہوریت محتاط طور پر غور کرتی ہے اور پھر کونسے اقدامات کرنے چاہئے اس کا فیصلہ کرتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ مسلح افواج کی جانب سے ایمنسٹی کی کارروائی دکان بند کردے گی اور انہیں تخلیہ کرنا پڑے گا۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت صرف ہمارا پختہ ارادہ ہی نہیں ہے بلکہ درحقیقت اس سے ہمیں آخر کار شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔

ایمنسٹی کو برخواست کرنے کی ضرورت ہے لیکن فضاء جو کبھی ہماری دہلیز پر ہے قیمتی ہے۔ درحقیقت اس کا متبادل موجود نہیں ہے کیونکہ یہ جو کارروائی کرتا ہے وہ ناقابل تبدیل ہے۔ یہ ہندوستان کے لئے خراج عقیدت ہے کہ ایمنسٹی نے دستبرداری کا فیصلہ کیا کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ اس طرح کئی ممالک شبہ میں مبتلا ہوگئے تھے۔ ایمنسٹی کے عزائم کیا ہیں؟ اور وہ پاکستان اور چین جیسے ممالک کے خلاف کارآمد ثابت نہیں ہوسکتی۔ اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایمنسٹی بہتر حالت میں ہے۔

اس مرحلہ پر ہمیں دوبارہ فخر کا اظہار نہیں کرنا چاہئے کہ ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں۔ یہ بات خود ہمیں نہیں کہنی چاہئے۔ ہم میں سے کئی افراد کو رہنماؤں پر کافی یقین ہے۔ کہا جاتا ہے کہ باقی دنیا کو امید ہے کہ انہیں ترغیب دی جاسکے گی لیکن دنیا کو یقین ہے کہ ہم نے ایمنسٹی کے ساتھ اور اس کے ساتھ منصفانہ اور مناسب رویہ اختیار کیا ہے۔ یا پھر وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایمنسٹی کو بار بار انکشافات کرنے کی سزا دی گئی ہے اور وہ ہندوستانی جمہوریت کا کھوکھلا پن برسر عام ظاہر کرتی رہی ہے۔ انسانی حقوق کے مسئلہ پر ایمنسٹی زیادہ بلند درجہ پر پہنچ گئی ہے جو حکومت ہند سے بھی اونچا ہے۔ میں صرف مودی حکومت کا حوالہ نہیں دے رہا ہوں بلکہ ان کے پیشرووں کا بھی حوالہ دیتا ہوں۔ خاص طور پر اندرا گاندھی کا، میں تسلیم کرتا ہوں کہ ایمنسٹی میں اپنی کوتاہیاں موجود ہیں۔

آخر کار اس کے بانی پیٹر بیننسن تھے جنہوں نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ 1966 میں ان کی تنظیم برطانوی دفتر خارجہ اور MI-6 کے امور میں دخل اندازی کررہی تھی لیکن چند افراد کو ان کی بات پر یقین آگیا اور 1977 میں ایمنسٹی نے نوبل امن انعام جیت لیا۔ سپاس نامہ کے الفاظ میں ’’ظلمت میں اجالا‘‘ لاکھوں قیدی ضمیر رکھتے تھے، یہ ایک صداقت ہے۔ اب یہ روشنی ہماری زندگیوں سے باہر نکل چکی ہے۔ ایسا 1948 میں پہلی بار ہوا تھا گاندھی کا قتل نئے آزاد ہند کو اپنے ضمیر سے محروم کرنے کی وجہ بنا۔ ایمنسٹی سے اخراج کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک آواز جو ہمیں یہ یاد دلاتی تھی کہ ہم اکثر اقدار میں کمی کے مجرم ہے ان آوازوں کو خاموش کررہے ہیں۔

اکثر یہ اعادہ کی آواز تھی لیکن ہمیشہ ضروری آواز رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کی بات سنی جاسکتی ہے اور اس بات کا دوبارہ یقین دلایا جاسکتا ہے کہ یہ ممالک جمہوریت کا ثبوت ہے حالانکہ بعض اوقات اس میں کوتاہی ہوتی ہے اور پیشرفت نہیں ہوسکتی۔ اس لئے ہم اس کو اب سننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس کو آسانی سے خاموش کردیا جائے گا اور ’’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘‘ کا صفایا ہوجائے گا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT