ہندوستان سے تعلقات میں مداخلت نہ کریں ، امریکہ کا انتباہ

   

گزشتہ پورے سال چینی فوج نے اپنی ہندوستانی سرحد کے بعض علاقوں کے ساتھ اپنی فورسز کی تعیناتی کو برقرار رکھا : پینٹاگان

واشنگٹن : امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ چین نے امریکی حکام کو خبردار کیا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں مداخلت نہ کریں۔ ہندوستان کے ساتھ سرحدی تعطل کے دوران، چین نے بحران کی شدت کو کم دکھانے کی بھی کوشش کی۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کانگریس کو فراہم کردہ اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ چین نے امریکی حکام کو اس بات کیلئے خبردار کیا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کسی بھی طرح کی مداخلت سے باز رہیں۔اس رپورٹ کے مطابق لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر ہندوستان کے ساتھ تعطل کے دوران، چینی حکام اس بحران کی شدت کو کم کر کے دکھانے کی بھی کوشش کرتے رہے۔لداخ سمیت دیگر سرحدی علاقوں میں چینی فوج کی تعیناتی کے حوالے سے پینٹاگون نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ چین اس لیے، سرحدی کشیدگی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ کہیں اس کی وجہ سے ہندوستان امریکہ کے ساتھ مزید قریبی شراکت داری نہ بڑھا لے۔ چینی حکام نے امریکی حکام کو خبردار بھی کیا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ چینی تعلقات کے حوالے سے مداخلت کرنے سے باز رہیں۔پینٹاگون کا کہنا ہے کہ گزشتہ پورے سال چینی فوج نے اپنی ہندوستانی سرحد کے بعض علاقوں کے ساتھ اپنے فورسز کی تعیناتی کو برقرار رکھا۔ اس کے ساتھ ہی سرحد پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا کام بھی جاری رہا۔ اس امریکی رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں ہندوستان اور چین کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں بہت کم پیشرفت ہوئی ہے، کیونکہ دونوں فریقوں کو یہ لگتا ہے کہ سرحد پر انہیں جو فوائد حاصل ہوئے ہیں، اس کا انہیں نقصان ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین اس تعطل اور کشیدگی کا ذمہ دارہندوستان کی جانب سے تعمیر کیے جانے والے بنیادی ڈھانچے کو قرار دیتا ہے، جو اس کی نظر میں چینی سرزمین کے اندر در اندازی ہے۔ ہندوستان بھی چین پر اپنی سرزمین کے اندر جارحانہ در اندازی شروع کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر ملک نے دوسرے کی افواج کے انخلاء اور تعطل سے پہلے کے حالات میں واپس جانے کا مطالبہ کر رکھا ہے، تاہم اب تک نہ تو چین اور نہ ہی ہندوستان نے ان شرائط پر عمل کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ واضح رہے کہ 2020 ء کے اوائل میں مشرقی لداخ میں ایل اے سی کے مختلف مقامات پر دونوں کے درمیان کشیدگی کا آغاز ہوا تھا اور پھر جون میں چینی اور ہندوستانی افواج کے درمیان خاردار ڈنڈوں، لاٹھیوں اور پتھروں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں۔ اس تصادم میں ہندوستان کے 20 فوجی جبکہ چین کے بھی کچھ فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔اسی واقعے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تعطل اور کشیدگی کے سبب دونوں جانب سے سرحدی علاقوں میں فورسز کی تعیناتی شروع ہوئی، جو اب بھی برقرار ہے۔ اس تصادم کے بعد سے ہی چینی فوج کی جانب سے بھی سرحد پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا کام جاری ہے۔چین اور ہندوستان کے درمیان کشیدگی کے سبب واشنگٹن اور نئی دہلی میں قربیتیں بھی بڑھی ہیں۔ اس وقت ہندوستان اور امریکہ کی فوجیں چین کے ساتھ ہندوستان کی متنازع سرحد کے پاس ایک سرد پہاڑی علاقے میں بلندی پر تربیتی مشقوں میں حصہ لے رہی ہیں۔ امریکہ اور ہندوستانی فوجی پہاڑی ریاست اتراکھنڈ کے اولی میں اس مقام پر فوجی مشقیں کر رہے ہیں، جو ایل اے سی کے بالکل پاس ہی ہے۔ ہندوستان کے حکومتی بیان کے مطابق، ان مشقوں کا نام ’یودھ ابھیاس‘ (جس کا لفظی ترجمہ جنگ کی تربیت) ہے۔