ہیرا گروپ کی سربراہ نوہیرہ شیخ کو ای ڈی نے گرفتار کرلیا

   

3000 کروڑ کی دھوکہ دہی میں گرو گرام سے حراست میں لیا گیا ۔ حیدرآباد میں جیل بھیج دیا گیا

حیدرآباد ۔ 22 ۔ مئی (سیاست نیوز) انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ حکام نے گروگرام سے ہیرا گروپ کی سربراہ نوہیرہ شیخ کو گرفتار کر لیا جس پر شبہ ہے کہ وہ 3000 کروڑ روپئے کے سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی کے معاملہ میں ملوث ہے۔نوہیرہ شیخ پر الزام ہے کہ اس نے ملک بھر میں تقریباً 1.72 لاکھ سرمایہ کاروںکو دھوکہ دیا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے بتایا کہ نو ہیرہ شیخ طویل عرصہ سے غائب تھیں اور گرفتاری سے بچنے کیلئے جعلی شناختیں اور تلبیس شخصی کیلئے تیار دستاویزات شیخ قمر جہاں کے نام سے استعمال کر رہی تھیں۔ انہیں 21 مئی کو ای ڈی اور ہریانہ پولیس کی مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں حیدرآباد لایا گیا۔یہ تفتیش تلنگانہ اور آندھرا پردیش پولیس کی درج کردہ ایف آئی آر کی بنیاد پر شروع ہوئی تھی۔ تحقیقات میں الزام ہے کہ نوہیرہ اور اْن کے ساتھیوں مولی تھامس، بیجو تھامس نے سرمایہ کاروں سے تقریباً 3000 کروڑ روپے جمع کئے اور سالانہ تقریباً 36 فیصد منافع کا وعدہ کیا تھا۔ ای ڈی حکام نے بتایا کہ وعدہ کردہ منافع کبھی ادا نہیں کیا گیا اور رقم نان ریزیڈنٹس (کئی خلیجی ممالک بشمول یو اے ای اور سعودی عرب میں رہنے والے) سے بھی جمع کرائی گئی۔ای ڈی کا کہنا ہے کہ ہیرہ گروپ کی کوئی حقیقی کاروباری سرگرمی موجود نہیں تھی اور سرمایہ کاروں کی رقم ذاتی کھاتوں میں منتقل کر کے نقل و حرکت اور غیر منقولہ جائیدادیں خریدنے میں استعمال کی گئی ۔ تحقیقات میں پتہ چلا کہ نوہیرہ نے 24 کمپنیاں قائم کیں اور ملک بھر میں 182 بینک اکاؤنٹس آپریٹ کئے ، جبکہ چند غیر ملکی بینک میں بھی رقمی لین دین رکھا۔ایجنسی نے اس سے قبل مبینہ طور پر حاصل شدہ غیر قانونی رقم سے متعلق کئی جائیدادیں ضبط کر رکھی تھیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر ان جائیدادوں کی نیلامی کا عمل شروع کیا گیا تھا اور سپریم کورٹ نے یہ ہدایت دی تھی کہ نیلام شدہ اثاثہ جات میں فوری ہیرا گولڈ کی سربراہ سیل ڈیڈ کے ذریعہ اپنے حق سے دستبردار ہوجائیں۔ تاہم ای ڈی کا الزام ہے کہ نوہیرہ بار بار نیلامی کے عمل میں تعاون میں ناکام رہیں اور اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششیں کیں۔ سپریم کورٹ نے ان کی ضمانت منسوخ کر دی اور انہیں ایک ہفتے میں خود سپردگی کی ہدایت دی۔عدالتی حکم کے باوجود وہ لاپتہ رہیں اور عدالتوں کو گمراہ کرتی رہی کہ ضمانت منسوخ ہونے کے بعد جیل حکام کے روبروم خود سپردگی اختیار کی تھی جو غلط ثابت ہوئی۔واضح رہے کہ حیدرآباد کی ایک خصوصی پی ایم ایل اے عدالت نے 7 مئی 2026 کو اس کے خلاف غیرضمانت وارنٹ جاری کیا اور تازہ کارروائی میں ای ڈی حکام نے نوہیرہ شیخ اور اس کے ساتھی سمیر خاں کا گروگرام پتہ لگایا ۔نوہیرہ شیخ کو ای ڈی حکام نے حیدرآباد منتقل کرکے عدالت میں پیش کیا اور بعد ازاں جیل بھیج دیا گیا۔بk/