یوم آزادی ہند

   

انصاف کی ڈگر پہ بچوں دکھائو چل کے
یہ دیش ہے تمہارا نیتا تم ہی ہو کل کے
آج ہمارے ملک ہندوستان کا یوم آزادی ہے ۔ آج ہم اپنے عظیم ملک ہندوستان کا 80 واں یوم آزادی منا رہے ہیں۔ سارے ملک میں حب الوطنی کا جذبہ دیکھا جا رہا ہے ۔ مختلف پروگرامس منعقد کئے جائیں گے ۔ جدوجہد آزادی کے شہیدوں کو یاد کیا جائے گا ۔ ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا ۔ ان کی خدمات کو یاد کیا جائے گا ۔ ملک کی آزادی کے تحفظ کے عہد کئے جائیں گے ۔ قومی ترنگا پرچم لہرایا جائے گا اور سارے ملک میں جو ش و خروش کا ماحول دیکھا جائے گا ۔ ویسے تو ہم ہر سال اپنے ملک کی آزادی کا جشن مناتے ہیں ۔ بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں اور کئی طرح کے عہد کئے جاتے ہیں لیکن ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آیا آج ہم اسی ہندوستان کی تعمیر کر بھی رہے ہیں یا نہیں جس کا خواب ہمارے مجاہدین آزادی نے دیکھا تھا ۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج کے آزاد ہندوستان میں سماج کے ہر طبقہ کو وہ مقام اور حقوق حاصل ہو بھی رہی ہیں یا نہیں جس کی گنجائش ہمارے مجاہدین آزادی اور دستور ہند کے معماروں نے فراہم کی تھی ۔ آج ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ آیا ملک میں نوجوانوں کو انصاف مل رہا ہے یا نہیں۔ ان کی تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں یا نہیں۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ آیا ملک میں خواتین کی عزت و ناموس کی حفاظت ہو رہی ہیں یا نہیں ۔ انہیں ترقی کے مساوی مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں یا نہیں۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ آیا اس ملک میں دلتوں اور پچھڑے ہوئے طبقات کو سماج میں ان کا جائز مقام دیا جا رہا ہے یا نہیں ۔ ساری صورتحال دیکھنے کے بعد ہمیںافسوس ہوتا ہے کہ ہمارے مجاہدین آزادی نے جس ہندوستان کی تعمیر کا خواب دیکھا تھا ہم اس ہندوستان سے اب بھی کوسوں دور ہیں اور مجاہدین آزادی کے خواب آج تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوپائے ہیں۔ ہمیں افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے نوجوانوںکو اپنے حقوق آج بھی جدوجہد کے ذریعہ مانگنے پڑ رہے ہیں اور اس کے باوجود انہیں خوفزدہ کیا جا رہا ہے اور دھمکایا جا رہا ہے ۔
ہمیں اس بات کو ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے مجاہدین آزادی نے اس ملک کیلئے اپنی جانیں تک قربان کرنے سے گریز نہیں کیا تھا ۔ ہنستے ہنستے انگریزی سامراج کے مظالم سہے تھے اور جانیں قربان کردی تھیں لیکن آج افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں چھوت چھات کا اور ذات پات کا نظام اب بھی برقرار ہے ۔ ایک سیاسی جماعت کے صدر اگر کسی مقام پر جلسہ کرتے ہیں تو بعد میں اس کو گنگا جل سے دھویا جاتا ہے ۔ افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم اور روزگار کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کرنے والی ہماری بیٹیوںکے ساتھ انتہائی غیرشائستہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے ۔ ہمیں افسوس ہوتا ہے کہ روزگار اور تعلیم کے حق کا مطالبہ کرنے والے نوجوانوں اور طلباء پر لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں۔ ان کے خلاف پیلٹ گنس اور اے کے 47 کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ نوجوانوں کی نگرانی کرتے ہوئے انہیں خوفزدہ کیا جاتا ہے ۔ انہیں جیلوں میں بند کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ احتجاج کرنے والی خواتین اور لڑکیوںکو عصمت ریزی کی دھمکی دی جاتی ہے اور ان کی زندگیوںکو اجیرن بنادیا جاتا ہے ۔ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ آج ملک میںلباس دیکھ کر حب الوطن اور ملک دشمن کا امتیاز کیا جاتا ہے اور ملک کی دوسری بڑی آبادی کے تعلق سے سماج کے دیگر طبقات میں زہر افشانی کی جاتی ہے ۔ سماج کو ایک جٹ اور متحد کرنے کی بجائے ان میں نفاق پیدا کیا جاتا ہے ۔
ملک کے نوجوانوں نے گلیوںاور سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرتے ہوئے سماج میں ایک نئی سوچ کو جگہ دی ہے ۔ ایک نیا حوصلہ پیدا کیا ہے ۔ یہ واضح کردیا ہے کہ حقوق منوانے کیلئے پرامن احتجاج ایک بہترین راستہ ہے ۔ آج یوم آزادی ہند کے موقع پر ہمیں عہد کرنا چاہئے کہ ہم ہر قیمت پرا پنے ملک اور ملک کی آزادی کی حفاظت کریں گے ۔ اس ہندوستان کی تعمیر کیلئے جدوجہد کریں گے جس کا خواب ہمارے مجاہدین آزادی نے دیکھا تھا اور سماج میں ہر طبقہ کے ساتھ مساوی انصاف کو یقینی بنایا جائے گا ۔