یوپی میں الیکشن جیتنے یوگی حکومت خواتین کو دے گی پچاس پچاس ہزار روپئے

   

روش کمار
کیا بی جے پی کو اس بات کا ڈر ہے کہ رام مندر میں چندہ چوری سے 2027ء کے اسمبلی انتخابات میں اسے اپوزیشن پریشان کرسکتی ہے؟ یہاں تک کہ اپوزیشن مندر مسئلہ کے نتیجہ میں بی جے پی کو شکست سے دوچار کرسکتی ہے؟ یہ سوالات اس لئے پیدا ہورہے ہیں کیوں کہ یوگی حکومت اب خواتین کو کاروبار شروع کرنے کے لئے 50 پچاس ہزار روپئے کی رقم دے رہی ہے۔ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کی زیرقیادت یوپی کی بی جے پی حکومت نے مالی مدد کے نام پر خواتین کو رقم دینے جارہی ہے اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا مگر یہ خبر اب کئی جگہوں پر شائع ہوچکی ہے کہ یوپی کی خواتین کو پہلی قسط میں ہی 20 ہزار روپئے دیئے جائیں گے اور اس کے بعد 10 دس ہزار تین اقساط میں دیئے جائیں گے۔ یوپی حکومت کی طرف سے ان خبروں کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ خواتین کے پاس اس پیسے کو لے کر بزنس کے کیا منصوبے ہیں، پتہ نہیں۔ حکومت کے پاس خواتین کے لئے کیا پلان ہے کہ وہ اس رقم سے کاروبار کرسکیں گی یا نہیں۔ عام طور پر حکومت مدرا لون دے کر چھوٹے بیوپاریوں کو مدد کا دعویٰ کرتی ہے۔ اس مدرا لون کے رہتے خواتین کو الگ سے 50 ہزار روپئے کیوں دیئے جارہے ہیں؟ دوسری طرف اپوزیشن ہر دن پارلیمنٹ کے باہر ایسے پوسٹر لے کر آتا رہا کہ چندہ کس نے لوٹا، سماج وادی پارٹی کے تمام ارکان نے اس موضوع کو پارلیمنٹ کے اندر تک پہنچادیا۔ کانگریس اور ترنمول کانگریس کے ارکان پارلیمان بھی نعرے لگاتے رہے کہ چندہ چور گدی چھوڑ۔ پرینکا گاندھی نے کہاکہ رام مندر بنانے کے لئے ملک کے عوام نے چندہ دیا تھا، افتتاح کرنے وزیراعظم نریندر مودی گئے تو ان ہی کو اس کا جواب دینا چاہئے۔ اپوزیشن ارکان پارلیمان کئی دنوں سے پارلیمنٹ کے احاطہ میں چند جمع کررہے تھے، اس پیسے کا عطیہ یا چندہ دہلی کے ہنومان مندر کو دے دیا گیا ہے۔ حکومت کے خزانہ میں بھی پیسہ عوام کا ہے اب اسے لُٹانے کی تیاری چل رہی ہے، کیا اِسی لئے ایودھیا کو لے کر بی جے پی پھنس گئی ہے۔ 2024ء میں ایودھیا کی نشست ہار گئی، اسے شرمندہ ہونا پڑا اور 2027ء کے لئے بی جے پی کو لگ رہا ہے کہ مندر کا موضوع اس مرتبہ اپوزیشن کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔ وہ چندہ چوری اور ٹرسٹ کے پیسے سے ایودھیا میں کروڑوں روپئے سے زمین کی خریدی کا حساب مانگنے لگے گا تو اس سے پہلے ہی خواتین کے کھاتے میں 50 ہزار روپئے بھیج کر مسئلہ غیر اہم کردیتے ہیں۔ اس موضوع کے جواب میں بی جے پی اپنے دس سال کی ترقی بھی تو دکھا سکتی ہے۔ کیا وہ کافی نہیں؟ یا دس سال بعد دکھانے لائق ترقی ہی نہیں ہوئی۔ اگر ووٹ لینے کے لئے پچاس ہزار روپئے تقسیم کرنے پڑے پھر 11 ہزار کروڑ لگاکر نوئیڈا کے پاس ایرپورٹ بنانے کا کیا فائدہ۔ 2021ء میں کشی نگر انٹرنیشنل ایرپورٹ کا افتتاح کیا گیا تب اسے لے کر پورانچل کے عوام کو بہت سے خواب دکھائے گئے مگر اب یہی ایرپورٹ ٹھپ پڑا ہے۔ اڑان یوجنا کے تحت خواب دکھانے کے لئے جیسے ویسے ایرپورٹ بنادیئے گئے جن میں سے اب کئی بند ہیں یا پروازیں وہاں یکا دکا رہ گئی ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ اترپردیش میں اتنی زیادہ اقتصادی سرگرمیاں نہیں ہورہی ہیں جن کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ لکھنؤ ۔ کانپور اکسپریس کی مثال آپ کے سامنے پیش ہے۔ افتتاح کے ایک ماہ کے اندر ہی اس پر 60 سے زیادہ گڈھے بن گئے جگہ سڑک دھنسنے کی خبر آگئی۔ دو ہفتہ بھی یہ اکسپریس وے نہیں چل پایا اور اس کو درست کروانا پڑگیا۔ ابھی تک اس اکسپریس وے کو بنانے والی کمپنی کے یہاں ای ڈی یا سی آئی ڈی نے چھاپے نہیں مارے ہیں تو جو انفراسٹرکچر ترقی کی علامت تھا لگتا ہے اس الیکشن میں کرپشن اور رشوت خوری کی علامت بننے جارہا ہے۔ یہ دور مصنوعی ذہانت کا ہے۔ یوپی اور بہار ہندوستان کی دو بڑی آبادی والی ریاستیں ہیں جن میں AI کو لے کر کیا تیاری ہورہی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ بہار الیکشن کے وقت بی جے پی نے وعدہ کیا تھا کہ بہار کو AI کا ہب بنادیں گے۔ کیا ہورہا ہے؟ اسی سال یوگی آدتیہ ناتھ نے کہاکہ یوپی میں اے آئی یونیورسٹی بنے گی۔ اے آئی پارک بنائے جائیں گے۔ ان سب معاملوں میں کیا ہورہا ہے، ان پر الیکشن کیوں نہیں ہورہا ہے۔ دوسری طرف دنیا بھر میں لوگوں کے کام کے کرنے کا طریقہ بدل رہا ہے۔ کمپنیوں میں سیل اسٹاف سے لے کر ڈیولپر تک کے کام کرنے طریقوں میں اے آئی ٹولس نے تیزی سے اپنی جگہ بنالی ہے۔ سیل سے جڑے لوگ تو AI کی مدد سے اپنی رپورٹ بنانے اور صحیح کمپنی کا پتہ لگانے میں کافی آگے نکل چکے ہیں۔ دس دس DASH BOARD سنبھالنے کی بجائے AI پہلے ہی آپ کی رپورٹ تیار کردیتا ہے جہاں اتنے AI ٹولس اور اپ ڈیٹ ہیں وہاں یہ سمجھ پانا ہی مشکل ہے کہ چیاٹ جی پی ٹی سیکھیں یا کلاؤڈ یا چمینائی، کوڈیزس اور ایجنٹس بہتر ہیں۔ یوپی میں ڈبل انجن کی حکومت رہی۔ 2014ء سے مودی حکومت کو بھی یوپی کی حکومت کا ایک انجن بتایا گیا۔ 2017ء سے یوگی آدتیہ ناتھ چیف منسٹر ہیں لگتا ہے اس ڈبل انجن میں اس بار 50 ہزار روپئے E-20 ملایا جانے والا ہے۔ یوپی نے مذہب کو بھی روزگار کا ایک شعبہ بناکر مذہبی اسکیمات پر جم کر پیسے خرچ کئے۔ ایودھیا کی دیوالی پر کروڑوں روپئے بہائے گئے۔ کمبھ کے انتظام پر ہزاروں کروڑوں روپئے خرچ کئے گئے، سب کا کیا نتیجہ نکلا۔ یوم آزادی کی جھانکیوں کو دیکھئے 2022ء میں کاشی وشواناتھ کاریڈار کی جھانکی، 2024ء میں پران پتیشتٹھا کی جھانکی اور 2025ء میں مہا کمبھ کی جھانکی مندر کے ساتھ ساتھ ایرپورٹ اور فیاکٹری کو بھی رکھا جاتا رہا۔ یہ بتانے کے لئے کہ مذہب اور ترقی ملکر یوپی کو آسمان پر پہنچادیں گے۔ کمبھ کے وقت اخبارات میں کتنی رپورٹس شائع ہوئیں کہ ریکارڈ سیاحت ہورہی ہے اور وہی کمبھ بھگدڑ اور افراتفری کا شکار ہوگیا۔ مذہب اور ترقی کو ملاکر فارمولا بنایا گیا لیکن اب اس فارمولے میں 50 ہزار روپئے کا E-20 بانٹنے کا عنصر جوڑا جارہا ہے کیوں کہ رام مندر میں ڈکیتی ہوگئی ہے اور ترقی سے لوگوں کو بھلا نہیں ہوا، اتنا جتنا خواب دکھایا گیا۔ مذہب کے شعبہ میں ہزاروں کروڑ خرچ کرنے کے بعد کتنے روزگار پیدا ہوئے یا دو چار باباؤں کو ہی فائدہ پہنچا کسی بات کی کوئی آڈٹ نہیں۔ اگر روزگار پیدا ہوا ہے تو تب کیوں الیکشن جتنے کے لئے پیسے بانٹنے کی ترکیب نکالی جارہی ہے۔ 2024ء میں پران پتیشٹھا سے پہلے اسی طرح کی خبروں سے ماحول بنایا گیا۔ رام مندر کے افتتاح سے یو پی 4 لاکھ کروڑ سے زائد کی مالک ہوجائے گی۔ ایس بی آئی ریسرچ میں یہ بات بتائی گئی۔ آخر کہاں ہے اس طرح کی ریسرچ کرنے والے پیپر تیار کرنے والے؟ ریسرچ کرنے والا دانشور بتائے کہ چار لاکھ کروڑ روپئے کا فائدہ ہوا ہے یا نہیں۔ اب تو اس مندر میں چڑھاوے میں ڈکیتی ہوگئی۔ چندہ چوری کے بعد سے رام مندر میں لوگوں کے درشن اور چڑھاوے میں کمی کی خبریں آنے لگیں۔ ایودھیا میں ہی کتنا روزگار پیدا ہوا ایک ضلع کا سروے آنا کیا کوئی بہت مشکل کام ہے، ابھی تک بتادیا جاسکتا تھا لیکن یہ بھی صاف نہیں کہ SIT کی تحقیقات میں کیا سامنے آیا ہے۔ رپورٹ عام قسم کی نہیں۔ چمپت رائے کو لے کر ابھی تک خبریں آرہی ہیں کہ ان کا رویہ جیسے کا ویسا ہے۔ جب چندہ چوری پکڑی گئی تب ہی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا اس موضوع پر بیان بازی نہیں ہونی چاہئے تب کس موضوع یا مسئلہ پر بیان بازی ہونی چاہئے۔ ترقی پر بیان بازی ہوتی مگر اب الیکشن 50 ہزار روپئے سے لڑا جارہا ہے۔ الیکشن سے پہلے 50 ہزار روپئے خواتین کے کھاتے میں جمع کروانا یا تقسیم کرنا کچھ اور بھی کہتا ہے جس ریاست کے رائے دہندوں کے ایک حصہ کو مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آندھی میں جھونکا گیا ان کی خوشی کے لئے کسی مسلمان کے گھر پر بلڈوزر چلادیا گیا۔ اب اسی ووٹر سے ووٹ لینے کے لئے 50 ہزار روپئے بھی دینے پڑیں گے۔ ہم نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ سیاست میں مذہب کا استعمال جب جب ہوتا ہے عوام کا ضمیر مرجاتا ہے۔ مذہب کا نقصان تو ہوتا ہی ہے سیاست کی بھی بھیانک حالت ہوجاتی ہے لیکن دونوں کا اس سے زیادہ خرابی نہیں ہوسکتی کہ جس یوپی میں ان ہی دو موضوعات چھا ئے رہے ہیں اس کے دم پر بی جے پی اپوزیشن کو للکارتی رہی ہے اب وہی بی جے پی 50 ہزار روپئے خواتین کے کھاتے میں جمع کروانے جارہی ہے تاکہ ووٹ مل جائے۔ ہندوستان میں فرقہ واریت کی سیاست نے سب سے زیادہ ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمان بنائے ہیں کسی اور دوسرے مسئلہ نے نہیں لیکن اب وہی سیاست لگتا ہے چل نہیں پارہی ہے پٹھ گئی ہے اسے چلائے رکھنے کے لئے فرقہ واریت کو TRANSACTIONAL بنایا جارہا۔ مطلب نفرت کریں گے لیکن صرف نفرت سے کام نہیں چلے گا ووٹ تب دیں گے جب 50 ہزار روپئے ملیں گے۔