مسرت کے سندیسے لائیگی پھر
ہوا باغ وطن کی جب چلے گی
اب جبکہ ملک میں تہواروں کا سیزن چل رہا ہے اور عوام دسہرہ تقاریب منانے میں مصروف ہیں ‘ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج میں وقفہ آگیا تو کانگریس نے اس دوران اترپردیش کی حکمت عملی تیار کرنے پر توجہ مرکوز کردی ہے ۔ کانگریس پارٹی اس بار اترپردیش میں بہتر مظاہرہ کیلئے کمر کس رہی ہے اور اپنی تیاریوں میں کسی طرح کی کسر باقی رکھنا نہیں چاہتی ۔ پارٹی کافی وقت سے صورتحال کا جائزہ لے رہی تھی اور اپنی کمزوریوںا ور اپنی طاقت دونوں کا جائزہ لے رہی ہے ۔ پارٹی کے ریاستی قائدین سے مشورہ کرتے ہوئے ان کی رائے بھی حاصل کی گئی ہے اور زمینی حقائق ‘ ملک کے موجودہ سیاسی ماحول اور بی جے پی کو شکست دینے کے منصوبوں کا بغور جائزہ لیا گیا ہے ۔ اس سلسلہ میں سماجوادی پارٹی کے ساتھ نشستوں کی تقسیم پر بات چیت کے تعلق سے بھی منصوبہ بندی کرلی گئی ہے ۔ ریاستی قائدین کے حالیہ عرصہ میں کچھ بیانات ایسے تھے جن سے کچھ الجھن پیدا ہو رہی تھی ۔ اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے کانگریس نے فوری سرگرمی دکھائی ۔ اترپردیش کے قائدین پر یہ واضح کردیا گیا ہے کہ سماجوادی پارٹی کے ساتھ نشستوں کی تقسیم پر مذاکرات میں پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا اہم رول نبھائیں گی ۔ وہ اس مسئلہ پر سماجوادی صدر اکھیلیش یادو سے مذاکرات کریں گی ۔ اس طرح مقامی قائدین کو کسی طرح کے تبصرے اور ریمارکس کرتے ہوئے اتحادی حلقوں میں الجھن پیدا کرنے کا کوئی موقع نہیں ملے گی ۔ اس کے علاوہ پارٹی کے موقف میں کسی طرح کی نرمی یا لچک پیدا کرنے کے تعلق سے بھی فوری اور ضرورت کے مطابق رفیصلہ ممکن ہوسکتا ہے ۔ یہ اقدامات آئندہ یو پی اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں کانگریس کی سنجیدگی کو واضح کرتے ہیں اور اس سے الجھن اور اختلاف پیدا ہونے کے امکانات اور اندیشے کم سے کم ہو جائیں گے ۔ اس کے علاوہ ریاستی قائدین میں بھی جوش و جذبہ کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے ۔ انہیں انتخابی مہم میں زور و شور سے شامل کیا جاسکتا ہے ۔
کانگریس پارٹی انتخابات سے قبل جس طرح کی تیاریوں میں مصروف ہونے کی اطلاعات ہیں ان سے پارٹی کی سنجیدگی کا پتہ چلتا ہے اور یہ تاثر عام ہونے لگا ہے کہ اس بار واقعتا کانگریس سنجیدگی کے ساتھ تمام پہلووں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مقابلہ کرنے والی ہے اور وہ کسی طرح کی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرے گی ۔ اس کے علاوہ وہ سماجوادی پارٹی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ مفاہمت اور سمجھوتہ میں کسی الجھن کی گنجائش بھی باقی رکھنا نہیں چاہتی ۔ اس کے علاوہ سماجوادی پارٹی کی جانب سے بھی ریاست میں صورتحال کے مطابق جو تیاریاں کی جا رہی ہیں وہ بھی قابل لحاظ کہی جاسکتی ہیں۔ گذشتہ لوک سبھا انتخابات میں جس طرح سے سماجوادی پارٹی کو کامیابی ملی تھی اس کو دیکھتے ہوئے پارٹی کے کیڈر اور کارکنوں میں جوش و خروش پایا جاتا ہے ۔ ریاست کے عوام میں بھی اس بار تبدیلی کی لہر محسوس ہونے لگی ہے ۔ لوگ تبدیلی کی سمت راغب ہو رہے ہیں ۔ عوام میں بی جے پی کی ریاستی اور مرکزی دو نوں ہی حکومتوں کے تعلق سے ناراضگی اور بے چینی پائی جاتی ہے ۔ اس صورتحال میں کانگریس اور سماجوادی پارٹی کی جانب سے حالات کے مطابق اپنی اپنی تیاریوں کا آغاز خوش آئندہ کہا جاسکتا ہے اور پارٹی کارکنوں اور کیڈر میں جوش و خروش کو بنائے رکھنے اور کسی الجھن یا غلط فہمی کے بغیر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ توقعات کے مطابق نتائج حاصل کئے جاسکیں ۔
کانگریس پارٹی نے جس طرح سے اترپردیش کے امور کیلئے پرینکا گاندھی پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہ بھی پارٹی کے حق میں بہتر ہوسکتا ہے ۔ قائد اپوزیشن کی حیثیت سے راہول گاندھی کی ذمہ داریاں سارے ملک پر محیط ہوگئی ہیں اور وہ ان میں سرگرم بھی ہیں۔ ایسے میں اختیارات کے ساتھ ریاست کیلئے کسی ذمہ دار نگران کی ضرورت تھی جسے پرینکا گاندھی بخوبی پوری کرسکتی ہیں۔ کانگریس کو آئندہ بھی انتہائی ذمہ دارانہ انداز میں حکمت عملی بنانے اور انتخابی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہوگی ۔