حیدرآباد۔ 7 اکتوبر( ایجنسیز)آئی آئی ٹی حیدرآباد نے ایس اینڈ پی گلوبل کے اشتراک سے اے آئی انوویشن لیب قائم کیا ہے۔ اس لیب کا مقصد مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبہ میں مالیاتی صنعت سے متعلق حقیقی مسائل پر تحقیق، عملی تربیت اور جدید حل تیار کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ لیب کا افتتاح چہارشنبہ 7 اکتوبر کو کیا گیا۔اے آئی انوویشن لیب کے ذریعہ طلبہ اور فیکلٹی کو مالیاتی شعبہ میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال پر کام کرنے کا موقع ملے گا۔ طلبہ صنعت سے متعلق مختلف چیلنجز پر منصوبہ تیار کرسکیں گے، ورکشاپس میں شرکت کریں گے اور ایس اینڈ پی گلوبل کے ماہرین سے براہ راست استفادہ کرسکیں گے۔اس اقدام کے تحت منتخب طلبہ اور فیکلٹی ممبران کو ایس اینڈ پی گلوبل کے ساتھ مشترکہ تحقیق میں حصہ لینے کا موقع بھی فراہم کیا جائے گا۔ تحقیق میں مصنوعی ذہانت اور مالیاتی شعبہ سے متعلق مختلف موضوعات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔لیب طلبہ کو ایسے حل تیار کرنے اور ان کے نمونے (Prototype) بنانے کا پلیٹ فارم بھی فراہم کرے گی، جنہیں حقیقی صنعتی مسائل کے حل کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ اس کے ذریعے طلبہ یہ سمجھ سکیں گے کہ اے آئی پر مبنی نظام کس طرح تیار، جانچے اور صنعتی ماحول میں نافذ کیے جاتے ہیں۔مالیاتی شعبہ میں اے آئی کے ممکنہ استعمالات میں مالیاتی معلومات کا تجزیہ، مختلف رجحانات اور پیٹرن کی نشاندہی اور فیصلہ سازی میں معاونت شامل ہیں۔ لیب کا مقصد طلبہ کو محض نظری تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اور صنعت پر مبنی تجربہ فراہم کرنا ہے۔یہ لیب آئی آئی ٹی حیدرآباد اور ایس اینڈ پی گلوبل کے درمیان وسیع تر تعاون کا حصہ ہے۔ اس پروگرام کا مقصد افرادی قوت کی تیاری اور اے آئی کی تعلیم کو فروغ دینا ہے جس کیلئے تین سال کے دوران 10 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا ہے۔سال 2008 میں قائم ہونے والے آئی آئی ٹی حیدرآباد میں انجینئرنگ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں تعلیم و تحقیق جاری ہے۔ ادارے میں روبوٹکس، انٹیلیجنٹ سسٹمز، کمپیوٹیشنل انجینئرنگ، صحت، توانائی، سیمی کنڈکٹرز اور کوانٹم ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں تحقیق کی جارہی ہے۔نئی اے آئی انوویشن لیب کے قیام سے مصنوعی ذہانت اور مالیاتی شعبہ کے درمیان تحقیق و صنعت کے تعاون کو فروغ ملنے کی توقع ہے جبکہ طلبہ کو تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی اور صنعتی تجربہ حاصل کرنے کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔