حکومت کیوں خوفزدہ ہے ؟

   

مجھے خود بھی نہیں معلوم کب سے
مرے دل میں مرا دشمن چھپا ہے!
جس وقت سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کا آغاز ہوا ہے اور ان کے تعلق سے یہ رپورٹس سامنے آ رہی ہیں کہ انہوں نے بی جے پی کو فائدہ پہونچانے کیلئے اپنے عہدہ کا بیجا استعمال کیا ہے اور دو ساتھی الیکشن کمشنران کی رائے کو اہمیت نہیں دی اور من مانی طور پر یکطرفہ فیصلے کئے ہیں ایسا لگتا ہے کہ مرکزی حکومت خود بھی خوف کا شکار ہوگئی ہے ۔ اسے شائد کئی اندیشے لاحق ہوگئے ہیں۔ یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ حکومت کی جانب سے گیانیش کمار کے خلاف ہونے والے ہر احتجاج کو روکنے اور رکاوٹیں پیدا کرنے پر ساری توانائی صرف کی جا رہی ہے ۔ جس طرح سے بی جے پی کے ترجمان اور دیگر قائدین اپوزیشن کو تنقیدوں کا نشانہ بنا رہے ہیں اور الیکشن کمیشن کی مدافعت میں میدان میں اتر آئے ہیں اس سے بھی یہ اشارے مل رہے ہیں کہ خود حکومت اس معاملے میں خوف کا شکار ہوگئی ہے اور وہ کئی اندیشوں میں مبتلا ہو کر احتجاج کو روکنے اور اسے خاموش کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے جہاں دہلی کے جنتر منتر پر نوجوانوں اور طلباء کو داخلہ دینے سے روکا جا رہا ہے وہیں آج اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے دفتر تک مارچ کو بھی روکا گیا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کو کمیشن کے دفتر تک جانے سے روکا گیا ۔ قائد اپوزیشن راہول گاندھی کو تو گھر سے باہر نکلنے سے بھی روکنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم وہ باہر نکل گئے اور انہوں نے اپوزیشن کے احتجاج کی قیادت کی ۔ ملک کے نوجوانوںاور طلباء کو اہمیت کے حامل مسائل پر احتجاج کرنے اور اپنی ناراضگی جتانے کا حق حاصل ہے ۔ دہلی میں جنتر منتر کا جو مقام ہے اسے احتجاج کیلئے ہی مختص کیا گیا ہے ۔ اس کے باوجود وہاں پر امن احتجاج کی اجازت دینے سے گریز کرنا حکومت کے ڈر کو ظاہر کرتا ہے ۔ ساتھ ہی اپوزیشن ایم پیز کو روکنا بھی اسی جانب اشارہ کرتا ہے کہ حکومت خوفزدہ ہے ۔ حکومت کے اقدامات مسلسل اس کے اندیشوں کو عوام پر ظاہر کرنے لگے ہیں۔
گاندھی جینتی کے دن سے دہلی میںاحتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور اس سے پہلے ہی سے جنتر منتر کو حکومت کی جانب سے عملا بند کردیا گیا ۔ وہاں تہہ در تہہ رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں اور احتجاج کیلئے پہونچنے والے طلباء اور نوجوانوںکو حراست میں لیا جا رہا ہے ۔ کئی کیلومیٹر دور لیجا کر انہیں چھوڑا جا رہا ہے ۔ انہیں بسوں میں بھر بھر کر منتقل کیا جا رہا ہے ۔ اسی طرح آج جب ارکان پارلیمنٹ قائد اپوزیشن کی قیادت میں احتجاج کیلئے پہونچے تو انہیں بھی روکنے کی کوشش کی گئی ۔ ان کی راہ میں بھی رکاوٹیں کھڑی کردی گئی تھیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپوزیشن کے انتہائی ذمہ دار قادئین کو ارکان پارلیمنٹ کو اور قائد اپوزیشن کو ایک مارچ سے روکنے کا جواز ہی کیا پیدا ہوتا ہے ؟ ۔ کسی طرح کے لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ بھی پیدا نہیں ہوتا اور نہ کسی تشدد کے اندیشے لاحق ہوتے ہیں ۔ آج مارچ کرنے والے ملک کے قانون بنانے والے افراد تھے ۔ ان کو روکنے کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ۔ جہاں تک طلباء کی بات ہے تو ان طلباء اور نوجوانوں نے دھرمیندر پردھان کے مسئلہ پر ایک ماہ سے زیادہ وقت تک احتجاج کیا تھا اس دوران بھی انہوں نے امن و امان کو برقرار رکھا تھا اور کسی طرح کے تشدد کا کوئی موقع نہیں دیا تھا ۔ ان مثالوں کے موجود رہتے ہوئے احتجاج سے روکنے کی کوشش کرنا اور احتجاج کیلئے مختص مقام ہی پر رکاوٹیں کھڑی کردینا حکومت کے خوف اور اس کو جو ڈر لاحق ہوگیا ہے اسی کو ظاہر کرنے کے مترادف ہے ۔
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے ۔ یہاں جمہوری اصولوں کے تحت دستور اور قانون کے دائرہ میںرہتے ہوئے ملک کے عوام کو ‘ اپوزیشن کے قائدین کو ‘ ارکان پارلیمنٹ کو اور نوجوانوںکو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے ۔ حکومت طاقت اور پولیس کا استعمال کرتے ہوئے کسی کو بھی اس حق سے محروم نہیںکرسکتی ۔ الیکشن کمیشن کو کسی طرح کی یادداشت پیش کرنے اور اس سے سوال کرنے سے کسی کو روکا نہیں جانا چاہئے ۔ اگر روکا جاتا ہے تو جو شبہات ظاہر کئے جا رہے ہیں وہ یقین میں بدل جائیں گے ۔