l پولیس نے گھسیٹ کر حراست بسوں میں ڈھکیلا
l آکاش وانی بھون میں انجام دی گئی کارروائی
l سینکڑوں کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا
l رات 10 بجے پولیس اسٹیشن سے رہائی عمل میں آئی
l کسی ’ غدار ‘ کو بخشا نہیں جائے گا ۔ راہول کا اعلان
نئی دہلی 6 اکٹوبر ( ایجنسیز ) دارالحکومت دہلی میں آج شام زبردست ڈرامائی صورتحال دیکھی گئی جب چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف بطور احتجاج آکاش وانی بھون میں سٹ ۔ ان احتجاج پر بیٹھے قائد اپوزیشن راہول گاندھی ‘ رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا ‘ کانگریس کے دیگر ارکان پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال ‘ پون کھیڑا اور دوسروں کو پولیس نے بزور طاقت حراست میں لے لیا ۔ راہول گاندھی نے آج چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ کے مارچ کی قیادت کی تھی ۔ اپوزیشن ارکان کو الیکشن کمیشن کے دفتر پہونچنے سے روک دیا گیا تھا جس کے بعد راہول گاندھی ‘ پرینکا گاندھی ‘ کے سی وینوگوپال ‘ پون کھیڑا اور دوسرے آکاش وانی بھون پہونچ کر وہاں بیٹھ گئے تھے ۔ ان کے ساتھ سینکڑوں کی تعداد میں پارٹی کارکن اور حامی بھی موجود تھے ۔ شام ڈھلنے تک بھی یہ قائدین وہیں موجود رہے اور الیکشن کمیشن سے ملاقات کا مطالبہ دہراتے رہے ۔ پولیس نے کئی مواقع پر ان تمام کو اپنا سٹ ان احتجاج ختم کرنے کی ترغیب دینے کی کوشش کی تاہم وہ ناکام رہے ۔ رات کے وقت پولیس کی بھاری جمیعت وہاں موجود تھی اور اعلی عہدیدار بھی وہاں پہونچ گئے اور انہوں نے ابتداء میں سمجھانے کی کوشش کی تاہم بعد میں راہول گاندھی ‘ پرینکا گاندھی اور دوسرے افراد کو بزور طاقت حراست میں لے لیا ۔ پولیس عہدیدار انہیں اٹھا کر لے گئے ۔ کہا گیا ہے کہ تقریبا 300 افراد کو اس موقع پر حراست میں لیا گیا ہے ۔ پولیس نے راہول گاندھی ‘ پرینکا گاندھی اور دوسروں کو کنگس وے کیمپ منتقل کیا ۔ ایک پولیس اسٹیشن لانے کے بعد ان تمام کی رہائی بھی عمل میں آگئی ۔ حراست میں لئے جانے کے کئی ویڈیوز منطر عام پر آئے جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ راہول اور پرینکا گاندھی کو پولیس عملہ کھینچ کر اور گھیسٹتے ہوئے بسوں میں ڈال رہا ہے ۔ کانگریس ورکرس کی جانب سے پولیس کو روکنے کی کوشش کی گئی ۔ کہا گیا ہے کہ کنگس وے کیمپ پولیس اسٹیشن سے ان کی رات 10 بجے رہائی عمل میں آئی ۔ اپنی رہائی کے بعد قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے اعلان کیا کہ وقت آنے پر کسی بھی غدار کو بخشا نہیں جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے غداروں کو بچانے کیلئے جمہوریت کے اصولوں کو داغدار کیا جا رہا ہے ۔ تاہم ظلم کے اس دور کا خاتمہ ہوگا اور کسی ایک بھی غدار کو معاف نہیں کیا جائے گا ۔ راہول اور پرینکا گاندھی کو حراست میں لئے جانے سے قبل کانگریس ذرائع نے کہا کہ پارٹی نے ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر دو الیکشن کمشنران سے ملاقات کا وقت طلب کیا ہے ۔ پارٹی نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن سے کوئی عہدیدار آئے اور ہمیں یہ تیقن دے کہ آئندہ ایک یا دو دن میں یہ ملاقات ہوسکتی ہے تو پھر راہول گاندھی اپنا سٹ ان احتجاج ختم کرسکتے ہیں۔ تاہم ان کی شرط یہی ہے کہ تمام 300 ارکان پارلیمنٹ اس ملاقات میں موجود رہیں گے ۔ رات 9 بجے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کمیشن نے کہا کہ مروجہ طریقہ کار کے مطابق پارٹیوں کو وقت طلب کرنا پڑتا ہے اور ایک ملاقات مقررہ وقت پر ہوسکتی ہے ۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ منگل کی شام 4 بجے تک اسے وقت طلب کرنے کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی تھی ۔ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کو حراست میں لئے جانے کے ویڈیوز سوشیل میڈیا پر بہت تیزی سے وائرل ہونے لگے اور کئی گوشوں نے اس حراست کی مذمت کی اور کہا کہ راہول گاندھی خود کیلئے کوئی لڑائی نہیں لڑ رہے ہیں بلکہ ملک کے عوام کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اور ملک کے عوام کو ان کا ساتھ دینا چاہئے ۔