پارلیمنٹ ہاؤز سے الیکشن کمیشن آفس تک احتجاج، جگہ جگہ رکاوٹیں، اکھلیش یادو، ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی اور دوسروں کی شرکت
حیدرآباد 6 اکٹوبر (سیاست نیوز) ملک میں فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی مہم SIR کے نام پر ووٹ چوری کے الزامات کا سامنا کرنے والے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگریس اور انڈیا الائنس کی 19 سیاسی پارٹیوں نے آج نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کا اہتمام کیا۔ پولیس نے اپوزیشن کے اِس مارچ کو درمیان میں ہی روکنے کی کوشش کی اور کئی اپوزیشن قائدین بشمول اکھلیش یادو، ابھیشک بنرجی، دریک اوبرائن کو حراست میں لے لیا گیا۔ اپوزیشن قائدین نے دھرنا منظم کرتے ہوئے پولیس کے رویہ پر تنقید کی۔ کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے، لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی اور اے آئی سی سی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے پارلیمنٹ ہاؤز کامپلکس سے الیکشن کمیشن دفتر تک احتجاجی مارچ میں حصہ لیا۔ پولیس نے پارلیمنٹ اسٹریٹ کے قریب سخت رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے اپوزیشن کے احتجاجی مارچ کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ مارچ میں اپوزیشن قائدین کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں سیاسی کارکن موجود تھے۔ راہول گاندھی نے پولیس کی جانب سے کھڑے کئے گئے بیاریکیڈز پر چڑھ کر قومی پرچم لہراتے ہوئے احتجاج درج کرایا۔ رکاوٹوں کو پھلانگنے کی کوشش پر ٹی ایم سی اور کانگریس کے کئی ایم پیز کو حراست میں لیا گیا ۔ رکاوٹوں کے درمیان راہول گاندھی نے پارٹی قائدین کے ساتھ آکاش وانی بھون کے قریب دھرنا منظم کیا۔ احتجاجیوں نے آکاش وانی بھون کے گیٹ کھولنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے ناکام بنادیا۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے حکومت اور پولیس کے رویہ پر تنقید کرکے اعلان کیاکہ جمہوریت اور عوام کے رائے دہی کے حق کو بچانے احتجاج جاری رہے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ عوام کے دستوری حق کے تحفظ کے لئے اپوزیشن متحد ہوچکا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانہ پر رائے دہندوں کے نام فہرست سے حذف کردیئے گئے اور جمہوریت کا تحفظ انڈیا الائنس کی اوّلین ترجیح ہے۔ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن پر جانبداری اور من مانی فیصلوں کا الزام عائد کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی ملی بھگت کے ذریعہ ووٹ چوری کو انجام دیا گیا اور الیکشن کمیشن کے احاطہ میں بی جے پی کو اپنا آفس کھول لینا چاہئے۔ اپوزیشن کے مارچ کے موقع پر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی اور جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے حکام نے عوام کے لئے مشکلات پیدا کیں۔ احتجاجیوں کی آمد سے قبل ہی ریاپڈ ایکشن فورس نے آکاش وانی بھون اور الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر کو عملاً اپنے گھیرے میں لے لیا تھا۔ راہول گاندھی نے الزام عائد کیاکہ نریندر مودی، امیت شاہ، موہن بھاگوت اور گیانیش کمار نے ملک میں جمہوریت کو تباہ کیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ان شخصیتوں نے ملک میں ووٹ چوری کے ذریعہ جمہوریت کا اغواء کرلیا اور ہم چاہتے ہیں کہ ووٹ چوری کے خاطیوں کو بے نقاب کرکے اُنھیں سزا دلائی جائے۔ اپوزیشن کے احتجاج کے موقع پر پہلی مرتبہ پولیس عملہ کے ڈریس پر باڈی کیمرے نصب تھے تاکہ احتجاجیوں بالخصوص خواتین سے بدسلوکی کے الزامات پر حقائق کو ریکارڈ کیا جاسکے۔ پولیس نے کئی علاقوں میں ٹریفک کا رُخ موڑ دیا جس کے نتیجہ میں بیشتر اہم سڑکوں پر ٹریفک جام کی صورتحال تھی۔ کناٹ پیالس، پٹیل چوک، رفیع مارگ، پارلیمنٹ اسٹریٹ، موتی لال نہرو مارگ، تین مورتی مارگ، پرتھوی راج روڈ، اشوکا روڈ اور جنتر منتر روڈ پر جگہ جگہ رکاوٹوں کے سبب ٹریفک جام دیکھی گئی۔V/1