واشنگٹن: اسلامک اسٹیٹ کی خواتین بٹالین کی قیادت کرنے والی ایک امریکی خاتون کو 20 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ کنساس کی 42 سالہ ایلیسن فلوک اکرین نے اعتراف کیا کہ اس نے 8 سال تک عراق، شام اور لیبیا میں دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دیں۔ اس نے بتایا کہ 100 سے زیادہ خواتین اور لڑکیوں کو دہشت گردی کی تربیت دی تھی، جن میں سے کچھ کی عمریں 10 سال سے زیادہ تھیں۔ وہ جون میں اپنے کام کیلئے مجرم ثابت ہوئی تھی۔سزا سنانے سے پہلے استغاثہ نے کہا کہ قانون کی طرف سے زیادہ سے زیادہ جائز سزا بھی اسے سزا دینے کیلئے کافی نہیں ہوگی۔ اس کی دفاعی ٹیم نے اس کیلئے کم سزا کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ زدہ شام میں اپنے تجربات سے صدمے کا شکار ہے ۔سابق ٹیچر کا تعلق اوور بروک، کنساس کی ایک چھوٹی سی کمیونٹی سے ہے ، اور وہ بعد میں ایک بنیاد پرست دہشت گرد بن گئی اور آئی ایس کی صفوں میں اعلی رینکوں تک پہنچی۔ امریکی محکمہ انصاف اور عوامی ریکارڈ کے مطابق وہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں اپنے دوسرے شوہر اور لبنانی دہشت گرد تنظیم انصار الشریعہ اور آئی ایس کے رکن کے ساتھ مشرق وسطیٰ چلی گئی تھیں اور کبھی کبھار کنساس بھی آتی تھی۔2012 کے آس پاس وہ شام پہنچی اور آئی ایس کی ایک سرگرم رکن بن گئی اور جب اس کا شوہر لڑائی میں مارا گیا تو اس نے کئی دہشت گردوں سے شادی کی، جن میں ایک بنگلہ دیشی ڈرون ماہر بھی شامل تھا جو لڑائی میں مارا گیا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق اس کا بنیادی کام خواتین کو دہشت گردی کی تربیت فراہم کرنا تھا، جس میں اے کے -47، دستی بم اور خودکش بیلٹ کا استعمال شامل تھا۔ اس پر امریکہ میں ممکنہ دہشت گردانہ حملوں کیلئے لوگوں کو بھرتی کرنے کا بھی الزام ہے