دیگر اہم بین الاقوامی گزرگاہیں تقلید کرنے لگیں گے، عالمی جہازرانی تنظیموں کا ردعمل
نیویارک / لندن:6 اگست ( ایجنسیز ) دنیا کی 8بڑی بین الاقوامی جہاز رانی تنظیموں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر لازمی ٹول یا سروس فیس عائد کرنے کی کسی بھی تجویز کی مخالفت کی جائے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان تنظیموں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز کے نام مشترکہ کھلا خط ارسال کیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے بین الاقوامی بحری راستے پر لازمی ٹول یا ایسی سروس فیس نافذ کرنا، جو عملی طور پر ٹول ہی کے مترادف ہو، بین الاقوامی بحری قوانین اور کئی دہائیوں سے رائج اصولوں سے انحراف ہوگا۔شپنگ تنظیموں نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں اس قسم کی فیس عائد کرنے کی اجازت دی گئی تو مستقبل میں دنیا کی دیگر اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر بھی اسی نوعیت کے اقدامات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف آزادانہ جہاز رانی کا اصول متاثر ہوگا بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔تنظیموں کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے ہر روز بڑی مقدار میں خام تیل، قدرتی گیس اور دیگر تجارتی سامان مختلف ممالک تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس لیے یہاں کسی بھی نئی مالیاتی پابندی یا لازمی فیس کے نفاذ سے شپنگ اخراجات میں اضافہ اور عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔خطہ میں اقوام متحدہ اور آئی ایم او سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں اور ایسے کسی بھی اقدام کی حوصلہ شکنی کریں جو عالمی بحری نظام کے لیے خطرناک نظیر بن سکتا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کی سکیورٹی، جہاز رانی اور ممکنہ نئے انتظامی طریقہ کار کے حوالے سے مختلف سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔