آبنائے ہرمز کے انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے ایران کی دھمکی

   

ایرانی بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو جوابی کارروائی ہوگی، آئی آر جی سی عہدہ دار کا انتباہ

تہران، 23 اکتوبر (ایجنسیز) ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC) کے سیاسی امور کے نائب بریگیڈیئر جنرل یداللہ جاوانی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو آبنائے ہرمز سے گزرنے والی زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایرانی ٹیلی ویژن چینل العالم کو انٹرویو دیتے ہوئے یداللہ نے کہا کہ ایران اپنے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کی صورت میں اپنی تمام صلاحیتیں استعمال کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی خطے میں وسیع سرمایہ کاری موجود ہے اور ان کے اثاثے جوابی کارروائی کا ہدف بن سکتے ہیں۔ یداللہ کے بیان سے خلیجی خطے میں مواصلاتی نظام اور ڈیجیٹل خدمات کے متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اس سے قبل آئی آر جی سی کے ترجمان حسین محبی نے بھی آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی سات بڑی انٹرنیٹ کیبلز کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ تنازع میں نئے اہداف اور ہتھیار سامنے آسکتے ہیں۔ زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز بین الاقوامی انٹرنیٹ اور ڈیٹا کی ترسیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کیبلز کو نقصان پہنچنے سے خلیجی ممالک میں انٹرنیٹ کی رفتار، کاروباری رابطوں اور ڈیجیٹل خدمات میں خلل پڑ سکتا ہے۔ تاہم، ماہرین کے مطابق اس طرح کی خرابی لازماً عالمی انٹرنیٹ نظام کے مکمل تعطل کا سبب نہیں بنے گی، کیونکہ ڈیٹا کی ترسیل کے لیے متبادل زمینی اور سمندری راستے بھی موجود ہیں۔ ایرانی عہدہ دار کا یہ انتباہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ تصادم کی صورت میں توانائی اور فوجی تنصیبات کے علاوہ اہم مواصلاتی ڈھانچے بھی خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔ تاہم، بیان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایران نے ان کیبلز پر حملے کا کوئی عملی منصوبہ نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔