ارون سریواستو
ہندوستان کے دوسرے وزیراعظم لال بہادر شاستری کا ایک مشہور بیان ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سب سے پہلے اپنے گھر کے دروازے پر چراغ روشن کرو بعد میں مندر میں چراغ روشن کرنا۔ یہ گہری سوچ و فکر عملی ذمہ داری اور خود انحصاری یا خود کفالت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔یہ ا یک فلسفیانہ یاد دہانی کے طور پر ہے کہ ذمہ داری کا آغاز یقیناً اپنے گھر سے ہوتا ہے ، اس لئے کہا جاتا ہے کہ دوسروں کو سدھارنے دوسروں کی زندگیوں میں صالح انقلاب برپا کرنے سے پہلے اپنے آپ کو اور اپنے گھر کو گھر والوں کو سدھاریئے اور اپنے ارکان خاندان کے تئیں جو ذمہ داریاں ہیں ان ذمہ داریوں کو نبھاؤ اپنی برادری میں سدھار لاو ان کی زندگیوں کو بہتر بناؤ ان کے تئیں آپ کی جو ذمہ داری ہے ، ان ذمہ داریوں کو اچھی طرح پوری کرو اس کے بعد وسیع تر عوامی یا مذہبی ذمہ داریوں پر توجہ مرکز کرو۔ واضح رہے کہ لال بہادر شاستری اپنی کفایت شعار اور سادگی سے بھرپور زندگی کیلئے شہرت رکھتے تھے۔ انہوں نے ہی جئے جوان جئے کسان کا نعرہ دیا۔ ان کے بیان کا مطلب یہی تھا کہ حقیقی چیاریٹی اور نیکیاں اس وقت ہوجاتی ہیں جب آپ اپنے گھر کو تاریکی میں ڈوبا ہونے کے باوجود اسے روشن کرنے کی بجائے تاریک ہی چھوڑ دیتے ہیں اور سماجی یا روحانی تعریف و ستائش حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہوں تو حقیقی نیکی اور خیرات بے معنی ہوکر رہ جاتے ہیں اس لئے کوئی بھی نیک کام بناء کسی تعریف و ستائش اور صلہ کی تمنا کرنا چاہئے ۔ لال بہادر شاستری کا بیان اور مخصوص مثال ہندوستان کی روایتی دانشمند تعلیم کی عکاسی کرتی ہے جسے ا کثر و بیشتر قوم اور خاندان کے تئیں فرض کی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس میں واضح طور پر ہندوستان کی کثرت میں وحدت اور گہری بنیادی سالمیت کو تسلیم کیا گیا ہے جو ہماری بظاہر مختلف النوع اور متنوع معاشرت کے درمیان سنہری دھاگے کی طرح موجود ہے اور خاص کر مشترکہ قومی چیلنجس کے مقابلے میں اس کی اہمیت اور افادیت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا ۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے جو خود کو محب وطن ہندوستانی اور ہندوستانی اخلاقیات و ہندوستان ی اقدار پر بڑی سختی کے ساتھ عمل کرنے والا قرار دیتے نہیں تھکتے ہندوستانی تنوع اور عالمگیر یکجہتی و سالمیت کے اپنے تصور کو پیش کرنے کیلئے سرزمین امریکہ کا انتخاب کیا، وہ ا پنا یہ تصور ہندوستان میں بھی پیش کرسکتے تھے جو یقیناً ان کے ہندو توا سے متعلق فلسفہ کی سرزمین ہے۔ اگر بھاگوت ہندوستان میں عالمگیر یکجہتی کی تقریب منعقد کرتے تو اس سے زبردست تنازعہ پیدا ہوتا اور زعفرانی سیاسی و سماجی نظام کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا۔ بھاگوت نے امریکہ میں ہندو مسلم اتحاد کے بارے میں جو خیالات ظاہر کئے اور جس انداز میں کہا کہ اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان میں کسی مسلمان کو نہیں رہنا چاہئے تو پھر وہ ہندو باقی نہیں رہے گا ؟ انہوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مزید دو قدم آگے بڑھ کر یہ بھی کہا کہ ہم سب ایک ہیں اور یہی حقیقت ہے۔ دوسری طرف آر ایس ایس سربراہ کو اس بات کیلئے بھی پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتا ۔ اگر ملک کے عوام ان سے یہ وضاحت طلب کرتے کہ انہوں نے امریکہ میں جو بڑی بڑی باتیں کی ہیں، آخر کیوں وہ ہندوستانی تہذیبی تنوع کے اصولوں پر عمل کیوں نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے امریکہ میں ONENESS کی بات کی اور عالمی برادری کو اس کا درس بھی دیا تو پھر اپنے ہی ملک میں وہ ONENESS کا درس کیوں نہیں دیتے ؟ آخر کیوں ہندوستان میں ان کا ایک لہجہ ہوتا ہے جبکہ امریکہ میں وہ اپنا لہجہ پوری طرح تبدیل کردیتے ہیں۔ سرزمین ہند پر ان کے خیالات مختلف ہوتے ہیں اور امریکہ میں وہ اتحاد و اتفاق کی بات کرتے ہیں جس سے ان کے دوغلے پن کا اظہار ہوتا ہے ۔ ساتھ ہی آر ایس ایس اور بی جے پی کی غریب دشمنی اور اقلیت دشمنی بھی بے نقاب ہوجاتی ہے اور آر ایس ایس و نریندر مودی کے فاشسٹ اور اکثریتی کردار سے متعلق شدید سیاسی بحث بھی چھڑگئی ہوتی۔ موہن بھاگوت کے دورہ امریکہ کے خلاف امریکہ بالخصوص نیویارک میں احتجاجی مظاہرے بھی منظم کئے گئے اور جس وقت وہ میاڈسن اسکوائر گارڈن میں خطاب کر رہے تھے ، وہاں ان کے خلاف احتجاج بھی ہورہا تھا اور ان کے پروگرام کے مرکز کی گیٹ پر احتجاج کرنے والے مظاہرین اپنے نعروں پلے کارڈس وغیرہ کے ذریعہ بھاگوت کے عزائم و ارادوں کو بے نقاب کر رہے تھے ۔ وہ دراصل ’’ہندو پہلے‘‘ سے متعلق آر ایس ایس اور بی جے پی ایجنڈہ کو لے کر بھاگوت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جس نے مسلمانوں اور عیسائیوں کو حاشیہ پر لادیا ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کا ’’ہندو پہلے ‘‘ ایجنڈہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے شروع کردہ ایجنڈہ امریکہ پہلے جیسا ہی ہے۔ بیرونی ملک میں پروگرام کے اہتمام نے بھاگوت کو عالمی سطح پر آر ایس ایس کو ایک میانہ روی کی راہ اختیار کرنے والی تنظیم کے طورپر پیش کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ اس بات کی افواہیں بھی گشت کر رہی ہیں کہ موہن بھاگوت 3 اکتوبر تا 5 اکتوبر 2026 اندور میں منعقد ہونے والے سنگھ کے سالانہ اجلاس میں سر سنچالک کے عہدہ سے سبکدوش ہوجائیں گے اور ان کے دورہ امریکہ اور نیویارک میں پروگرام کے انعقاد کا مقصد دراصل اپنے چہرہ پر جم چکی دھول کو صاف کرنے سے متعلق ان کے منصوبہ کا ایک حصہ ہے جس کے ذریعہ وہ ا پنے پر عائد کئے جانے والے الزامات اور کی جانے والی تنقیدوں کے اثرات کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ مدھیہ پردیش کے اندور میں ہونے والے اجلاس میں آر ایس ایس قیادت سنگھ پریوار کے تنظیمی ساخت کی تشکیل جدید پر تبادلہ خیال کرے گی ۔ ویسے بھی آر ایس ایس فی الوقت اپنے ادارہ جاتی دور کے انتہائی پیچیدہ مرحلہ سے گزر رہی ہے جہاں مبصرین و تجزیہ نگاروں کے مطابق اسے اہم نظریاتی و سیاسی دباؤ کا سامنا ہے ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ آر ایس ایس کو سنگھ پریوار کے اندر سے ہی ایک وجودی خطرہ کا سامنا ہے اور اس وقت اس کے نشانہ پر موہن بھاگوت ہیں خود آر ایس ایس کی سیاسی ونگ بی جے پی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ موہن بھاگوت کو سخت ناپسند کرتی ہے اور وہ (بھاگوت) بی جے پی میں موجود اپنے مخالفین کو ان کا حقیقی مقام دکھانا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ دنیا بھر کے 30 سے زائد مذہبی رہنماؤں کے روبرو اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بھاگوت نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ جوابدہی اور تنوع کے حامی ہیں ۔ اگر دیکھا جائے تو وہ آر ایس ایس کو ایک اعتدال پسند عالمی ثقافتی تحریک کے طورپر دوبارہ متعارف کروانے امریکہ گئے تھے کیونکہ نہ صرف بیرون ملک بلکہ خود ہندوستان میں بھی آر ایس ایس کے ہندو قوم پرستی پر مبنی ایجنڈہ پر تنقیدوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ان تنقیدوں کا مقابلہ کرتے انہیں امریکہ جیسے مضبوط جمہوری ملک جاکر اپنے حقیقی نطریہ و تصور سے ہٹ کربات کرنی پڑی۔