آر ایس ایس کے 101 سال

   

تنظیم ، ہندوتوا اور ہندوستانی جمہوریت

ڈاکٹر سریش کمار
آر ایس ایس نے اپنے 101 سالہ سفر میں خود ہندوستانی جمہوریت کو یرغمال بنالیا ہے ۔ وہ کیسے ؟ اس ضمن میں ہم آپ کو آگے کی سطور میں بتائیں گے۔ برطانوی حکومت اور اس کے تسلط کے خلاف تحریک عدم تعاون (1920-1922) کے بعد مہاتما گاندھی نے چاور چاوری میں کسانوں کی مزاحمت کے دوران تشدد پر تحریک جدوجہد آزادی کو اچانک روک دیا ۔ اس طرح جب مصطفیٰ کمال پاشاہ 29 اکتوبر 1923 کو اقتدار میں آیا اور صدیوں قدیم سلطنت عثمانیہ کی خلافت کو ختم کرتے ہوئے ترکی کو ایک جدید سیکولر ملک قرار دیا ۔ اس کے بعد برطانوی حکومت کے خلاف تحریک خلافت (1920-1924) بھی اپنا مقصد کھو بیٹھی ، اس صورتحال نے ہندوستان میں ایک طرح کی بے یقینی اور الجھن کی کیفیت پیدا کردی تھی ۔ آر ایس ایس کے سوئم سیوک سی پی بھٹیاکار کی لکھی گئی کتاب ’’پرووکتا‘’ کے صفحہ 4 کے مطابق ہندوستان میں اس وقت ایک تبدیلی رونما ہورہی تھی ۔ 1921 کی تحریک خلافت کے بعد جو کچھ ہوا اس نے ڈاکٹر کیشو بلیرام ہیڈگوار کو حیران کر کے رکھ دیا ۔ ہندوستانی مسلمانوں نے خود کو پہلے مسلمان اور بعد میں ہندوستانی ثابت کیا چنانچہ جب ترکی میں تحریک خلافت کا خاتمہ ہوا تو وہ قومی آزادی کیلئے چلنے والی مشترکہ تحریک سے بھی دور ہوگئے ۔ سارا ماحول ہندو مخالف نفرت سے زہریلا ہوچکا تھا ۔ صرف اللہ اکبر کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ بھارت ماتا کی جئے کہیں سنائی نہیں دیتا تھا ۔ اس کے فوراً بعد ہی کوہاٹ ، ملتان ، کانپور ، ناگپور اور دوسرے مقامات پر فسادات پھوٹ پڑے ۔ ڈاکٹر جی کہا کرتے تھے کہ یہ ہندو مسلم فسادات نہیں تھے بلکہ صرف مسلم فسادات تھے کیونکہ ہر جگہ فسادات شروع کرنے والے بھی وہی تھے اور حملے کرنے والے بھی وہی تھے ۔ ان فسادات کی انتہا کیرالا کی موپلا بغاوت کی شکل میں ظاہر ہوئی جہاں آتشزنی ، لوٹ مار اور زبردستی مذہبی تبدیلی کے واقعات پیش آئے ۔ ساری قوم حیران و پریشان ہوگئی ۔ ڈاکٹر جی نے اس بارے میں سوچا کہ یہ خلافت کی آفت ہے۔ 1885 میں کانگریس کے قیام کے وقت سے ہی اس میں ہندو قوم پرست اور سخت گیر مذہبی مسلمان دونوں موجود تھے ۔ ڈاکٹر ہیڈگوار بھی لوک مانیہ تلک کے زیر اثر تھے ۔ یکم اگست 1920 کو تلک کے دیہانت کے بعد کانگریس کے ڈسمبر 1920 ناگپور اجلاس کی استقبالیہ کمیٹی میں ڈاکٹر کیشو بلیرام ہیڈگوار اور ان کے گرو ڈاکٹر دونجے تنظیم اور انتظام کی ذمہ داری سنبھال رہے تھے ۔ جب اس اجلاس میں مہاتما گاندھی کی جانب سے چھوت چھات کے خاتمہ اور ہندو مسلم اتحاد کے فروغ کیلئے پیش کردہ قرار دادیں منطور ہوئیں اور عام ہندوستانیوں کیلئے کانگریس کی رکنیت فیس کم کر کے صرف چار آنے کردی گئی تب کانگریس میں موجودہ قوم پرست عناصر تشویش میں مبتلا ہوگئے ۔ یہ صحیح تھا یا غلط ، اس وقت کے حالات میں ضروری تھا یا نہیں ۔ یہ اُس بات کی فکر تھی جو آر ایس ایس کے بانی اور ان کے حامیوں نے قائم کی تھی ، اس بنیاد پر انہوں نے ایک الگ راہ اپنانے کا فیصلہ کیا ۔ مذکورہ کتاب سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اس نتیجہ پر پہلے ہی پہنچ چکے تھے کہ ہندوستان میں صرف ہندو ہی قوم ہے اور صرف ہندوتوا ہی قوم پرستی ہے جو مفکرین حقیقت سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں انہوں نے قوم کی سیاسی حقیقت کو دیکھنے سے انکار کر دیا لیکن ہیڈگوار پر حقیقت واضح ہوچکی تھی ۔ ہیڈگوار کا یہ ماننا تھا کہ صرف ہندو ہی ہندوستان کو آزاد کراسکتے ہیں ۔ صرف ہندو طاقت ہی ملک کا تحفظ کرسکتی ہے ۔ اسے بچاسکتی ہے ، ان حالات میں ہندو نوجوانوں کو ان کے انفرادی کردار اور مادر وطن سے اٹوٹ محبت کی بنیاد پر منظم کرنا ضروری تھا اور اس کا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا اور پھر آر ایس ایس کا قیام عمل میں آیا۔ یعنی وجئے دشمی کے موقع پر 1925 میں آر ایس ایس قائم ہوگئی، اس کے باوجود اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ 1925 میں قائم ہوئی آر ایس ایس کے ابتدائی 22 سالہ سفر مطلب 15 اگست 1947 تک ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں اس کے حصہ لینے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے اور دیکھا جائے تو یہ ایک ناقابل حل معمہ ہے ۔ اس کے برعکس ایسے ثبوت و شواہد موجود ہیں کہ آر ایس ایس کی قیادت نے اپنے لوگوں کو انگریز پولیس اور انتظامیہ میں بھرتی کیا اور ملک اس غلطی کی قیمت آج بھی چکا رہا ہے ۔ آزادی کے بعد ہندوستان میں جس سیاسی جماعت نے حکومت بنائی چونکہ آر ایس ایس سے وابستہ افراد پولیس انتظامیہ اور عدلیہ میں اہم عہدوں پر فائز رہے ۔ اس لئے پولیس انتظامیہ اور ہمارا نظام انصاف ہندوتوا سے متاثر رہا اور اسی وجہ سے دلتوں ، اقلیتوں ، قبائلیوں کے ساتھ خواتین کیلئے معاندانہ رہا ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آزادی کے بعد ملک بھر میں ہوئے تمام فرقہ وارانہ فسادات کے دوران پولیس انتظامیہ اور عدلیہ کا رویہ اس کا واضح ثبوت فراہم کرتا ہے۔ جسٹس مدن جنہوں نے مہاراشٹرا میں 1980 کی دہائی کے بھیونڈی ، جنگاؤں فسادات کی تحقیقات کیلئے قائم کردہ کمیشن کے سربراہ تھے ، اپنی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا ’’اگرچہ کسی بھی فساد کی تحقیقات میں آر ایس ایس کے سوئم سیوکوں کے براہ راست ملوث ہونے کے ثبوت نہ بھی ملے لیکن فسادات کی ذہنیت پیدا کرنے کا کام آر ایس ایس اپنی شاکھاوں کے ذریعہ مسلسل انجام دیتی رہی ہے ۔ لوگوں کے ذ ہنوں میں اقلیتی برادری کے خلاف نفرت پیدا کرنے کا منظم کام 1925 سے ہی جاری ہے۔ لہذا آزادی کے بعد ہندوستان کے طول و عرض میں ہوئے تمام فسادات کی بنیادی وجہ آر ایس ایس کی جانب سے اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلاتا ہے ‘‘۔
آر ایس ایس سے وابستہ عناصر کو ڈاکٹر ہیڈگوار کے کردار اور اہمیت کو بڑھا چڑھاکر پیش کرنے کی عادت ہے ۔ آر ایس ایس کے پورے نظریاتی تصور کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ پہلے سر سنگھ چالک کے ذہن میں کسی الہام یا قومی احیاء کی شدید خواہش کے طور پر پیدا ہوا ہو۔ یہ تصور شائد کسی ایسی تنظیم کی ضرورت پوری کرتا ہو جو صوفیانہ و پراسرار روحانی فرقوں کے نمونہ پر قائم کی گئی ہو لیکن یہ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ 1925 کے وجئے دشمی کے اس خاص دن جو کچھ ہوا یا وجود میں آیا اسے آر ایس ایس کی شاکھا بھی نہیں کہا جاسکتا۔ ہیڈگوار کے گھر پر صرف 5 ہمخیال افراد ایک ایسی تنظیم کے قیام کے مقصد سے جمع ہوئے تھے جو ہندو معاشرہ کے متحرک اور جنگجو تنظیم کاروں کیلئے نرسری یاکنڈرگارٹن کا کردار ادا کرے۔ ہیڈگوار کے گھر پر اس وقت جو 5 افراد موجود تھے ، ان میں ڈاکٹر بی ایس مونجے ، ڈاکٹر ایل وی پرانچے ، خود ڈاکٹر کے بی ہیڈگوار ، ڈاکٹر تھولکر اور ساورکر کے بھائی بابا راؤ ساورکر شامل ہیں لیکن آر ایس ایس کی جانب سے شائع کر دہ لٹریچر میں صرف 5 افراد کا حوالہ دیا گیا ۔ دوسرے لوگوں کے نام نہیں دیئے گئے کیونکہ وہ تمام بانیان ہندو مہا سبھا سے وابستہ تھے اور آر ایس ایس و ہندو مہا سبھا کے ساتھ اپنے تعلق کو ظاہر کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔ ابتداء سے ہی آر ایس ایس کا طریقہ کار یہی رہا کہ کسی ایک شخصیت کو مرکز میں رکھا جائے ۔ اس کے اطراف ایک تصوراتی تقدس کا ہالہ قائم کیا جائے ۔ اسے نمایاں کیا جائے اور اس طرح تنظیم کو وسعت دینے کی کوشش کی جائے ۔ مثال کے طور پر ار ایس ایس کے بانیوں میں ڈاکٹر کے کیشو بلیرام ہیڈگوار اور دوسرے سر سنچالک مادھو سدا شیو گولوالکر کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ۔ ان دونوں کو سب سے زیادہ مقدس اور قابل تعظیم شحصیات کے طورپر پیش کیا جاتا ہے ۔ ایک آر ایس ایس سوئم سیوک کسی بھی قسم کی تشہیر سے دور رہتا ہے اور پورے عقیدت کے ساتھ کام کرتا ہے۔