نقصانات کی بازیابی کیلئے کارپوریشن کے اقدامات
حیدرآباد ۔26۔ اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ٹی جی ایس آر ٹی سی ) کی جانب سے اس کے ملازمین کی تین روزہ ہڑتال سے مالی نقصانات اور آپریشنس متاثر ہونے کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ ابتدائی تخمینہ کے مطابق کارپوریشن کو ان تین دنوں میں تقریباً 35 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا۔ ذرائع کے مطابق ہڑتال کی مدت کے دوران حیدرآباد ریجن اور تلنگانہ میں بس سرویسیس کے سڑکوں سے غائب رہنے کی وجہ کارپوریشن کو ہر دن 10 تا 12 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا حالانکہ آر ٹی سی نے الیکٹرک بسوں اور کرایہ کی بسوں کو چلانے کی کوشش کی لیکن اس سے کوئی زیادہ مدد نہیں ہوئی ۔ آر ٹی سی ورکرس کی یہ ہڑتال 22 اپریل کو نصف شب سے شروع ہوئی تھی اور 25 اپریل کی نصف شب تک جاری رہی۔ جب ملازمین کی یونینس نے ریاستی حکومت کے ساتھ ہوئی کامیاب بات چیت کے بعد اسے ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس ہڑتال سے ہزاروں شیڈولڈ سرویسیس متاثر ہوئیں۔ شہری اور دیہی روٹس پر عوام کو بسوںکی عدم دستابی کے باعث کافی مشکلات پیش آئیں۔ عہدیداروں نے کہا کہ یہ نقصانات ٹکٹس سے ہونے والی آمدنی تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ اس ہڑتال سے ایڈوانس ریزرویشنس کارگو اینڈ پارسل سرویسیس اور پاس پر مبنی ٹراویل سگمینٹس بھی متاثر ہوئے ۔ بس سرویسیس کی بحالی کے ساتھ آر ٹی سی مینجمنٹ کی جانب سے اب نقصانات کی بازیابی پر توجہ دی جارہی ہے اور اس کے لئے کئے جانے والے اقدامات میں زیادہ مانگ کی روٹس پر سرویس فریکوینسی کو بہتر بنانا اور دوسرے اقدامات شامل ہیں۔A/K