آزادانہ و منصفانہ انتخابات کا تصور غائب

   

پی چدمبرم

جب میں نے 1977ء کے انتخابات میں اپنی پہلی انتخابی مہم چلائی تھی تب صورتحال اس قدر ابتر نہیں تھی جس طرح اب ہے۔ ہاں ان انتخابات میں کچھ ایسی چیزیں یا واقعات پیش آئے تھے جو ناپسندیدہ تھے، لیکن ملک نے انتخابی ماحول کے دوران آج کل جو بدترین صورتحال ہے، اس طرح کی صورتحال اس وقت نہیں تھی۔ آج ہم انتخابی مہم کے دوران ایک خراب صورتحال کا سامنا کررہے ہیں۔ سال 1977ء میں اندرا گاندھی نے انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔ اس کے لئے انہوں نے ایمرجنسی کے دوران گرفتار کئے گئے تمام قائدین کو رہا کردیا۔ ان انتخابات میں اندرا گاندھی کو ایک طاقتور اپوزیشن کا سامنا تھا۔ دوسری طرف ٹاملناڈو میں ایم جی رامچندرن نے 1972ء میں ڈی ایم کے سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنی خود کی پارٹی ’’اے آئی اے ڈی ایم کے‘‘ قائم کی اور ایک انتہائی اہم ترین لوک سبھا ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ اس وقت ایم جی رامچندرن کی مقبولیت اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ کانگریس آئی نے اے آئی اے ڈی ایم کے سے اتحاد کرتے ہوئے ڈی ایم کے کا سامنا کیا۔ یہ وہی ڈی ایم کے تھی جس نے ایمرجنسی کی شدت سے مخالفت کی تھی۔ لوگوں کی حیرت کی انتہا اس وقت نہ رہی جب مخالف ایمرجنسی لہر جس نے سارے شمالی ہند کی ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، وندھیاز کو عبور نہ کرسکی۔
اچھے اور برے رخ
انتخابات انتہائی شائستگی سے ہوئے اور آزادانہ و منصفانہ انداز میں ان کا انعقاد عمل میں آیا۔ ویسے بھی اس وقت الیکشن کمیشن پوری طرح آزاد تھا، کسی کے دباؤ میں کام نہیں کیا کرتا تھا۔ اس نے اے آئی اے ڈی ایم کے کے تمام امیدواروں کیلئے ایک ہی انتخابی نشان الاٹ کرنے کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ (اگرچہ اے آئی اے ڈی ایم کے ایک مسلمہ پارٹی نہیں تھی، اور اس نے صرف ایک ہی ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی) ان انتخابات میں امیدواروں نے انتخابی مہم کیلئے گاڑیوں، پوسٹروں، کتابچوں اور جلسوں پر رقم خرچ کی، کسی اور چیز پر نہیں۔ وہ ایک حقیقی انتخابی مہم تھی جہاں امیدوار عوام کو لالچ دیئے بناء مہم چلا رہے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ اس انتخابی مہم میں رائے دہندوں کو رشوت دینے کی ایک معمولی افواہ بھی سنائی نہیں دی۔ اُن انتخابات کی خراب بات یہ تھی کہ اس میں ذات پات کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی تھی۔ عام طور پر زمیندار طبقہ انتہائی غریب لوگوں، دلتوں اور قبائیلیوں کیلئے اپنی پسند کے امیدوار کے انتخاب کا موقع بالکل کم رہ گیا تھا۔ انہیں ان ذاتوں اور زمینداروں کی خواہشات کے مطابق ووٹ دینا تھا، جن کی معاشرے پر اجارہ داری تھی۔ دوسری طرف اقلیتیں خاموش تھیں لیکن ان میں ڈر و خوف کی کیفیت نہیں پائی جاتی تھی۔ ان تمام نے اپنی اپنی کمیونٹیز کے قائدین کی ہدایت کے مطابق اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ قانونی طور پر یہ ایک آزادانہ و منصفانہ انتخابات تھے لیکن ایک حقیقی جمہوریت میں جس طرح آزادانہ انتخابات ہونے چاہئے تھے، ویسے نہیں تھے۔ یہ تو رہی ماضی کی بات، اب ہم جاریہ سال 2021ء کے انتخابات پر نظر ڈالتے ہیں۔ انتخابات اس لحاظ سے بہت زیادہ جمہوری دکھائی دے رہے ہیں کہ کسی بھی طبقہ میں کسی دوسرے طبقہ سے ڈر و خوف نہیں پایا جاتا۔ ذات پات کلیدی کردار ادا کررہے ہیں لیکن اس طرح نہیں جس طرح ماضی میں ذات پات کا رول ہوا کرتا تھا۔ اب طبقات کی بات، ماضی کی یاد بن کر رہ گئی۔ غریب امیر سے نہیں ڈرتے اور آزادانہ انداز میں حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہیں۔

تکلیف دہ رجحانات
موجودہ انتخابات میں جو خرابیاں پیدا ہوئی ہیں ، ان میں سب سے بڑی خرابی پیسہ کا بے دریغ استعمال ہے اور عام طور پر الیکشن کمیشن کے بارے میں یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ ملک کا یہ باوقار ادارہ اب حقیقی طور پر آزاد نہیں رہا۔ پیسہ کے بے دریغ استعمال اور الیکشن کمیشن کی آزادی کا خاتمہ جمہوریت کیلئے بہت بڑا دھکہ ہے۔ مثال کے طور پر ٹاملناڈو میں الیکشن کمیشن، رائے دہندوں میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے رقم کی تقسیم کو روکنے میں ناکام رہا۔ امیدواروں کی جانب سے ہر رائے دہندے کو عملی طور پر نہ صرف رقم کی پیشکش کی گئی بلکہ رائے دہندوں نے اس رقم کو قبول بھی کیا۔
اسی طرح وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی ہر ریالی پر بے تحاشہ رقم خرچ کی گئی۔ ایک وسیع و عریض شہ نشین نصب کیا گیا۔ جلسہ گاہ میں دور دور تک ایل ای ڈی اسکرینس لگائے گئے اور ان جلسوں میں کثیر تعداد میں عوام کو لانے کیلئے ہزاروں گاڑیاں کرایہ پر حاصل کی گئیں اور ان لوگوں کو رقم کے ساتھ ساتھ کھانا بھی فراہم کیا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ کروڑہا روپئے انتخابی تشہیر پر، سوشیل میڈیا آؤٹ لیٹس پر رائے دہندوں کیلئے مختصر پیغامات بھیجنے کیلئے ٹیلیفون کالس پر اور پیڈ نیوز (جسے پیاکیجس کہا گیا) پر خرچ کئے گئے۔ اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ سیاسی جماعتوں نے اس مرتبہ کروڑہا روپئے پانی کی طرح بہائے لیکن اس کا اظہار جماعتوں یا امیدواروں کے مصارف یا حصول رقم سے کسی بھی طرح نہیں ہوا۔
اگر آج کی انتخابی مہم کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں جس طرح ووٹوں کے حصول کیلئے مہم چلائی جاتی تھی اور رائے دہندوں کو ترغیب دی جاتی تھی، اب وہ ختم ہوچکی ہے۔ مجھے تو حیرت ہے کہ ماضی کی انتخابی مہم کا انداز لوٹ آئے گا بھی یا نہیں۔ اگر دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال اس قدر بدتر ہوگئی کہ انتخابات جمہوریت کا تہوار نہیں بلکہ ایک جان بوجھ کر کیا جارہا ایک ایونٹ ہے۔ ایک اور تکلیف دہ بات الیکشن کمیشن کا مشتبہ تعصب و جانبداری ہے۔ راقم الحروف، پولنگ اسٹیشنوں میں خدمات انجام دینے والے پریسائیڈنگ آفیسرس، الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور وی وی پیاٹس کی حالت پر نظر رکھنے والے ٹیکنیشنس اور رائے شماری کے دن خدمات انجام دینے والے کاؤنٹنگ آفیسرس کے کام اور ان کی دیانت داری کی ستائش کرتا ہے لیکن میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کی جانے والی عام نگرانی اور کنٹرول کے اقدامات کے تعلق سے تحفظاتِ ذہنی رکھتا ہوں۔
الیکشن کمیشن نے ڈی ایم کے کے مسٹر اے راجہ کو توہین آمیز ریمارکس کے نتیجہ میں 48 گھنٹوں کیلئے انتخابی مہم سے باہر کردیا یعنی دو دن تک انتخابی مہم چلانے پر پابندی عائد کردی، لیکن بی جے پی کے مسٹر ہیمنتا بسوا شرما نے جب اسی طرح کے توہین آمیز ریمارکس کئے تب ان کی انتخابی مہم چلانے پر پہلے 48 گھنٹوں کی پابندی عائد کی گئی اور پھر اسے کم کرکے 24 گھنٹے کردیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے آخر ایسا کیوں کیا؟ اسی طرح مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی ہر تقریر پر انہیں انتخابی مہم سے ہٹانے سے متعلق نوٹسیں جاری کرنے کا انتباہ دیا گیا اور بالآخر 24 گھنٹوں کیلئے ان پر بھی پابندی عائد کی گئی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا الیکشن کمیشن کو برائی صرف ممتا بنرجی کی تقاریر میں نظر آئیں ۔ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے تقاریر میں اسے کوئی غلط چیز دکھائی نہیں دی۔ الیکشن کمیشن کا وزیراعظم کے ان ریمارکس کے بارے میں کیا خیال ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر اقلیتیں اپنے ووٹ تقسیم نہیں کریں گے تو پھر اکثریت کو یہ سوچنا چاہئے کہ ایسی صورت میں انہیں کیا کرنا چاہئے؟ الیکشن کمیشن کا گلی اور نکڑ کی سطح کے ریمارک(دیدی ، او دیدی) کے بارے میں کیا خیال ہے ، کیا وہ اس طرح کے نعروں اور تنقیدوں پر کارروائی نہیں کرسکتا۔ کیا اس طرح ایک وزیراعظم کو ایک چیف منسٹر کے بارے میں باتیں کرنی چاہئے؟ میں اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ جواہر لال نہرو، مرارجی دیسائی یا واجپائی نے اس طرح کی باتیں کی ہوں۔ جبکہ ہمارے وزیراعظم ، ممتا بنرجی کے بارے میں ریمارکس کرتے ہوئے دیدی او دیدی کہتے ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جو قابل مذمت حرکت ہے ، وہ مغربی بنگال میں آٹھ مرحلوں میں رائے دہی سے متعلق فیصلہ ہے۔ آپ ذرا سوچئے کہ دوسری ریاستوں میں ایک مرحلے میں رائے دہی ہوسکتی ہے تو پھر مغربی بنگال میں 33 دنوں پر محیط آٹھ مرحلوں میں رائے دہی کیسے ہوسکتی ہے۔ آپ کو بتا دوں کہ ٹاملناڈو ، کیرالا ، پڈوچیری میں جملہ 404 نشستیں ہیں اور ان نشستیں کیلئے رائے دہی صرف ایک دن یعنی 6 اپریل کو ہوسکتی ہے تو پھر مغربی بنگال کی 294 نشستوں کیلئے آٹھ مرحلے کیوں درکار ہوئے۔ عام طور پر اس سلسلے میں یہی شک کیا جارہا ہے کہ یہ سب کچھ وزیراعظم اور وزیرداخلہ کو مغربی بنگال میں زیادہ سے زیادہ انتخابی مہم چلانے کا موقع فراہم کرنے کیلئے کیا گیا۔ آج الیکشن کمیشن جیسے ادارہ کو ٹی این سیشن جیسی شخصیت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کبھی بھی کسی کے دباؤ میں کام نہیں کیا۔ اس کے باوجود ہنوز میں اس معاملے میں الیکشن کمیشن کو شک کا فائدہ دیتا ہوں ۔ لیکن ہم الیکشن کمیشن کے اندازہ کارکردگی اب اور 2 مئی کے درمیان دیکھیں گے۔ جہاں تک جمہوریت کی بقاء کا سوال ہے، یہ عوام کی آزادانہ رائے پر منحصر ہے اور عوام کی آزادانہ رائے کا انحصار الیکشن کمیشن کی آزادی پر ہے۔