آزادی کے 80 سال بعد بھی دلتوں سے چھوت چھات

   

آنند تیلتمبڈے
چھوت چھات ہندوستان کی حقیقت ہے حالانکہ برسوں قبل اس لعنت کو ختم کردیا گیا ۔ حالیہ دنوں میں کانگریس سربراہ ملک ارجن کھرگے نے اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں ایک ریالی سے خطاب کیا جس کے بعد ہندوتوا کی ایک تنظیم شری رام سینا نے اس مقام کا شدھی کرن کیا ۔ اس مقام کو گنگا جل سے دھویا گیا ۔ اس واقعہ نے ہما رے ملک میں جاری چھوت چھات کے سلسلہ کی سنگینی کو پھر سے اجاگر کردیا اور عوام کو یہ بتادیا ہے کہ صدیوں سے ہندوستانی معاشرہ کو اپنی لپیٹ میں رکھی ، اس بیماری نے معاشرہ کی حالت دگرگوں کر رکھی ہے اور افسوس ہوتا ہے کہ آزادی کے 80 سال بعد بھی ہمارا ملک ہمارا معاشرہ خود کو چھوت چھات کی بیماری اور لعنت سے آزاد نہیں کرواسکا۔ آپ کو بتادیں کہ دستوری حکمنامہ کے ذریعہ ملک میں چھوت چھات کی لعنت کو منسوخ کرنے یا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا اور اس کے 80 برس کے بعد بھی چھوت چھات ختم نہ ہوسکی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک ہندوتوا کی تنظیم نے ہلدوانی میں اس مقام کا شدھی کرن کیا جہاں کانگریس صدر اور اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کھرگے نے ایک ریالی سے خطاب کیا ۔ انہوں نے کھرگے کو تیقن دیا کہ اس معاملہ کی تحقیقات کی جائے گی ۔انکار اور مذمت کی اس تھیٹر کے نیچے افسوس کا اظہار انکوائری کا دعویٰ آگے پیچھے الزام کی پیش قیاسی ایک ایسی حقیقت ہے جو جمہوریت کو اس کے راستے میں آنے سے روکنا چاہئے ۔ ایک شخص جب کسی میدان میں خطاب کرتا ہے تو اس کی ذات کی بنیاد پر میدان کو پاک صاف کیا جاتا ہے ۔ اس جرم کیلئے اس پر دلت ہونے کا لیبل چسپا کیا جاتا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ملک میں زائد از 170 ملین دلت ہیں اور ان پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس ضمن میں نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کے اعداد و شمار ثبوت کے طور پر پیش کئے جاسکتے ہیں ۔ ان اعداد و شمار کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں دلتوں اور محروم طبقات کے ساتھ کسی طرح کا امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے ۔ واضح رہے کہ 24 جنوری 1978 کو اس وقت کے وزیر دفاع بابو جگجیون رام نے وارناسی کی سنسکرت یونیورسٹی میں سمپور آنند کے مجسمہ کی نقاب کشائی انجام دی اور جیسے ہی وہ وہاں سے روانہ ہوئے چند مقامی برہمنوں نے اس مجسمہ کا شدھی کرن کیا یہ کہتے ہوئے کہ ایک دلت کے چھوٹے سے وہ ناپاک ہوگیا ہے ۔ گائے کے گوبر اور گنگا جل سے اسے دھویا گیا ۔ 1986 میں لوک سبھا میں ہوئے مباحث کے دوران جگجیون رام کے ساتھ پیش آئے چھوت چھات کے اس واقعہ کو ریکارڈ کیا گیا ۔ 1992 ء میں عدالت عظمیٰ کی ایک رولنگ میں نیشنل جوڈیشیل اکیڈیمی کے سمینار میں باپو جگجیون رام کے ساتھ پیش آئے قابل مذمت واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ملک کی آزادی کو برسوں گزرجانے کے باوجود عوامی زندگی میں وہ بھی اعلیٰ سطح پر چھوت چھات کی لعنت باقی ہے ۔ بابو جگجیون رام تو مرکزی کابینہ کے اہم وزیر تھے اور قومی سیاسی رہنماؤں میں ان کا شمار ہوا کرتا تھا اور اب کھرگے کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک نے بیہ بتایادیا ہے کہ ملک میں ماضی کے پیاٹرن پر مختلف شخصیتوں کو ذات پات پر مبنی امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ اس سلسلہ میں آپ کو ایک اور واقعہ سے واقف کرواتے ہیں۔ جنوری 2020 میں ہماچل پردیش کے اس وقت کے وزیر سماجی انصاف راجیو سائنرال نے جو ایک دلت ہیں ریاستی اسمبلی کوبتایا کہ انہیں ان کی ذات کی وجہ سے ایک مندر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ، جس پر اس وقت کے ریاستی گورنر بنڈارو دتاتریہ نے سرعام تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذات پات پر مبنی امتیاز کو غیر دستوری قرار دیا ۔ حد تو یہ ہے کہ ا یسے واقعات بھی پیش آچکے ہیں جہاں دلت ارکان اسمبلی کو سرکاری تقریب میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھانا کھانے سے روک دیا گیا ۔ جون 2011 میں چیرپرسن دی نیشنل کمیشن فار شیڈولڈ کاسٹس جو ایک دلت تھے۔ انہیں ایک ہندو مندر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔