اڈانی گروپ کی خریدی پر نامور صحافیوں کے استعفوں پر کے ٹی آر اور عوام کا ردعمل
حیدرآباد۔30 ۔نومبر(سیاست نیوز) این ڈی ٹی وی سے سینئیر صحافی پرنائے رائے اور ان کی اہلیہ رادھیکا رائے کے این ڈی ٹی وی سے مستعفی ہونے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ٹیلی ویژن صحافت کی موت سے تعبیر کیا جانے لگا ہے۔ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی و بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ نے اس استعفیٰ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ Unfollowing @ndtv اب تک جو کچھ رہا بہتر رہا۔دونوں صحافیوں کے استعفیٰ کے ساتھ ہی این ڈی ٹی وی کی خبروں کو اہمیت دینے والوں کی تعداد میں زبردست گراوٹ ریکارڈ کئے جانے کے امکان پائے جانے لگے ہیں کیونکہ مختلف سیاسی ‘ سماجی ‘ صحافتی حلقوں کے علاوہ سرکردہ نظریہ ساز و جہدکاروں نے بھی این ڈی ٹی وی کو اڈانی گروپ کی جانب سے حاصل کرلئے جانے پر اسے آزاد صحافت کا خاتمہ قرار دیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ پرنائے رائے کا این ڈی ٹی وی کو دیا جانے والا مکتوب استعفیٰ محض استعفیٰ نہیں ہے بلکہ آزاد ٹیلی ویژن صحافت کا ’’ڈیتھ سرٹیفیکیٹ ‘‘ ہے جو کہ جاری کیا جاچکا ہے۔ملک بھر میں گودی میڈیا کے پروپگنڈہ کے دوران این ڈی ٹی وی‘ روش کمار‘ پرنائے رائے اور ان کی اہلیہ رادھیکا رائے کو آزاد اور حقیقت پسندانہ صحافت کے پیکر کے طور پر دیکھا جاتا تھا لیکن اب جبکہ این ڈی ٹی وی کو اڈانی گروپ کی جانب سے حاصل کرلیا گیا ہے ایسے میں کہا جا رہاہے کہ آزاد ٹیلی ویژن صحافت ختم ہوچکی ہے۔قومی ذرائع ابلاغ اداروں میں بیشتر ٹیلی ویژن چیانلس کی جانب سے جو پروپگنڈہ چلایا جاتا رہا ہے اس کے رد اور حقائق کو پیش کرنے کے لئے اب تک ایک چیانل تھا جو کہ صبرآزما جدوجہد کے ساتھ اب تک عوام کو حقائق سے واقف کرواتا رہا لیکن اب جبکہ چیانل قائم کرنے والے دو اہم صحافیوں کی جانب سے گروپ سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے تو سوشل میڈیا پر کئی طرح کے تبصرے کئے جانے لگے ہیں علاوہ ازیں این ڈی ٹی وی ایپ کے کئی صارفین نے اپنے موبائیل سے این ڈی ٹی ایپ کو بھی ڈیلیٹ کرنے کے اقدامات کئے ہیں ۔بعض سوشل میڈیا صارفین نے مختلف طریقوں سے این ڈی ٹی وی کے لوگو بنانے کے علاوہ اس پر ہار چڑھاتے ہوئے تصاویر اپ لوڈ کی۔ ملک کے آزاد صحافتی نظام میں این ڈی ٹی وی کو کلیدی اہمیت حاصل رہی اور اڈانی کی جانب سے این ڈی ٹی وی کے شیئر خریدلیے جانے کے بعد اس طرح کی صورتحال سے خدشات پائے جانے لگے تھے ۔م