حیدرآباد۔/31 جولائی، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس اقلیتوں کی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے مگر مچھ کے آنسو بہارہی ہے۔ تصرف بل پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے بی آر ایس رکن کے ٹی آر نے میناریٹیز ڈیکلریشن کا حوالہ دیا جس میں اندرون چھ ماہ ذات پات پر مبنی مردم شماری کا وعدہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امام، موذن اور پاسٹرس کی تنخواہیں 10 ہزار روپئے کرنے کے علاوہ اقلیتوں کیلئے علحدہ سب پلان اور 4000 کروڑ بجٹ کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ریاستی کابینہ میں اقلیتی وزیر نہیں ہے۔ کانگریس کی یہ پہلی وزارت ہے جس میں مسلمان وزیر شامل نہیں۔ اس پر چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس حکومت کی پہلی میعاد میں خاتون وزیر کو شامل نہیں کیا گیا تھا اب وہی بی آر ایس پارٹی کابینہ میں اقلیتوں کی نمائندگی پر مگرمچھ کے آنسو بہارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام بی آر ایس کے الزامات پر بھروسہ نہیں کریں گے۔1